اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ بچوں کے حقوق اور تحفظ کی نہ صرف ریاست بلکہ ان کے خاندان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ اور حقوق کا خیال رکھیں، ہمارے ملک میں تمام قوانین موجود ہیں تاہم ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے، وزارت انسانی حقوق زیب الرٹ بل لا رہی …
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا سیمینار سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ بچوں کے حقوق اور تحفظ کی نہ صرف ریاست بلکہ ان کے خاندان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ اور حقوق کا خیال رکھیں، ہمارے ملک میں تمام قوانین موجود ہیں تاہم ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے، وزارت انسانی حقوق زیب الرٹ بل لا رہی ہے جس کا مقصد بچوں سے ہونے والی زیادتیوں کا نہ صرف تدارک کرنا ہے بلکہ ان کو پیشگی روکنا بھی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو سپارک سوسائٹی کے تعاون سے بچوں کے حقوق سے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف، اسلامی نظریاتی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر حافظ اکرام الحق، ڈاکٹر ظفر الحق اقبال، سینئر صحافی مطیع اﷲ جان، سپارک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شجاع چیمہ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق پی ٹی وی پر بچوں کے حوالہ سے بھرپور مہم شروع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماں باپ نے بچوں کو پڑھانا اور سکھانا ہے، یہ نہ صرف حکومت کی ذمہ داری ہے بلکہ ان کے خاندان کے اولین فرائض میں شامل ہے کہ وہ بچوں کے حقوق کا خصوصی خیال رکھیں اور اپنے بچوں کی حفاظت بھی خود کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں تمام قوانین موجود ہیں تاہم ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بچوں کو سکولوں میں مارنے کے حوالہ سے قانون بنا دیا ہے تاہم اس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور ان کا وراثت میں کیا حصہ ہے، چائلڈ رائٹس کے بارے میں بھی آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آئین میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی 16 سال تک پڑھائی لازمی ہونی چاہئے اور 14 سال سے کم عمر بچے کو جبری مشقت نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے بارے میں قوانین موجود ہیں کہ کم عمر بچوں سے جبری مشقت نہیں لی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے حوالہ سے بہت سے قوانین پاس ہو چکے ہیں تاہم اس پر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو افراد لاپتہ ہیں ان کو تلاش کرنے میں حکومت بھرپور کردار ادا کرے گی، تمام سٹیک ہولڈرز اور ہیومن رائٹس کے تعاون سے اس معاملہ کو ختم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو حقوق دینا ہیومن رائٹس، ہیومن ڈویلپمنٹ اور حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق زیب الرٹ بل لا رہی ہے جس کا مقصد بچوں سے ہونے والی زیادتیوں کا نہ صرف تدارک کرنا ہے بلکہ ان کو پیشگی روکنا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ پر عملدرآمد کی طرف سے بھی پیشرفت کی جا رہی ہے، سالہال سال سے جو چیزیں نظر انداز کیں ان کو ٹھیک کرنا اتنا آسان نہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں قانون سازی کی کوئی کمی نہیں، مسئلہ قوانین پر عملدرآمد کا ہے۔ سیمینار سے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف، اسلامی نظریاتی کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر حافظ اکرام الحق، ڈاکٹر ظفر الحق اقبال، سینئر صحافی مطیع اﷲ جان اور سپارک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شجاع چیمہ نے بھی خطاب کیا۔








