احتساب عدالت نے منی ٹریل پیش نہ کرنے پر العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کو سات سال قید با مشقت کی سزا سُنادی

اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو منی ٹریل پیش نہ کرنے پر العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید با مشقت کی سزا سُنادی' 1.5ارب روپے اور 2.5ملین ڈالر جرمانہ' العزیزیہ اور ہل میٹل جائیدادیں بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم' 10سال کے لئے کسی بھی عوامی عہدے کیلئے نااہل قرار۔پیر کو احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک …

اسلام آباد ۔ 24 دسمبر (اے پی پی) احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو منی ٹریل پیش نہ کرنے پر العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید با مشقت کی سزا سُنادی’ 1.5ارب روپے اور 2.5ملین ڈالر جرمانہ’ العزیزیہ اور ہل میٹل جائیدادیں بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم’ 10سال کے لئے کسی بھی عوامی عہدے کیلئے نااہل قرار۔پیر کو احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ العزیزیہ ریفرنس میں کافی ٹھوس ثبوت موجود ہیں اورمحمد نواز شریف منی ٹریل نہیں دے سکے، لہٰذا انہیں 7 سال قید بامشقت کی سزا اور 1.5 ارب روپے اور 2.5ملین ڈالر جرمانے کیا گیا۔عدالت نے العزیزیہ اور ہل میٹل جائیدادیں بحق سرکار ضبط کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔اس موقع پر سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف بھی عدالتی فیصلہ سننے کے لئے عدالت میں پیش ہوئے ۔مختصر فیصلے کے بعد نیب حکام نے محمد نواز شریف کو حراست میں لے لیا۔محمد نواز شریف کو العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس نمبر19 میں نیب آرڈیننس 1999کی سیکشن 19(5) کی سب سیکشن 5کے تحت7سال قید جبکہ 2کروڑ50لاکھ ڈالراور ڈیڑھ ارب روپے جرمانہ کے علاوہ10سال کیلئے کسی بھی سرکاری یا عوامی عہدہ اور بنک قرض لینے پرپابندی کی سزا کاحکم سنا دیاجبکہ العزیزیہ ریفرنس میں ہل میٹل کمپنی بحق سرکارضبط کی جائے گی، مذکورہ ریفرنس میں شریک ملزمان محمد نوازشریف کے بیٹوں حسن نواز اور حسین نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ فلیگ شپ ریفرنس میں کیس نہیں بنتا اس لیے محمدنواز شریف کو بری کیا جاتا ہے۔عدالت نے 19دسمبرکو فیصلہ محفوظ کیاتھا جو پیر کو سنایاگیا۔اس موقع پرحمزہ شہباز،راجہ ظفرالحق،چوہدری تنویز،ڈاکٹرطارق فضل چوہدری،مریم اورنگزیب،ڈاکٹر آصف کرمانی، جاویدمرتضی عباسی، پرویز رشید،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، رانا تنویر، راجا ظفر الحق، مشاہد اللہ خان ،مشاہد حسین سیداور خرم دستگیر سمیت کارکنوں کی کثیر تعداد بھی عدالت کے اندراور باہر موجود تھی۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے۔ احتساب عدالت کے اطراف ایک ہزار پولیس اہلکار تعینات تھے جبکہ کمرہ عدالت میں محمدنواز شریف کو کلوز پروٹیکشن یونٹ سیکیورٹی بھی فراہم کی گئی۔ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے رینجرز بھی موجود رہی جبکہ بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکاروں نے عدالت کے اطراف چیکنگ بھی کی۔یادرہے کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017ء کو سنائے گئے پاناما کیس کے فیصلے کے نتیجے میں اس وقت کے وزیراعظم محمد نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دیدیا گیا تھا جبکہ عدالت عظمیٰ نے نیب کو تحقیقات کا حکم دیا۔8 ستمبر 2017ء کو نیب نے محمد نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف العزیزیہ سٹیل ملز، فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور ایون فیلڈ ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کئے،احتساب عدالت ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ پہلے ہی سنا چکی ہے جس میں محمدنواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی جسے بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کر دیا تھا۔ دوسری جانب 19 اکتوبر2017ء کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میںمحمد نواز شریف پر فرد جرم عائد ہوئی جبکہ 20 اکتوبر2017ء کو احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میںمحمد نواز شریف پر فرد جرم عائد کی اور حسن نواز اور حسین نواز کو مفرور ملزمان قرار دیا گیا۔احتساب عدالت نمبر ایک اور دو میں محمدنواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز کی مجموعی طور پر 183 سماعتیں ہوئیں، جن میں سے العزیزیہ ریفرنس میں 22 اور فلیگ شپ ریفرنس میں 16 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔سابق وزیراعظم مجموعی طور پر 130 بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، وہ 70 بار احتساب عدالت نمبر 1 کے جج محمد بشیر اور 60 بار احتساب عدالت نمبر 2 کے جج محمدارشد ملک کے روبرو پیش ہوئے۔احتساب عدالت نے مختلف اوقات میں محمدنواز شریف کو 49 سماعتوں پر حاضری سے استثنیٰ دیا، جج محمد بشیر نے 29 جبکہ جج محمدارشد ملک نے محمد نواز شریف کو 20 سماعتوں پر حاضری سے استثنیٰ دیا۔احتساب عدالت نمبر ایک میں 70 میں سے 65 پیشیوں پر مریم نواز محمد نواز شریف کے ساتھ تھیں۔ایون فیلڈ میں سزا کے بعد محمدنواز شریف کو 15 بار اڈیالہ جیل سے لا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔ بعد ازاں احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو منی ٹریل پیش نہ کرنے پر العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید کی سزا کا حکم سنا نے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے، 2001ء میں اے ایس سی ایل کے قیام کے وقت اس کی کم سے کم مالیت چھ ارب ڈالر تھی جو کہ مذکورہ ملزم کے ذرائع آمدن سے بہت زیادہ ہے، تفصیلی فیصلہ 131صفحات پر مشتمل ہے۔ تفصیلی فیصلہ احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے تحریر کیا ہے۔ تفصیلی فیصلے کے مطابق سابق وزیراعظم محمد نواز شریف منی ٹریل دینے میں ناکام رہے ہیں۔ ملزم نے اپنے دفاع میں کوئی ایک بھی شہادت پیش نہیں کی جبکہ ان کے دونوں بیٹے حسین نواز اور حسن نواز بار بار طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں اس مقدمہ میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ، شہادتوں اور دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ ملزمان نے ایک دوسرے سے مل کر بدعنوانی کی۔ تفصیلی فیصلے کے مطابق اگر ملزم کسی سرکاری عہدے پرتعینات ہے تو اسے فوری طور پر یہ عہدہ چھوڑنا ہو گا اور ان کی نااہلی کا عرصہ دس سال ہو گا انہیں کسی صوبے یا سروس آف پاکستان یا بلدیاتی حکام یا کسی بھی سرکاری ادارے میں نمائندہ اور ممبر منتخب یا نامزد نہیں کیا جائے گا ملزم دس سال کے لئے حکومت کے زیر نگرانی کام کرنے والے بینکیوں یا مالی اداروں سے قرض حاصل نہیں کر سکے گا ۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہل میٹل میں ملزم کے تمام اثاثے و اراضی بحق سرکار ضبط کر لیے جائیں جس کیلئے سعودی عرب کی حکومت سے رابطہ کیاجائے گا تاکہ مذکورہ فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم کو جرم ثابت ہونے پر سات سال قید با مشقت، ڈیڑھ ارب روپے اور 25 ملین ڈالر جرمانے کی سزا دی گئی ہے ۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم میاں محمد نواز شریف کے خلاف اے ایس سی ایل اور ہل میٹل اور اس سے متعلقہ آمدنی کا حقیقی بینیفشل آنر ہونے کے الزامات درست ثابت ہوئے ہیں وہ اس مقدمے میں کوئی تسلی بخش اور قابل اعتبار جواب دینے میں ناکام رہے ہیں ملزم نے اپنے دفاع میں کوئی ایک بھی شہادت پیش نہیں کی۔تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے جان بوجھ کر تفیشی آفیسر کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا جب کہ اس کے دونوں ملزم بیٹے اشتہاری ہیں اس کا مقصد یہ تھا کہ اس معاملے پر سوالات کے جوابات دینے سے گریز کیا ۔ملزم نے منی ٹریل دستیاویزی ثبوت اور الزام کے خلاف کوئی مواد فراہم نہیں کیا ۔تحریری فیصلے کے مطابق ملزم آرٹیکل 117،119اور 129کے اصولوں پر پورا نہیں اترا کیونکہ یہ پراپرٹی اور اثاثے اس کے قبضہ میں ہیں اور بار ثبوت دینا ملزم کا کام ہے ۔ملزم کا حسن نواز اور حسین نواز سے قریبی رشتہ ہے اور ان کے مالی اور کاروباری مفاد ات مشترکہ ہیں ان تینوں کے درمیان مخاصمت کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے دونوں بیٹوں نے جے آئی ٹی کو دیئے گئے بیان میں یہ تاثر دیا کہ ان کا خاندان ایک دوسرے سے جڑا ہے۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم اے ایس سی ایل اور ایچ ایم ای کے قیام کے لئے فنڈز کے ذرائع سے متعلق اطمینان بخش جواب نہیں دے سکا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 2001 میں اے ایس سی ایل کے قیام کے وقت اس کی کم سے کم مالیت چھ ارب ڈالر تھی جو کہ مذکورہ ملزم کے ذرائع آمدن سے بہت زیادہ ہے۔ ملزمان نے ان اعداد و شمار سے انکار نہیں کیا ۔تحریر ی فیصلے کے مطابق مذکورہ ملزم کا بڑا بیٹا اور شریک ملزم ظاہری طور پر مذکورہ اثاثوں کا مالک تھا۔ محمد نواز شریف نے کافی عرصے تک ایچ ایم ای کے منافع سے 88فیصد سے زائد منافع وصول کیا، ملزم نے بھی اس سے نقد منافع کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ان ملزمان نے حسین نواز شریف نے ایچ ایم ای سے براہ راست 4.602 ملین روپے وصول کئے۔ 2010ء اور مئی 2017ء کے دوران ایک باپ کی جانب سے اپنے بیٹے کو بھیجے گئے تحفے مناسب نہیں ہیں بلکہ اپنے کاروبار سے باقاعدہ بنیادوں پر آمدن کے ذرائع کے طور پر بھیجے گئے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محمد نواز شریف کے اے ایس سی ایل میں ذاتی مفادات تھے جبکہ شریک ملزم حسین نواز شریف اس کا حقیقت میں بینیفیشل آنر نہیں تھا وہ اپنے والد کیلئے بے نامی دار کا کردار ادا رہا تھا اور اے ایس سی ایل میں اپنے باپ کے شیئرز رکھتا تھا۔ ملزمان نے اے ایس سی ایل کے قیام کیلئے ابتدائی رقم سے متعلق بھی کوئی اطمینان بخش ذرائع نہیں بتائے۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جی ایس ایم کی فروخت سے متعلق معاہدہ پر متحدہ عرب امارات کی وزارت انصاف کے جواب سے یہ دعویٰ جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ حماد بن جاسم الثانی نے جی ایس ایم کی نقد فروخت اور سرمایہ کاری سے متعلق ملزمان کے بیان کی تصدیق کیلئے کوئی شواہد نہیں بھیجے۔ ملزمان نے حماد بن جاسم الثانی کے دونوں خطوط عدالت میں پیش کئے تاہم اس حوالہ سے کوئی بینک ریکارڈ اور دستاویزی ثبوت پیش نہیں کئے۔