ایوان بالا کے اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان کا رپورٹ کے حوالے سے اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) سینیٹ نے بلیک لسٹ میں نام ڈالنے کے طریقہ کار اور فہرست کی قانونی حیثیت سے متعلق قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ کی منظوری دیدی جبکہ وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ کمیٹی کے تحفظات سامنے آ گئے ہیں، وزیر مملکت داخلہ شہریار آریدی کل ایوان میں آ کر اس حوالے سے جواب دے سکتے ہیں، …

اسلام آباد ۔ 28 جنوری (اے پی پی) سینیٹ نے بلیک لسٹ میں نام ڈالنے کے طریقہ کار اور فہرست کی قانونی حیثیت سے متعلق قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ کی منظوری دیدی جبکہ وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ کمیٹی کے تحفظات سامنے آ گئے ہیں، وزیر مملکت داخلہ شہریار آریدی کل ایوان میں آ کر اس حوالے سے جواب دے سکتے ہیں، ماضی میں لوگوں کو غیر قاونونی طور پر باہر بھیجا گیا، وائٹ کالر کرائم کرنے اور دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف اداروں کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں، ای سی ایل کا نظام اتنا مضبوط نہیں ہے، کوئی دہشت گردی یا جرم کر کے پاکستان سے نکلنے کی کوشش کرے تو اسے روکنے کا کیا طریقہ ہے، کیا کابینہ کی میٹنگ کا انتظار کیا جائے یا اسے روک لیا جائے، ہمیں مسئلے کا حل نکالنا ہو گا۔ پیر کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جاوید عباسی نے یہ رپورٹ ایوان میں پیش کی۔ رپورٹ کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلیک لسٹ کی کوئی اہمیت نہیں، اس کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر لوگوں کو بیرون ملک جانے سے روکا جاتا ہے، برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ شیری رحمٰن نے کہا کہ بلیک لسٹ اور ای سی ایل لسٹ کی بنیاد پر لوگوں کو غیر قانونی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے، ایک وزیر نے بتایا ہے کہ ایک اور بھی لسٹ ہے جس کی بنیاد پر لوگوں کو تمام قواعد کو بالائے طاق رکھ کر روک لیا جاتا ہے، بدترین آمریت میں بھی ایسا نہیں ہوتا تھا، اگر بلیک لسٹ کا کوئی قانونی جواز ہے تو بتایا جائے۔ سینیٹر ڈاکٹر سکندر میندھر نے کہا کہ بلیک لسٹ کے نام پر لوگوں کو روکے جانے کی مذمت کرتے ہیں، وزارت داخلہ بتائے اس لسٹ کا خاتمہ کب ہو گا۔ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ بلیک لسٹ بنیادی انسانی حقوق آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی ہے، آرٹیکل 8 کہتا ہے کہ کوئی قانون اگر آرٹیکل 15 کے خلاف ہو گا تو اس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہو گی، پاسپورٹ مینوئل کی کوئی کوئی حیثیت نہیں ہے، وہ پاسپورٹ ایکٹ کے تحت نہیں ہے، جب آرٹیکل 6 کا ملزم ملک سے جا رہا تھا تب بلیک لسٹ کہاں تھی؟ وزارت داخلہ سے پی این آئی ایل لسٹ کے بارے میں دریافت کیا جائے کہ یہ کیا ہے، اس میں نام کون ڈالتا ہے اور اس کا کیا قانونی جواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سینیٹر جاوید عباسی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ کمیٹی نے ایسا کام کیا جس سے عام پاکستانی کو فائدہ ہو گا۔ وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا کہ میں بھی کمیٹی کو اس کے کام پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، اگر کوئی غلط کام ہو رہا ہے تو یہ حکومت اس کی حمایت نہیں کرے گی، پتہ چلنا چاہیے کہ بلیک لسٹ کا طریق کار کب سے شروع ہوا ہے، کیا یہ کام 15 دن پہلے شروع ہوا ہے یا برسوں سے ہو رہا ہے، کمیٹی کی رپورٹ میں قانون کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کے تحت یہ لسٹ کام کر رہی ہے، اس وقت پیپلزپارٹی کی حکومت تھی جب پاسپورٹ ایکٹ میں ایسا ابہام رکھا گیا جس کی بنیاد پر بلیک لسٹ بنی، اگر کسی وزیر نے کسی خفیہ لسٹ کے بارے میں بتایا ہے تو اس کا نام سامنے لایا جائے، میں کسی فہرست کا دفاع نہیں کر رہا، کمیٹی کی رپورٹ میں خامیاں ہیں، ان کو دور کر لیا جائے تو بہتر ہے، سارا الزام ہماری حکومت کو نہ دیا جائے، پس منظر میں بہت سی چیزیں ہیں۔ سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ میرا خیال نہیںتھا کہ وفاقی وزیر اس فہرست کا دفاع کریں گے، کمیٹی میں کسی ادارے نے بلیک لسٹ کا دفاع نہیں کیا، نہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ بلیک لسٹ کب بنی، کبھی کہا گیا 1957ء سے ہے، کبھی کہا گیا 1960ء میں بنی اور کبھی کہا کہ ابھی یہ فہرست معرض وجود میں آئی، 1974ء کے ایکٹ میں کوئی ایسی چیز نہیں، کمیٹی میں پاسپورٹ مینوئل 1957ء کو بلیک لسٹ کی بنیاد بتایا گیا، پی این آئی ایل نامی کوئی لسٹ ہے یا نہیں اس ایوان کو کل وزارت داخلہ بتا دے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی اور قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے بہترین کام کیا ہے، وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے دبنگ انداز میں بات کی ہے، بلیک لسٹ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، کوئی ادارہ اس فہرست کی ذمہ داری نہیں لے رہا، پی این آئی ایل، پرویژنل نیشنل آئیڈئنٹی فیکیشن لسٹ کا مخفف ہے، اس معاملے کا جائزہ لینے کیلئے کمیٹی بنائی جائے۔ سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی میں پی این آئی ایل لسٹ کا اعتراف کیا ہے، حکومت اس بارے میں ہم سے پوچھنے کی بجائے اپنے اداروں سے پوچھے۔ وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ ایک تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ کوئی ایسا معاملہ ہے جو ابھی اس حکومت کے دور میں ہوا ہے، ڈی جی ایف آئی اے کا اعتراف ریکارڈ پر نہیں ہے، کمیٹی پوری تحقیقات کرے۔ سینیٹر میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ معاملہ حکومت یا اپوزیشن کے درمیان نہیں ہے، کمیٹی میں سب ارکان نے مل کر کام کیا ہے۔ ہمیں ضروری قانون سازی کرنی چاہیے، اس معاملے پر کمیٹی بننی چاہیے جس میں ایجنسیوں کا نکتہ نظر بھی آنا چاہیے۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ کمیٹی نے یہ نہیں کہا کہ موجودہ حکومت نے یہ کام کیا ہے، پچھلی حکومتوں میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا، بلیک لسٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہ ایک غیر قانونی عمل تھا جسے اب ختم سمجھا جائے، اگر ای سی ایل کے علاوہ کوئی فہرست ہے تو وہ غیر قانونی ہے۔ سینیٹر اعظم سواتی نے کہا کہ کیا کمیٹی نے کوئی فہرست منگوا کر چیک کی ہے کہ اس میں کس کس کے نام ہیں۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ اگر کسی فہرست کی بنیاد پر کسی محنت کش کو بیرون ملک جانے سے روکا گیا تو میں اس کی مذمت کرتا ہوں، دہشت گردی کے علاوہ وائٹ کالر کرائم کرنے والوں کے نام بھی بلیک لسٹ میں ڈالے جاتے ہیں، فروری 2018ء میں بلیک لسٹ میں 16 نام تھے یہ نام کس کے تھے اور کیا ہم نے ڈالے تھے، کیا تب ہماری حکومت تھی۔ سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے کہا کہ کمیٹی کی طرف سے کہا گیا ہے کہ دس دن میں وزارت داخلہ جواب دے، یہ غیر قانونی ہے، کمیٹی کو ایسا اختیار نہیں ہے۔ سینیٹر میر کبیر شاہی نے کہا کہ لوگوں کو غیرقانونی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، کمیٹی بنائی جائے جو اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لے۔ وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ کو سراہتا ہوں، کمیٹی کے تحفظات سامنے آ گئے ہیں، وزیر مملکت داخلہ شہریار آریدی کل ایوان میں آ کر اس حوالے سے جواب دے سکتے ہیں، آرٹیکل 15 اس حوالے سے متعلقہ نہیں ہے، پاکستان کے گمنام سپاہی پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، ماضی میں کئی مثالیں ہیں کہ لوگوں کو غیر قاونونی طور پر باہر بھیجا گیا، عافیہ صدیقی، ایمل کانسی، رمزی یوسف کس کے دور میں باہر بھیجے گئے، ای سی ایل کے علاوہ میں کسی لسٹ کا دفاع نہیں کر رہا لیکن را، این ڈی ایس، بلیک واٹر کیا کچھ کر رہی ہیں، ہزاروں لوگ کیسے ملک میں غیر قانونی آئے اور گئے، ہندوستان سے لوگ صنعتوں میں آئے، وائٹ کالر کرائم کرنے اور دہشت گردی کرنے والوں کے خلاف اداروں کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں، ای سی ایل کا نظام اتنا مضبوط نہیں ہے، ہمیں مسئلے کا حل نکالنا ہو گا، کوئی دہشت گردی یا جرم کر کے پاکستان سے نکلنے کی کوشش کرے تو اسے روکنے کا کیا طریقہ ہے، کیا کابینہ کی میٹنگ کا انتظار کیا جائے یا اسے روک لیا جائے، ہمیں اس بارے میں سوچنا ہو گا۔ چیئرمین نے کمیٹی کی رپورٹ پر ایوان کی رائے حاصل کی۔ ایوان بالا نے کمیٹی کی رپورٹ کی منظوری دیدی۔
atr-msf/mhs/zhm/zri 1723