انقرہ ۔ 4 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی ترک سرمایہ کاری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاک۔ترک مثالی برادرانہ تعلقات کو فعال اقتصادی شراکت داری میں ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو یہاں ممتاز ترک کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ترکی کے خارجہ اقتصادی تعلقات بورڈ کی …
وزیراعظم عمران خان کی ممتاز ترک کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے ملاقات کے دوران گفتگو

مزید خبریں
انقرہ ۔ 4 جنوری (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی ترک سرمایہ کاری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاک۔ترک مثالی برادرانہ تعلقات کو فعال اقتصادی شراکت داری میں ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو یہاں ممتاز ترک کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ترکی کے خارجہ اقتصادی تعلقات بورڈ کی پاک۔ترک بزنس کونسل کے زیر اہتمام اجلاس میں تقریباً 20 سرکردہ سرمایہ کاروں نے شرکت کی جن کے متعدد منصوبے پاکستان میں جاری ہیں۔ وزیراعظم نے ترک سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ حکومت انہیں ہر ممکنہ سہولیات اور معاونت فراہم کرے گی۔ مذکورہ بورڈ کے صدر نیل اولپاک اور پاک۔ترک بزنس کونسل کے چیئرمین عطاءاﷲ یرلیکایا نے پاکستان میں ترک سرمایہ کاری کے بارے میں آگاہ کیا۔ ترک سی ای اوز نے اپنی کاروباری سرگرمیوں اور آئندہ کے منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان انسانی و معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے جہاں تعلیم یافتہ افرادی قوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرمایہ کاری دوست پالیسی ترک سرمایہ کاروں کیلئے مثالی مواقع پیش کرتی ہے، ملک میں کاروبار میں آسانی اور مزید بہتری کیلئے مربوط کوششیں کی جا رہی ہیں۔ لیماک کنسٹرکشن، کوکا کولا بیوریجز، ہیول سان، حیات کیمیا، ارشلک دولسر، ٹی جی ایل ٹرانسٹس گلوبل لاجسٹکس، زورلو انرجی، اورا کنسٹرکشن، بینک الحبیب اور تم ایکپ فارما کے سی ای اوز اور سینئر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندرپار پاکستانیز ذوالفقار بخاری، خارجہ سیکرٹری تہمینہ جنجوعہ، ترکی میں پاکستان کے سفیر محمد سائرس سجاد قاضی اور استنبول میں پاکستان کے قونصلر جنرل بلال خان پاشا بھی ملاقات میں موجود تھے۔








