وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی کی میڈیا سے گفتگو

اے پی پی اردو سروس اسلام آباد فون نمبر 051-2203061-2203064-7: فیکس نمبر 051-2203060-2203069-70 ای میل ایڈریس: [email protected], [email protected] ******** آئٹم نمبر 376 ******** ملتان ۔19فروری(اے پی پی) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا، پلوامہ دہشت گردی کی آڑ میں بھارت جنگی جنون پیدا کرنے کی کوشش کررہاہے، سبق سکھانے کی باتیں کی جارہی ہیں، میں بھارتی قیادت پر واضح …

اے پی پی اردو سروس اسلام آباد
فون نمبر 051-2203061-2203064-7: فیکس نمبر 051-2203060-2203069-70
ای میل ایڈریس: [email protected], [email protected]
******** آئٹم نمبر 376 ********
ملتان ۔19فروری(اے پی پی) وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا، پلوامہ دہشت گردی کی آڑ میں بھارت جنگی جنون پیدا کرنے کی کوشش کررہاہے، سبق سکھانے کی باتیں کی جارہی ہیں، میں بھارتی قیادت پر واضح کردینا چاہتاہوں کہ اس خطے کے امن کو سیاست کی نذر نہ کرے۔ وہ منگل کے روز سرکٹ ہائوس ملتان میں میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے کہاکہ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ بھارت ہمیں سفارتی طورپر تنہا کرنے کی باتیں کررہاہے لیکن وہ ہمیں تنہا نہیں کرپائے گا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان خود دہشت گردی کاشکار ہاہے، ہم نے 70ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، ہمارے جوان شہید ہوئے، ہمارے گھروں میں جنازے آئے ،لوگ معذور ہوئے ، ہم جانتے ہیں کہ دہشت گردی کے نتائج کیا ہوتے ہیں، پلوامہ واقعہ کے بعد ہم نے اس کی بھرپور مذمت بھی کی اور متاثرہ خاندان سے اظہارہمدردی بھی کیا لیکن بھارت اس واقعہ کو خاص رنگ دینے کی کوشش کررہاہے۔انہوں نے کہاکہ اگر کوئی منطقی بات ہے تو ہمیں بتائی جائے، ہم بات سننے کوتیارہیں، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون بھی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی الیکشن کے موقع پر ایسی باتیں خاص نقطہ نظر سے کی جارہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آج وزیراعظم نے پاکستان کاموقف پیش کردیاہے، پلوامہ کاافسوسناک واقعہ ہوا جس میں انسانی جانوں کاضیاع ہوا لیکن ہندوستان نے بغیر تحقیق کے چند منٹوں میں الزام تراشی شروع کردی جوکہ انتہائی نامناسب ہے چونکہ بھارت میں اس وقت الیکشن کاماحول بناہواہے اس لئے ایک جنون کی کیفیت پیداکی جارہی ہے اوروہاں کی حکومت کشیدگی کوہوادے رہی ہے، ہماری ترجیحات واضح ہیں، ہم خطے میں امن واستحکام چاہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مغربی سرحدوں پر امن کے لئے پوری توجہ مبذول کئے ہوئے ہیں، ہمارا مسلسل موقف ہے کہ جنگ کسی مسئلے کاحل نہیں، جنگ چھیڑنا آسان ہوتا ہے لیکن سمیٹنا انتہائی مشکل، افغانستان کی ہی مثال لے لیں جہاں 17سالوں سے جنگ چھڑی ہوئی ہے ہماری کوشش ہے کہ وہاں استحکام آئے ہم پیش کش کررہے ہیں کہ حل طلب مسائل بشمول کشمیر کوگفت وشنید سے حل کیاجائے کیونکہ اس کے علاوہ اورکوئی حل نہیں ۔وزیرخارجہ نے کہاکہ دن بدن ہندوستان مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بگاڑرہاہے وہاں پرنہتے خواتین اوربچے پرامن احتجاج کررہے ہیں اورصورتحال یہ بن چکی ہے کہ وہ حکومتی بربریت سے بچنے کیلئے مسجدوں میں پناہ لے رہے ہیں ،صرف وہاںہی نہیں بلکہ پلوامہ کے بعد پورے ہندوستان میں بلاوجہ مسلمانوں کونشانہ بنایاجارہاہے جس وقت یہ واقعہ ہوا میں اس وقت جرمنی کے شہر میونخ میں اتررہاتھامجھے پتہ چلاتومیں نے فوراََمذمت کی اور مظلوم خاندانوں سے اظہارہمدردی کیا۔انہوںنے کہاکہ بدقسمتی یہ ہے کہ بھارتی حکومت نے اس کوخاص رنگ دیدیااوراس کے بعد پاکستان کو سفارتی طورپرتنہاکرنے کی کوشش شروع کر دی لیکن بھارت ایسا نہیںپائے گا، کوئی ثبوت ہے توبتائیں ،ہرذی شعور اس بات کاثبوت مانگتاہے لیکن ہم دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے ۔جلسوں میں تقاریر کرنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔پاکستان کو سبق سکھانے والی باتیں سمجھ داری نہیں،ہم نے تعاون سے انکارنہیں کیا۔انہوںنے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے صاف کہاہے کہ ہم اپنی سر زمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے، اس سے پہلے ہم نے 70ہزار قربانیاں پیش کیں ،ہماری افواج نے بے شمار قربانیاں دیں ۔وزیراعظم نے واضح کہاہے کہ یہ نیاپاکستان ہے لہذا کسی غلط فہمی میں نہ رہیں اس میں کوئی دھمکی یاسرجیکل سٹرائیک جیسی کوئی حرکت کی گئی توپاکستان فوری جواب دے گا۔انہوںنے کہاکہ میں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوخط لکھاہے اوردرخواست کی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لئے کرداراداکریں ۔ان سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ وہ میراخط اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ممبران میں تقسیم کریں اورمیری معلومات کے مطابق یہ خط تقسیم کردیاگیاہے ۔ہندوستان کوخودغورکرناچاہیے کہ ایسی کیا وجوہات ہیں کہ تمام رپورٹس مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گواہی دے رہی ہیں ۔شاہ محمو دقریشی نے اس بات پرحیرانگی کااظہارکیاکہ ہندوستان میںالیکشن کے موقع پرسندھ طاس معاہدے کاتذکرہ کرنے کامقصدکیاہے ، جلسوں میں کھڑے ہوکر معاہدے کو اوپن کرنے کی بات کرتے ہیں، پاکستان مفادات کاتحفظ کرناجانتاہے ۔انہوںنے کہاکہ میں نے دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو پاکستان بلاکران سے نشست کی ہے ان کے پاس رپورٹس تھیں، انہوںنے مجھے اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیاہے ۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ہم اپنی حکمت عملی واضح کررہے ہیں ۔دوست ممالک سے رابطہ ہے ۔پاکستان کانقطہ نظر اپنے دوست ممالک کے سفراء کے سامنے پیش کیاہے تاکہ وہ اپنی حکومتوں کوپہنچائیں تاکہ ہمارانقطہ نظر دنیاکے سامنے آسکے۔انہوںنے کہاکہ میں نے سینئر اورمنجھے ہوئے سفارتکاروں کااجلاس 21فروری کو طلب کیاہے ان سے اِن پُٹ لوں گااوراس کی روشنی میں مربوط حکمت عملی مرتب کریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ وزیردفاع پرویزخٹک ملک سے باہر ہیں اس لئے ان کاکوئی موقف سامنے نہیں آسکا ۔کلبھوشن یادیوکے مسئلے پرہماری ٹیم ہیگ پہنچ چکی ہے۔21فروری تک کیس چلے گااور اس کے بعدفیصلہ آئے گا۔انہوںنے کہاکہ ہندوستان کے اس وقت 3مقاصدہیںنمبر1کلبھوشن کی بریت ،نمبر2اس کی رہائی ،نمبر3رہائی کے بعد واپسی،جبکہ پاکستان کاموقف واضح ہے ہمارے پاس ٹھوس شواہد ہیں کہ وہ دہشت گردی ودیگرملک دشمن کارروائیوںمیںملوث ہے جس کااعتراف وہ کربھی چکاہے۔ہندوستان نے ہمار اموسٹ فیورٹ نیشن کارتبہ ختم کیاہے اور کسٹم ڈیوٹی 200فیصدتک بڑھائی ہے جبکہ ہماری تجارت ویسے ہی محدود ہے سب جانتے ہیں کہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے تجارت ہوتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہمارا سوبرریسپانس ہے ہمارے پاس آپشن موجودہے۔ہندوستان بوکھلاہٹ کاشکارہے، کبھی بیان بازی کی جاتی ہے تو کبھی دہلی میں پاکستان ہائوس پرکیچڑپھینکوایاجاتاہے۔پاکستان میں توکسی کاپتلانہیں جلایاجاتا ۔ایک سوال کے جوا ب میںانہوںنے کہاکہ ایران ہمارا اچھاہمسایہ ہے اس سے اچھے تعلقات کی ایک تاریخ ہے، سعودی عرب کے ولی عہد کے حالیہ دورے کے بعد سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات میں ایک نیاموڑ آیاہے۔ایک دورہ سے 20ارب ڈالرکی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔اس کے بعدملائشیا،متحدہ عرب امارات اوردیگرممالک سے سرمایہ کاری کی برسات ہونے والی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہمارے ایران اورسعودی عرب کے ساتھ تعلقات ہیں، پاکستان ان کے درمیان ایک پل کاکرداراداکرسکتاہے لیکن یمن یاکسی بھی تنازع میں نہیں الجھے گا۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں ایسے دوربھی گزر ے ہیں کہ کشمیر کانام لیتے ہوئے حکومتوںپرسکتہ طاری ہوجاتاتھاجبکہ ہم نے دنیا بھرمیں اس کی آواز اٹھائی ہے،میں نے ہائوس آف کامنز میں اس موقف کوواضح طور پر پیش کیا۔اس وقت برسلز میں کشمیر پرباقاعدہ سماعت رکھی گئی ہے۔ہندوستان کااپناجنرل کہہ رہاہے کہ پلوامہ حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ مقامی طورپرموجودتھا۔ہندوستانی فورسزنے جس طرح اپنے فوجی جوان کی بے حرمتی کی، اس کی ناک رگڑوائی تواس طرح کے واقعات توہوں گے۔انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد کوکشمیر کے مسئلے پرآگاہی دی اور اپنا موقف اچھے انداز سے پیش کیا۔شہزادے نے کہاکہ میں پاکستان کاسفیر ہوں۔

Leave a Reply