پاکستان علاقائی امن پریقین رکھتاہے :وسائل لوگوں کی ترقی پرخرچ ہونے چاہیے,وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی

ملتان ۔24دسمبر(اے پی پی)وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ پاکستان علاقائی امن پریقین رکھتاہے تاکہ وسائل لوگوںکی ترقی اورخوشحالی کیلئے استعمال کئے جاسکیں۔ان خیالات کااظہار انہوںنے اتوارکی شب ڈپٹی اٹارنی جنرل مہرضمیر حسین سنڈھل کی جانب سے ہیڈمحمدوالاکے قریب اپنے اعزازمیں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔وزیرخارجہ نے کہاکہ میں افغانستان ،ایران ،چین اورروس کے دورے کی وجہ سے اپنا دورہ ملتان مختصرکررہاہوں ۔انہوںنے کہاکہ علاقے میں ترقی …

ملتان ۔24دسمبر(اے پی پی)وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی نے کہاہے کہ پاکستان علاقائی امن پریقین رکھتاہے تاکہ وسائل لوگوںکی ترقی اورخوشحالی کیلئے استعمال کئے جاسکیں۔ان خیالات کااظہار انہوںنے اتوارکی شب ڈپٹی اٹارنی جنرل مہرضمیر حسین سنڈھل کی جانب سے ہیڈمحمدوالاکے قریب اپنے اعزازمیں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔وزیرخارجہ نے کہاکہ میں افغانستان ،ایران ،چین اورروس کے دورے کی وجہ سے اپنا دورہ ملتان مختصرکررہاہوں ۔انہوںنے کہاکہ علاقے میں ترقی کی رفتار تیز کرنے کیلئے امن کاقیام بہت ضروری ہے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتاہے ۔پاکستان مشرقی اورمغربی سرحدوں پرامن چاہتاہے ۔انہوںنے کہاکہ جب پی ٹی آئی نے اقتدارسنبھالا توپاکستان کے سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات میں پہلے جیسی گرمجوشی نہیں تھی ۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی بہت کم تھے اورمعیشت کے میدان میں بھی وہ دبائو کاشکارتھا۔انہوںنے کہاکہ ہم نے سعودی عرب کے 2دورے کئے اوراب سعودی حکومت ہمیں 3ارب ڈالر اور3سال کیلئے تیل دینے پررضامندہوگئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری حکومت نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی تعلقات بہترکئے ایک ایسے وقت میں کہ جب وہ بھارت کے مختلف منصوبوں میں 20ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کامنصوبہ بنارہاتھا۔ وزیرخارجہ نے مزیدکہاکہ اب ہمارے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بہتر تعلقات ہیںاور وہ اب پاکستان میں سرمایہ کاری پررضامندہیں اورانہوںنے 3ارب ڈالر کاتیل دینے پربھی رضامندی ظاہر کی ہے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ علاقائی مسائل بات چیت کے ذریعے زیادہ بہتراندازمیںحل کئے جاسکتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ امریکہ گزشتہ 18برس سے افغانستان میں تھا،پاکستان کااس دوران یہ موقف رہاکہ افغان مسئلہ جنگ کے ذریعے حل نہیںکیاجاسکتا،اب امریکہ نے ہمارے موقف کی تائید کردی ہے اوروہ ابوظہبی میںطالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پرآگیاہے۔وزیرخارجہ نے مزیدکہاکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت زیادہ متاثرہوا۔ ہمارے85ہزارلوگوںنے اس جنگ میں اپنی جانوں کی قربانیاںدیں۔ہماری مساجد ،مزارات،بازاروں حتیٰ کہ سکولوںکو بھی نشانہ بنایاگیاجن میں اے پی ایس پشاور بھی شامل ہے ۔وزیرخارجہ نے کہاکہ چین نے سی پیک کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری کی ہے یہ اربوں ڈالرکامیگاپراجیکٹ ہے۔پاکستان نے چین سے درخواست کی ہے کہ وہ اقتصادی زونز کوترجیح دے تاکہ روز گارکے نئے مواقع میسرآسکیں۔انہوںنے کہاکہ گوادرپورٹ کے قریب دنیاکی سب سے بڑی آئل ریفائنری تعمیر ہورہی ہے جس کے نتیجے میں روزگارکے بڑے مواقع میسرآئیں گے ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پرلاناچاہتاتھااورخیر سگالی کے طور پرہم نے کرتارپورراہداری کھول دی ۔انہوںنے کہاکہ سکھ برادری کرتارپورکو مذہبی طوپربہت اہمیت دیتی ہے جہاں بابا گرونانک نے اپنی زندگی کے آخری 18برس گزارے ۔ انہوںنے کہاکہ سکھوںکایہ 70سال پرانامطالبہ تھاجوپی ٹی آئی کی حکومت کے دورمیںتسلیم کیاگیا۔انہوںنے کہاکہ کرتارپورسرحدکوکھولنا موجودہ حکومت کی بڑی سفارتی کامیابی ہے اورآنے والے برسوں میں قوم اس کے اثرات دیکھے گی،اس اقدام سے دنیا بھرمیںسکھوں کے دل جیت لئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان ایک امن پسندملک ہے اورہم چاہتے ہیں کہ وسائل تعلیم صحت ،پینے کے صاف پانی اورٹرانسپورٹ پرخرچ کئے جائیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان روس کے ساتھ بھی بہتر تعلقات چاہتاہے ہم یورپی یونین کے 20ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات بہتربنانے کیلئے کام کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ملک میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری شروع ہوگی ۔اس سلسلے میں تمام پیپرورک مکمل ہوچکاہے اوراقتصادی تعاون کے معاہدوں پرجلد دستخط ہوں گے۔ وزیرخارجہ نے کہاکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کااصولی فیصلہ کرلیاہے۔اس کے لئے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے۔حکومت نے اس ترمیم کیلئے اپوزیشن پارٹیوں سے رابطہ کیاہے۔جنوبی پنجاب کوالگ صوبہ بنانے کیلئے تمام جماعتوں کوہمارا ساتھ دیناچاہیے۔اس کے نتیجے میں اس خطے کے لوگوںکو وہ سہولتیںمیسر آئیںگی جن سے وہ محروم ہیں ۔انہوںنے کہاکہ جنوبی پنجاب کاالگ سیکٹریٹ ،الگ چیف سیکرٹری اورالگ آئی جی ہوگا۔جس کے نتیجے میں یہاں کے لوگوں کے مسائل یہیں حل ہوں گے ۔انہوںنے کہاکہ یہاں الگ ہائیکورٹ ہوگی جس کے نتیجے میںیہاں کے وکلاء کوترقی کے مواقع ملیںگے ۔انہوںنے کہاکہ قومی فنانس کمیشن میں بھی صوبے کاالگ حصہ ہوگا۔جس کے بعد یہاںکے ترقیاتی منصوبوں کیلئے زیادہ وسائل ملیںگے۔سینٹ میںبھی جنوبی پنجاب کے لئے برابرسیٹیںہوں گی ۔انہوںنے کہاکہ حکومت نے جنوبی پنجاب کاالگ سیکرٹریٹ بنانے کافیصلہ کرلیاہے۔