اسلام آباد ۔ یکم فروری(اے پی پی) لوک ورثہ وزارت اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ اسلام آباد کے زیر اہتمام گذشتہ روز لوک بیٹھک سلسلہ میں ہندکو زبان اور ہندکو فوک لور کے موضوع پر پروگرام منعقد کیا گیا جس میں ہزارہ کے علاقہ سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی۔ اس پروگرام کی میزبان لوک ورثہ کی ڈپٹی ڈائریکٹر (ریسرچ اینڈ میڈیاسینٹر) …
لوک ورثہ وزارت اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ اسلام آباد کے زیر اہتمام لوک بیٹھک

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم فروری(اے پی پی) لوک ورثہ وزارت اطلاعات و نشریات و قومی ورثہ اسلام آباد کے زیر اہتمام گذشتہ روز لوک بیٹھک سلسلہ میں ہندکو زبان اور ہندکو فوک لور کے موضوع پر پروگرام منعقد کیا گیا جس میں ہزارہ کے علاقہ سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی۔ اس پروگرام کی میزبان لوک ورثہ کی ڈپٹی ڈائریکٹر (ریسرچ اینڈ میڈیاسینٹر) ڈاکٹرضُوبیہ سُلطانہ تھیں جبکہ ہندکو زبان کی تاریخ اور اس کے فوک لور پر روشنی ڈالنے والوں میں ریڈیو پاکستان سے گزشتہ 28 سال سے وابستہ بطور سکرپٹ رائٹر ہندکو زبان اور2006ء سے ریڈیو FM.99 پرمعروف پروگرام ہندگو رنگ کے میزبان کاشف ملک جو آج کل K2ٹی وی ایبٹ آبادسے بھی پروگرام کر رہے ہیں کے علاوہ معروف ہندکو شاعر،ادیب اور افسانہ نگار پروفیسر یحیٰ خالد جنہوں نے ایبٹ آباد کے تمام سکولز اور کالجز میں پڑھایااور کئی رسالوں میں افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ روزنامہ آج میں کالم بھی لکھے اورظفر اقبال خان المعروف ” ماما سواتی ”ہندکو زبان کے شاعر،ادیب اور ریڈیو ٹی وی کے میزبان کے علاوہ ہندکو ، اردو اور پنجابی کے گلوکار شکیل اعوان شامل تھے۔ سخت سردی کے باوجود اس بیٹھک پروگرام میں شرکت کیلئے آنے والے افراد اس قدر زیادہ تھے کہ ہال میں بیٹھنے کی گنجائش ختم ہو گئی اور لوگوں نے کھڑے ہو کر اسے سُنا۔ ریڈیو ٹی وی کے مشہور میزبان کاشف ملک نے ہندکو زبان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے 16 سال اردو میں پروگرام کئے مگر مجھے لوگوں نے اتنا نہیں جانا جتنا مجھے گزشتہ چند سالوں سے جب سے میں نے ہندکو زبان میں پروگرام کرنا شروع کئے ہیں لوگوں نے جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010ء میں ایک سروے کے مطابق ریڈیو کے پروگرام” ہندکو رنگ ” کو سُننے والوں کی تعداد 20 لاکھ تھی۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں پشتو بولنے والے اتنے نہیں ہیں جتنے دیگر زبانیں بولنے والے لوگ رہتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ ہندکو بولنے والے افراد شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندکو کا پرانا نام سندھ کو ہے اور پوٹھواری زبان بھی اسی سے نکلی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ریڈیوFM-99 اور K2 ٹیلی ویژن کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہندکو زبان میں پروگرام نشر کئے اور اس کی پذیرائی کی۔ انہوں نے تمام خواتین کو کہا کہ وہ اپنے بچوں سے اپنی مادری زبان میں بات چیت کیا کریں تاکہ وہ اپنی مادری زبان کو بھلا نہ دیںکیونکہ ہندکو زبان پیار اور ادب والی زبان ہے۔ پروفیسر یحییٰ خالد نے جو کہ ہندکو کے مشہور شاعر، افسانہ نگار اور 5 دکتابوں کے مصنف بھی ہیں، نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں بنیادی طور پر ریاضی کا اُستاد ہوں لیکن ہندگو زبان سے میرا گہرا رشتہ ہے، میں ہندکو میں شاعری اور افسانہ نگاری کرتا ہوں کیونکہ ہندکو زبان کو ہم چھوڑ رہے ہیں، ہمیں اسے تحریری شکل میں لانا ہے کیونکہ کافی عرصہ سے یہ سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب لوگ کہتے تھے کہ ہندکو بھی کوئی زبان ہے تو میں اُن سے کہتا تھا کہ آپ نے بچپن میں سب سے پہلے روٹی یا دودھ کس زبان میں اپنی ماں سے مانگا تھا۔انہوںنے کہا کہ ہندکو زبان کشمیر سے لے کر اٹک تک مختلف لہجو ں میں بولی جاتی ہے۔ ملک سعید اختر ایڈووکیٹ جو کہ ایبٹ آباد ریڈیو میں ہندکو پروگرام کرتے ہیں، نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندکو زبان دیگر زبانوں کی طرح اپنے اندر ایک بھرپور ثقافتی رنگ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شادی بیاہ کے موقع پر اس زبان میں جب تک ماہیے اور ٹپے نہ گائے جائیں شادی پھیکی لگتی ہے۔ اس کے علاوہ ہندکو رسوم و رواج میں بے شمار ایسی چیزیں ہیں جو آج بھی اُسی طرح ادا کی جاتی ہیں جیسے صدیوں پہلے ۔ ان سے نہ صرف ہندکو ثقافت کو زندہ رکھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ لوگ بھی خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ جیسے شادی کے موقع پر دلہا یا اس کے کسی قریبی رشتہ دار سے ایک بھاری پتھر اُٹھوایاجاتا ہے اور نشانہ لگوایا جاتا ہے جسے مقامی زبان میں گڈی اُٹھانا کہتے ہیں۔جو دُلہا گڈی نہیں اُٹھا سکتا اُسے دُلہن کی ڈولی نہیں لے جانے دی جاتی یہ شادی کی ایک باقاعدہ رسم ہوتی ہے۔ اسی طرح شادی کے موقع پر دلہاکے دوست شادی سے ایک روز قبل رات کو اُس کے کپڑے پھاڑ دیتے ہیں اور خوب انجوائے کرتے ہیں جس کا مطلب ہوتا ہے کہ اب وہ عملی زندگی میں قدم رکھنے جا رہا ہے اور اُسے نئے کپڑے اور نئی زندگی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے گلے میں جو رومال (مفلر) پہن رکھا ہے اسے ہندکو میں گلو بند بھی کہتے ہیںاسی طرح ہندکو کلچر میں بہت سی ایسی رسومات ہیں جو نہ صرف انسان کے آپس کے پیار و محبت میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں بلکہ کام کاج میں ایک دوسرے کی مدد گار بھی ثابت ہوتی ہیں جیسے کہ شادی کا کھانہ پکانے والے باورچی کے پاس کئی لوگ رات کو بیٹھ کر اُس کے کام میں اس کی مدد کرتے ہیں اور آپس میں مختلف موضوعات پر گفتگو بھی کرتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کا حال احوال بھی جانتے ہیں۔بیٹھک پروگرام میں ساتھ ساتھ ہندکو زبان میں معروف گلوکار شکیل اعوان نے گیت بھی پیش کئے جنہیں شائقین نے بہت پسند کیا۔








