وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 17 فروری (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان سے سعودی عرب کیساتھ سیاسی تعلقات کے علاؤہ ایک مثالی دوطرفہ اقتصادی شراکت داری قائم ہوگی۔پندرہ سال بعد سعودی عرب کا اعلی سطح کا وفد پاکستان آرہا ہے،گزشتہ حکومت کے ادوار میں تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے۔ہماری حکومت نے تعلقات کی اہمیت کو مدنظر رکھتے …

اسلام آباد ۔ 17 فروری (اے پی پی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان سے سعودی عرب کیساتھ سیاسی تعلقات کے علاؤہ ایک مثالی دوطرفہ اقتصادی شراکت داری قائم ہوگی۔پندرہ سال بعد سعودی عرب کا اعلی سطح کا وفد پاکستان آرہا ہے،گزشتہ حکومت کے ادوار میں تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے۔ہماری حکومت نے تعلقات کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کی۔اتوار کو سعودی ولی عہد کی آمد سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ نے کہا کہ پندرہ سال بعد سعودی اعلی سطح کا وفد پاکستان آرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات ہیں جبکہ گزشتہ حکومت کے ادوار میں تعلقات سرد مہری کا شکار ہوئے۔ہماری حکومت نے تعلقات کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو دوبارہ استوار کرنے کی کوشش کی۔وزیر اعظم عمران خان کے یکے بعد دیگرے دو دوروں سے تعلقات بحال ہوئے اور تعلقات نے نئی نوعیت اختیار کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد کے دورہ کے دوران آج سپریم کوارڈینیشن کونسل کا علان ہوگا جو ان تعلقات کا رخ موڑ دے گی۔انہوں نے کہا کہ سیاسی تعلقات کے علاوہ ایک مثالی دوطرفہ اقتصادی شراکت داری قائم ہوگی اور جو سرمایہ کاری اور ایم او یوز پر دستخط ہونگے اس سے دونوں ملک ایک نئے دور میں داخل ہونگے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ عوام کی سہولت کیلئے سعودی عرب نے ویزہ فیس کم کی ہے،اس سے سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کو سہولت ملے گی جبکہ پاکستان نے بھی اپنے ویزوں کو آسان بنایا ہے۔سعودی بھی جب پاکستان آئیں گے تو انہیں آمد پر ویزہ مل جائے گا۔اس سے کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا ہونگی ، جس سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔