اسلام آباد ۔ 19 فروری (اے پی پی)سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں 806.202 ملین روپے لاگت کے 4 منصوبے منظور، جبکہ7 ارب 404.567 ملین روپے لاگت کے 2 منصوبے مزید منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیئے گئے۔ سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن و وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار کی زیر صدارت ہوا۔ …
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار کی زیر صدارت سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 19 فروری (اے پی پی)سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کے اجلاس میں 806.202 ملین روپے لاگت کے 4 منصوبے منظور، جبکہ7 ارب 404.567 ملین روپے لاگت کے 2 منصوبے مزید منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیئے گئے۔ سنٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس ڈپٹی چئیرمین پلاننگ کمیشن و وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری پلاننگ ظفر حسن، وفاقی وزارتوں اور صوبائی محکموں کے اعلی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں آبی وسائل، صحت، فزیکل پلاننگ اینڈ ہاؤسنگ سے متعلق منصوبے پیش کیے گئے۔ سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس میں آبی وسائل ڈویژن کی جانب سے کچی کنال منصوبہ پیش کیا گیا۔ کچی کنال کے منصوبے پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ صوبہ بلوچستان کے علاقہ ڈیرہ بگٹی میں زراعت کے لیے پانی کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوتے ہوئے لاکھوں ایکڑ رقبے کو سیراب کرے گا، زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا، زرعی صنعتوں کے فروغ میں مدد دے گا اور مزید اس منصوبے کے تحت بلوچستان کی مقامی کمیونٹی کے لیے پینے کے صاف پانی کی دستیابی کو یقینی بنائے گا۔ اجلاس میں کچی کنال منصوبے کے تکنیکی پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے اس منصوبے کے تفصیلی جائزے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جو پندرہ دن کے اندر اندر اپنی رپورٹ وزارت منصوبہ بندی کو پیش کرے گی۔ اجلاس میں آبی وسائل ڈویژن کی جانب سے دوسرا منصوبہ برج عزیز خان ڈیم پروجیکٹ پشین لورا کے لئے 67.407 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ پیش کیا گیا۔ اس منصوبہ پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ کوئٹہ شہر کے لوگوں کو 21 ملین گیلن پانی فراہم کرے گا جس سے شہر میں پانی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی، اس منصوبے کو اجلاس نے منظور کر لیا۔ وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوارڈینیشن کی جانب سے چار منصوبے پیش کیے گئے جس پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صحت کی معیاری سہولیات کی دستیابی موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ منصوبوں کی بروقت تکمیل ضروری ہے۔ اجلاس میں میں پہلا منصوبہ پاکستان انسٹی ٹوٹ آف میڈیکل سائنسز میں موجودہ سہولیات کی اپ گریڈیشن کے لیے 200 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس نے منظور کر لیا۔ اجلاس میں دوسرا منصوبہ پمز ہسپتال میں خواتین ڈاکٹروں کی رہائش کے لیے 102 کمروں پر مشتمل ہاسٹل کی تعمیر کے لیے 222.062 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلا س نے منظور کر لیا۔ صحت سے متعلق تیسرا منصوبہ پمز ہسپتال میں ریڈیولوجی ڈیپارٹمنٹ کے لیے ایم آر آئی سامان کی خریداری کے لیے 316.733 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلا س نے منظور کر لیا۔ اجلاس میں صحت سے متعلق چوتھا منصوبہ پمز ہسپتال کے زچہ و بچہ ہیلتھ کیئر سنٹر کی توسیع کے لیے 3886.567 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس نے مزید منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دی۔ سی ڈی ڈبلیو پی کے اجلا س میں وزارت داخلہ اور حکومت پنجاب کی جانب سے کورنگ دریا اور راول جھیل اسلام آباد میں گرنے والے گندے پانی کی صفائی کے لیے چار سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس اور متعلقہ سیوریج سسٹم کی تعمیر کے لیے 3518 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ پیش کیا جس پر وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار کا کہنا تھاکہ راول جھیل کی بڑھتی ہوئی آلودگی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا تدارک کرنے کی ضرورت ہے اجلاس نے منصوبے کو مزید منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا۔








