وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار کی زیر صدارت زرعی سیکٹر کی ترقی سے متعلق ایک مشاورتی اجلاس

اسلام آباد ۔ 22 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اور شماریات ڈویژن مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ اگلے پانچ سالہ پلان میں زراعت کے شعبہ کی ترقی اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، زرعی پیداوار میں اضافہ اور ملک کی جی ڈی پی میں اس کا حصہ بڑھانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت …

اسلام آباد ۔ 22 جنوری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اور شماریات ڈویژن مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ اگلے پانچ سالہ پلان میں زراعت کے شعبہ کی ترقی اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی، زرعی پیداوار میں اضافہ اور ملک کی جی ڈی پی میں اس کا حصہ بڑھانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قلیل المدتی اور طویل المدتی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے یہ بات منگل کو اسلام آباد میں زرعی سیکٹر کی ترقی سے متعلق ایک مشاورتی اجلاس کی صدارت کے دوران کہی۔ وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی صاحبزادہ محبوب سلطان، وزیر امور کشمیر اور گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور، ترجمان وزیراعظم ندیم افضل چن، ایم این اے ابراہیم خان اور دونوں وزارتوں کے اعلی حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پچھلے پانچ سالہ پلان میں زراعت کے شعبہ کو نظر انداز کیا گیا اور پچھلے پانچ سالوں میں اس میں کوئی ترقی نہیں ہوئی اور تقریباً تمام اہداف مکمل نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت کے شعبہ کی ترقی اقتصادی ترقی کیلئے ایک بنیاد فراہم کرتی ہے اور موجودہ حکومت اس شعبہ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جس میں لائیو سٹاک اور فشریز کی بہتری بھی شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پانی کا مو¿ثر استعمال، بہتر آبپاشی و زراعت کے طریقوں کو اپنانے سے بڑی فصلیں جیسے کہ کپاس، گندم، گنا اور چاول کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبوں کو بہتر بنا کر ملک کی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ خسرو بختیار نے کہا کہ ماضی میں تحقیق و ترقی اور زراعت کے جدید طور طریقوں کو نظر انداز کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے خصوصی وسائل مختص کئے جائیں گے تاکہ زرعی شعبے کی ترقی ممکن ہو۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ آبپاشی کے نظام کی بہتری اور اور زرعی شعبے کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے پی ایس ڈی پی کا جائزہ لیا جائے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال نومبر میں وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں پاکستان اور چین کے مابین زرعی شعبہ کی ترقی، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تجارتی سہولیات اور سائنسی اور تکنیکی تعاون کےلئے معاہدہ طے پایا۔ خسرو بختیار نے کہا کہ زراعت پر جوائنٹ ور کنگ گروپ کی پہلی میٹنگ اگلے مہینے منعقد کی جائے گی جس میں دونوں ممالک کے درمیان زرعی شعبے میں تعاون اور وسعت دینے پر حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ زراعت کے شعبہ کے فروغ سے ملک میں غربت کے خاتمہ میں مدد ملے گی کیونکہ ملک کی بڑی آبادی اس شعبہ سے منسلک ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیحات معاشرے کے کم ترقی یافتہ حصوں کی سماجی و اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا اور عوام کو ہر طرح سے ریلیف دینا ہے۔ اجلاس کے دوران فرٹیلائزر خاص طور پر یوریا پر جے آئی ڈی سی کے خاتمہ اور کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے پر غور کیا گیا۔