اسلام آباد ۔ 15 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر قومی صحت راجہ عامر کیانی نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور آصف زرداری کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں، پنجاب میں گذشتہ 10 سالوں میں پانچ ٹریلین روپے کہاں خرچ کئے گئے، ملک بھر میں 60 فیصد عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے رواں ماہ صحت کارڈ کا اجراءکیا جا رہا ہے، ضمنی بجٹ …
وفاقی وزیر قومی صحت راجہ عامر کیانی کی پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 15 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر قومی صحت راجہ عامر کیانی نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور آصف زرداری کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں، پنجاب میں گذشتہ 10 سالوں میں پانچ ٹریلین روپے کہاں خرچ کئے گئے، ملک بھر میں 60 فیصد عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے رواں ماہ صحت کارڈ کا اجراءکیا جا رہا ہے، ضمنی بجٹ میں نئے ٹیکس نہیں لگائے جائیں گے بلکہ زراعت کو ریلیف اور چھوٹے کاروبار کیلئے آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ منگل کو پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کی 70 سالہ تاریخ میں صرف لابیاں بنی ہیں اور کوئی کام نہیں ہوا، ملک کی ترقی کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں، شہباز شریف اور آصف زرداری کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں، انہوں نے عدالتوں کا سامنا کرنا ہے، دونوں کی کرپشن کے حوالہ سے ہم نے اپنے طور پر بھی تحقیقات کرائی ہیں، دونوں شخصیات کرپشن میں ملوث ہیں اور دونوں کے خلاف ثبوت بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 10 سالوں میں خادم پنجاب نے 5 ٹریلین روپے منصوبوں پر خرچ کئے مگر زمین پر چند منصوبے ملیں گے باقی صرف فائلوں کی حد تک میں مکمل ہیں، یہ رقم سب کرپشن کی نذر ہوئی ہے، انہوں نے ملک کو لوٹا، احتساب کے عمل سے ضرور گزرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے نمائندے عوام اور پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں لیکن جب ماضی کے منصوبوں کی بات کی جائے تو شور و واویلا شروع ہو جاتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں علاقائی جماعتیں بن کر رہ گئی ہیں جبکہ آصف زرداری کی سیاست اور پارٹی سکڑ کر سندھ تک محدود رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ ملک کے 60 فیصد عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے حکومت قدم بڑھا رہی ہے، پہلے مرحلہ میں 60 لاکھ سے زائد لوگوں کو صحت کارڈ رواں ماہ جاری کئے جا رہے ہیں جس سے وہ اپنا علاج معالجہ کرا سکیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ضمنی بجٹ میں مزید ٹیکس نہیں لگائے جا رہے بلکہ زراعت سمیت چھوٹے کاروبار میں چھوٹ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی چیزوں پر ٹیکس لگایا جا رہا ہے جو عوام کے روزمرہ استعمال میں نہیں آتیں۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ڈالر کی قدر میں اضافہ کی وجہ سے ہوا ہے، جیسے ہی ڈالر کی قدر میں کمی آئے گی ادویات کی قیمتیں بھی کم ہوں گی۔








