، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا تقریب سے خطاب

لاہور۔5 جنوری(اے پی پی )چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عدلیہ کا کردار سب سے اہم ہے لیکن دکھ اور تکلیف سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں اسلامی ریاست جیسا انصاف کا ادارہ میسر نہیں،ہمیں انگریز نے جو قانون دیا وہ ہمارے مذہب ،کلچر اور معاشرتی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں، اگر اس قانون کو ہم …

لاہور۔5 جنوری(اے پی پی )چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عدلیہ کا کردار سب سے اہم ہے لیکن دکھ اور تکلیف سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں اسلامی ریاست جیسا انصاف کا ادارہ میسر نہیں،ہمیں انگریز نے جو قانون دیا وہ ہمارے مذہب ،کلچر اور معاشرتی ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ نہیں، اگر اس قانون کو ہم آہنگ کرنا ہے تو اسے اپ ڈیٹ کرنا لازمی ہے،اللہ تعالیٰ نے جو حقوق تفویض کئے اگر ان کا تحفظ نہیں ہو گا تو معاشرہ کبھی توازن قائم نہیں رکھ سکتا ،تعلیم کے ذریعے قومیں بنتی ہیں اور ترقی کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے ملک میں تعلیم کے شعبے کو بری طرح نظر انداز کیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کے سکولوں میں گیا تو وہاں پر پہلے سکول ہی نہیں اور جہاں سکول ہیں وہاں چار دیوار، واش روم، پینے کا پانی اور اساتذہ ہی نہیں ،کیا اسے نظام تعلیم کہتے ہیں؟ ۔ سکولوں میں وڈیروں کی بھینسیں، گائے بندھی ہوئی ہیں او ربھوسا بھرا ہوا ہے ۔ سوچتا رہتا ہوں کہ قومیں کیسے بنتی ہیں، کیسے ترقی یافتہ معاشرے بنتے ہیں، تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا،عالمی برادری میں با وقار قوم اور معاشرہ بننے کیلئے اخلاص کی ضرورت ہے، کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد تعلیم پر ہے، تعلیم کے شعبے کو نظرانداز کیے جانے پر مایوسی ہے۔اپیل ہے کہ تعلیم اور صحت کو پیسہ کمانے یا کاروبار کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔انہوںنے کہا کہ کسی ملک کی دیانتدار قیادت ہی اسے اوپر لےکر جاتی ہے ۔ کسی قوم کے پاس دیانتدار اور اپ رائٹ لیڈر ہے تو معاشرے اور ریاست کو زوال سے کمال کی جانب لے جاتا ہے ۔ دنیا میں بہترین ریاست واقعتا مدینہ کی ریاست تھی اس میں کیا کیا خوبی تھی کیا ہم میں بھی وہ خوبیاں ہیں ۔ ان کے قول و فعل میں تضاد نہیں تھا ، جو وہ اپنے لئے پسند کرتے تھے وہی دوسرے کےلئے پسند کرتے تھے جو دوسروں کی ذمہ داریاں تھیں سب سے پہلے اس کا اپنے اوپر اطلاق کرتے تھے ،کسی بھی ملک کی ترقی کا راز اس کی بہترین لیڈر شپ ہے جو با کردار ہو ۔ ایک سوال ہے میں جو خود سے پوچھتا ہوں کہ کسی نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ، مشاہدہ کیا ہے لیکن ہم رب تعالیٰ کی ذات کو مانتے ہیں اور اس کے بغیر ہمارے ایمان کی تکمیل نہیں ہو سکتی ۔ نبی کریم نے کہا کہ ایک اللہ تعالیٰ ہے اس کی ایک کتاب ہے ، ہم نے یہ بات کیوں مانی کیونکہ ان سے با کردار شخصیت دنیا میں نہیں آئی اورنبینے کہا کہ ایک اللہ تعالیٰ ہے ۔ انصاف کا بنیادی ڈھانچہ انسانی حقوق پر مشتمل ہے،کائنات میں دنیا ایک جزو ہے ورنہ یہ عام ساسیارہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا انعام ، کرم اور عطا ہے کہ یہاں زندگی ہے ،دین میں حقوق کی نشاندہی کر دی گئی ہے ، اس میں کیڑے مکوڑوں، چرند پرند ، جانوروں کے حقوق اورنباتات کے حقوق بتا دئیے گئے ہیں لیکن سب سے زیادہ انسان کے حقوق ہیں جوتفویض کئے گئے ہیں ۔ جو بنیادی انسانی حقوق تفویض کئے گئے ہیں ان کی حفاظت کے لئے ایک ادارہ جوڈیشری ہے لیکن بد قسمتی سے یہ ادارہ ناکام رہا ہے ،اللہ تعالیٰ نے جو بنیادی حقوق تفویض کئے ہیں اگر ان کی حفاظت نہیں تو معاشرے میں توازن قائم نہیں رہ سکتا ۔ ایسا نہیں کہ میں جارہا ہوں تو کہہ رہا ہوں لیکن ہمیشہ دکھ اور تکلیف سے یہ بات کہتا ہوں کہ ہمار ے ملک اسلامی ریاست کے معاشرے میں جس معیار کا انصاف ہونا چاہیے وہ نہیں ہے ۔ اسکی وجہ وہ قانون ہے جو انگریز نے تفویض کیا ہے اور اس کا ہمارے مذہب ، کلچر اور یہ ہمارے معاشرے کی ضروریات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتااور اسے اپ ڈیٹ کرنا لازم ہے ۔ جب کسی کو حقوق نہیں ملتے تو اس سے معاشرے میں اضطراب بڑھتا ہے جو معاشرے کے لئے نقصان دہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مقصد نیت اور دیاتندار ی ہے ،یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے کہ جوجہاں بیٹھا ہے چاہے وہ کاروباری شخص ہے ، ڈاکٹر ، وکیل ، جج یا مزدور ہے اسے جو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں انہیں ایمانداری سے سر انجام دے ۔ انہوں نے کہا کہ میں سمز میں گیا تو وہاں مجھے میڈلز کا گچھا پکڑایا گیا،ایک بچی کو پانچ گولڈ اور تین سلور میڈلز دینے تھے، وہ بھی عام بچیوں کی طرح تھی لیکن اس کا تعلیم کے ساتھ عشق تھا جس نے اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی۔ ہمیں بھی پاکستان سے عشق کرنا ہے ،محبت کرنی ہے ۔ جو ہمارا حق ہے ہم نے اس سے بڑھ کر نا ہے اور قوم کو دینا ہے ۔ ہمیں جو اوپر والے نے عنایت کیا ہے ہم نے اس میں سے دینا ہے کیا میرا یہ حق تھا کہ میں چیف جسٹس آف پاکستان بنوں ، یہاں جو ارب پتی ہیں بیشک ان کی محنت ہے لیکن یہ اوپر والے کی دین ہے ۔ اگر ہمارے پاس علم ہے تو اسے بانٹیں ، ملک سے وفاداری کریں دیکھیں پھر ترقی کی منزلیں کیسے طے ہوتی ہیں اگر ہم جنون کے ساتھ کریں گے تو ترقی کی منازل آسان تر ہو جائیں گی اور یہ حوصلے کی بات ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حقوق کی آزادی کے بغیر زندگی کچھ نہیں، ہماری زندگی کا اصل اور حقیقی مقصد مخلوق خدا کی خدمت ہونا چاہیے اور ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ باعزت قومیں اور معاشرے کس طرح تشکیل پاتی ہیں۔