وزیرِ اعظم عمران خان کا اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے اسلام کی ترویج میں صوفیا کرام کے کردار اور تصوف کے بارے میں نوجوان نسل کو روشناس کرانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تصوف اور سیرت سٹڈیز کے قیام کے حوالے سے عملی خاکہ مرتب کرنے کے لئے خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ پیر کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت تصوف اور اسلام کی ترویج کے سلسلے میں …

اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی)وزیراعظم عمران خان نے اسلام کی ترویج میں صوفیا کرام کے کردار اور تصوف کے بارے میں نوجوان نسل کو روشناس کرانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تصوف اور سیرت سٹڈیز کے قیام کے حوالے سے عملی خاکہ مرتب کرنے کے لئے خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ پیر کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت تصوف اور اسلام کی ترویج کے سلسلے میں صوفیاءکرام کی خدمات کو اجاگر کرنے اوران کی شخصیات پر تحقیق کے فروغ کے سلسلے میں تعلیمی و تحقیقی ادارے کے قیام کے سلسلے میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری، وزیر برائے نیشنل فوڈ اینڈ سیکورٹی صاحبزادہ محبوب سلطان، وزیر اوقاف پنجاب پیر سید سعید الحسن، وزیر برائے ہایئر ایجوکیشن پنجاب یاسر ہمایوں سرفراز، ایم این اے خواجہ شیراز محمود، چئیرمین ہایئرایجوکیشن طارق بنوری، چئیرمین مدینہ فاو¿نڈیشن میاں محمد حنیف، پروفیسر ڈاکٹر نور احمد شاہ تاج، خواجہ قاسم سیالوی و متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاءسے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ اسلام کی ترویج میں صوفیا کرام کے کردار اور تصوف کے بارے میں نوجوان نسل کو روشناس کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے ایسے ادارے کا قیام کہ جہاں خاص طور پر تصوف اور صوفیا کرام کی شخصیات اور ان کی خدمات کے بارے میں سیر حاصل اور حقیقی تحقیق ہو، بہت اہمیت کی حامل ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایسے ادارے کے قیام اور اس میں ہونے والی تحقیق سے نہ صرف نئی نسل اسلام کی اصل تعلیمات سے آگاہ ہوں گی بلکہ مذہب کے نام پر کئے جانے والے استحصال سے بھی معاشرے کو بچایا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری، چئیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، خواجہ شیراز محمود اور میاں محمد حنیف پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو تصوف اور سیرت سٹڈیز کے قیام کے حوالے سے عملی خاکہ (کانسیپٹ پیپر) مرتب کرکے وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی۔ اجلاس میں درگاہوں اور مزارات پر زائرین کو مناسب سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اوقاف کی غیر استعمال شدہ زمینوں کو برو¿ے کار لانے اور ان کے مصرف کے لئے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے تاکہ نہ صرف ان اراضیوں پر بعض مقامات پر ہونے والے ناجائز قبضوں کو واگزار کرایا جا سکے بلکہ ان کا مناسب استعمال بھی یقینی بنایا جا سکے تاکہ ان سے ہونے والی آمدنی کو درگاہوں اور زائرین کو سہولیات کی فراہمی پر خرچ کیا جا سکے۔