عبدالرزاق دائود کا فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک تقریب سے خطاب

فیصل آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) پاکستان کی جامع پائیدار اور طویل المدتی ترقی کیلئے صنعتوں کا فروغ ناگزیر ہے اور اس سلسلہ میں نئی صنعتی پالیسی کا اعلان سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد بہت جلد کر دیا جائے گا۔ یہ بات وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت وتجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک تقریب سے خطاب …

فیصل آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) پاکستان کی جامع پائیدار اور طویل المدتی ترقی کیلئے صنعتوں کا فروغ ناگزیر ہے اور اس سلسلہ میں نئی صنعتی پالیسی کا اعلان سٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد بہت جلد کر دیا جائے گا۔ یہ بات وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت وتجارت و سرمایہ کاری عبدالرزاق دائود نے آج فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی برآمدات کا 25 سے 20ارب ڈالر تک آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ نہ صرف صنعتی پیداوار میں کمی ہوئی ہے بلکہ پاکستانی برآمدات کی عالمی منڈیوں تک رسائی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی صنعتی پالیسی کے تحت ایک بنیادی ڈھانچے کا تعین کیا جائے گا جس کے تحت درآمدات کے متبادل کی مقامی طور پر تیاری اور ٹیکسٹائل کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں کو بھی ترقی دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں انجینئرنگ ، کیمیکل ، آئی ٹی اور زراعت بھی شامل ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ ہر چیز کو درآمد کرنے کی اجازت دینے کی پالیسی سے پاکستان میں مصنوعات تیار کرنے والے اداروں کو بھی نقصان پہنچا جس کی وجہ سے جہاں صنعتی پیداوار میں کمی ہوئی وہاں بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا ۔ انہوں نے سابقہ ادوار میں ہونے والے فری ٹریڈ ایگریمنٹس کو بھی پاکستان کیلئے نقصان دہ قرار دیا اور بتایا کہ ان معاہدوں سے چین، ملائیشیا ، انڈونیشیا اور ترکی کی برآمدات میں تو اضافہ ہوا لیکن پاکستان خسارے میں رہا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی کوشش ہے کہ کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ صنعتوں کی پیداواری لاگت کو بھی ہر ممکن حد تک کم کیا جائے ۔ اس سلسلہ میں صنعتکاروں کو اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ چین سے ایف ٹی اے پر نظر ثانی کی بات چیت جاری ہے ۔ اگرچہ یہ کام بہت مشکل ہے تاہم توقع ہے کہ اسے آئندہ سال جون تک مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا نے 20اشیاء پر ڈیوٹی فری رسائی دے دی ہے۔ جس میں ڈینم بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان برآمد کنندگان کو اس سلسلہ میں بھر پور فائدہ اٹھانے کیلئے فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ملائیشیا کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ خود یا سیکرٹری کامرس یونس ڈھاگا جنوری میں ملائیشیا جائیں گے تاکہ ایف ٹی اے پر بات چیت ہو سکے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان اور ملائیشیا کی دو طرفہ تجارت ملائیشیا کے حق میں ہے ہم صرف 150ملین ڈالر جبکہ ملائیشیا 1ارب ڈالر کی برآمدات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان سے مارکیٹ رسائی کیلئے بھی بات چیت ہو رہی ہے۔ جس کے نتیجہ میں جاپان کیلئے پاکستانی برآمدات کو بڑھانے کی راہ ہموار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس پورے نظام کو از سر نو تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بزنس کمیونٹی سے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی سفارشات انہیں جلد از جلد بھیج دیں تاکہ آئندہ سال جنوری میں نئے ضمنی بجٹ میں ان کو شامل کیا جاسکے کہ اس سلسلہ میں پالیسی کو ٹھوس بنیادوں پر تشکیل دینا چاہیے تاکہ ایک دفعہ منظوری کے بعد اس میں مزید یا دوبارہ ترمیم کی ضرورت پیش نہ آئے بیمار صنعتی یونٹوں کے حوالے سے سٹیٹ بینک کے گورنر سے بات چیت ہوئی ہے جبکہ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے ایک کمیٹی پہلے ہی قائم کی جا چکی ہے آئندہ ہفتے اس کمیٹی کی ایک اور میٹنگ ہو گی تاہم اس سلسلہ میں مزید کوششوں کی ضرورت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی میں بھی مختلف قسم کے لوگ ہیں جو لوگ پہلی دفعہ بینک لون کو ری شیڈول کر وا رہے ہیں ان پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے جبکہ دوسری مرتبہ ری شیڈولنگ کروانے والے بھی کسی حد تک ہمدردی کے مستحق ہیں تاہم بار بار ری شیڈولنگ کروانے والوں کا کیس کمزور ہے اور وہ اخلاقی طور پر ان کو سپورٹ نہیں کریں گے۔ انہوں نے علاقائی تجارت بڑھانے برآمد کنندگان کے ری فنڈ کلیموں اور جی آئی ڈی سی سمیت دیگر مسئلوں کو بھی حل کرانے کا یقین دلایا اور بتایا کہ جنوری کے آخر تک برآمد کنندگان کو قابل ضمانت بانڈ مل جائیں گے تاہم سٹیٹ بینک کو ایسے اقدامات کرنا ہوں گے کہ پرانے کلیم ختم ہونے کے بعد نئے کلیم جمع نہ ہو سکیں۔ انہوں نے فیصل آباد میں ایکسپو سنٹر کے قیام کا بھی یقین دلایا اور کہا کہ وہ اس سلسلہ میں ای ڈی ایف سے فنڈ کے اجراء کی بھر پور حمایت کریں گے۔ سائزنگ ، پاورلومز اور دیگر شعبوں کے بارے میں مسائل کے حوالے سے انہوں نے متعلقہ افراد کو مکمل تیاری کے ساتھ اسلام آباد آنے کی دعوت دی تاکہ ان کے مسائل کو بھی حل کیا جا سکے۔ اس سے قبل فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر سید ضیاء علمدار حسین نے بتایا کہ یہ ادارہ گزشتہ 44سالوں سے بزنس کمیونٹی کے مفادات کی نگرانی کر رہا ہے اس وقت اس کے ممبروں کی تعداد 7ہزار ہے جن میں ٹیکسٹائل کے علاوہ دیگر شعبے رکھنے والے صنعتکار اور تاجر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کاپہلا شہر ہے جس کے تاجروں نے ویلیو ایڈیشن کی اہمیت کو سمجھا اور سب سے پہلے اس پر کام شروع کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے ایشیاء کے سب سے بڑے جرابین بنانے والے ادارے انٹر لوپ اور ملک کے جدید ترین گارمنٹس یونٹ مسعود ٹیکسٹائل کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ دیگر شعبوں میں اقبال رائس بھی فیصل آباد چیمبر کی ممبر ہے جبکہ لائٹ انجینئرنگ کے شعبے میں ہمارے ممبران گرانقدر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ ایف سی سی آئی کے ایگزٹو ممبران نے اپنے مسائل بیان کیے اور میاں جاوید اقبال نے وفاقی مشیر سے فیصل آباد میں LUMSکی طرح کا ادارہ قائم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ بعد میں انہوں نے عبدالرزاق دائود کو فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی اعزازی شیلڈ بھی پیش کی۔