سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعودکی اے پی پی سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 22 جنوری (اے پی پی) سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود خان نے منی لانڈرنگ کے انسداد اور دہشت گردی کیلئے فنانسنگ کی روک تھام (اے ایم ایل۔سی ایف ٹی رجیم) کے تحت تمام شراکت داروں بالخصوص نان بینکنگ پروفیشنل اداروں، وکلائ، اکاﺅنٹنٹس اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپئرز میں وسیع تر آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ”اے پی پی“ سے بات چیت کرتے ہوئے …

اسلام آباد ۔ 22 جنوری (اے پی پی) سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود خان نے منی لانڈرنگ کے انسداد اور دہشت گردی کیلئے فنانسنگ کی روک تھام (اے ایم ایل۔سی ایف ٹی رجیم) کے تحت تمام شراکت داروں بالخصوص نان بینکنگ پروفیشنل اداروں، وکلائ، اکاﺅنٹنٹس اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپئرز میں وسیع تر آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ”اے پی پی“ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات اسی صورت مثبت نتائج دے سکتے ہیں جب تمام متعلقہ شراکت داروں کو اعتماد میں لیا جائے اور وہ اپنی پیشہ وارانہ داریاں بخوبی انجام دیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بینک اکاﺅنٹس کیلئے بائیو میٹرک تصدیق کی شرط سے جعلی کھاتوں کا خاتمہ ہو سکے گا جبکہ منی لاندرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کیلئے مالیاتی نظام کا استعمال مشکل ہو جائے گا۔ حبیب بینک لمیٹڈ کے صدر محمد اورنگزیب کی جانب سے گذشتہ ہفتہ منی لانڈرنگ کے انسداد اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام کی مناسبت سے پہلی بین الاقوامی کانفرنس اور ورکشاپس کے انعقاد کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے منی لانڈرنگ و دہشت گردی کی فنانسنگ کے انسداد کی کوششوں کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔ ڈاکٹر وقار مسعود نے کہا کہ اس ایونٹ میں 200 مندوبین نے شرکت کی جن میں کمرشل بینکرز، ڈی ایف آئیز، انشورنس ایگزیکٹوز، اکاﺅنٹنٹس اور رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز شامل تھے۔ گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے کانفرنس کا افتتاح کیا اور سی ای اوز کے اعزاز میں دیئے گئے ناشتہ میں شرکت کی۔ اس موقع پر ایچ بی ایل کے صدر محمد اورنگزیب نے کہا کہ یہ کانفرنس انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام کے حوالہ سے خیالات کے تبادلہ کیلئے اہم فورم ثابت ہوئی ہے۔ کانفرنس میں اپنے وڈیو پیغام کے ذریعے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کیلئے فنانسنگ جیسے مسائل کسی بھی ملک کیلئے تشویش کا باعث ہیں جو حقیقی ترقی کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر پہلی انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے جو سرکاری و نجی شعبہ کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کانفرنس کی سفارشات پر غور کرے گی۔ گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ اس کانفرنس کا انعقاد بروقت اور اہم ہے۔ یہ نجی و سرکاری شراکت داری کی عمدہ مثال ہے جس کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے تاکہ درپیش مسائل کا بروقت اور مو¿ثر حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک ایسے اقدامات کی ہمیشہ حمایت کرتا ہے۔ افتتاحی سیشن میں وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، سابق نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر اور سابق وفاقی سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر عشرت حسین نے اپنے خطاب میں ملک سے منی لانڈرنگ کے انسداد اور دہشت گردی کیلئے فنانسنگ کی روک تھام کے حوالہ سے قائدانہ نظریہ پیش کیا اور کہا کہ مطلوبہ مقاصد کے حصول کیلئے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر سابق نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ کانفرنس کے مقاصد مالیاتی نظام، اقتصادی استحکام اور انسانی ترقی کیلئے اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بین الاقوامی سطح پر رائج بہترین طریقوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے وسیع تر مقصد کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ عالمی بینک، آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ جیسے اداروں کے ساتھ انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ کو روکنے کے نظام کی تیاری میں کام کرنے کا تجربہ رکھنے والے عالمی ماہر ٹام ہینسن نے کہا کہ متعلقہ اداروں کے مابین صرف مربوط اور تعاون پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے ہی مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ کانفرنس کے چار سیشنز ہوئے جن میں بینکنگ، انسداد منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی فنانسنگ کی روک تھام، سائبر کرائم پر قابو پانے کیلئے ٹیکنالوجی کے استعمال، فنانشل ٹیکنالوجی، تجارت پر مبنی منی لانڈرنگ، متعلقہ خطرات اور سرحد پار رقوم کی منتقلی جیسے عنوانوں کا احاطہ کیا گیا۔ اس موقع پر سٹیٹ بینک آف پاکستان، نیکٹا، ایف ایم یو، ایف آئی اے، ایف بی آر، وزارت خزانہ اور دفتر خارجہ کے حکام نے کانفرنس اور اس کے مختلف سیشنز میں شرکت کی۔ کانفرنس کے بعد انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کیلئے فنانسنگ کی روک تھام کی مناسبت سے مختلف موضوعات پر بھرپور ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا جن کا مقصد اے ایم ایل۔سی ایف ٹی رجیم پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ شراکت داروں کو پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا۔