اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ بھارت نے او آئی سی کے بانی رکن پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب اور سالمیت کی خلاف ورزی کی ہے جس کا جواب دینے کا اپنا حق محفوظ رکھتے ہیں، قوم کو مایوس نہیں کریں گے، پاکستان کی سول و فوجی قیادت بھارتی عزائم کو سمجھتی ہے …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی وزیر دفاع پرویز خٹک اور وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ بھارت نے او آئی سی کے بانی رکن پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارتکاب اور سالمیت کی خلاف ورزی کی ہے جس کا جواب دینے کا اپنا حق محفوظ رکھتے ہیں، قوم کو مایوس نہیں کریں گے، پاکستان کی سول و فوجی قیادت بھارتی عزائم کو سمجھتی ہے اور اس کا جواب دینا بھی جانتی ہے،موجودہ صورتحال میں بھارت کیلئے کسی فورم پر رعایت کی کوئی گنجائش نہیں، اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ وہ منگل کو وزارت خارجہ میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے خصوصی اجلاس کا اعلامیہ پڑھ کر سنا یا۔قومی سلامتی کمیٹی نے بالاکوٹ کے قریب مبینہ دہشت گرد کیمپ کو ہدف بنانے اور بھاری جانی نقصان کے بھارتی دعوﺅں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر بھارتی حکومت نے ناعاقبت اندیش خود ساختہ، اور جھوٹے دعویٰ کا سہارا لیا ہے۔ بھارت نے بلا جواز جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔یہ اقدام بھارت میں انتخابی ماحول کے لئے کیا گیا جس نے خطے کے امن و استحکام کو سنگین خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔ جس علاقے میں حملے کا دعویٰ کیا گیا ہے وہ دنیا کے لئے کھلا ہے تاکہ وہ حقائق جان سکے۔ اس کے لئے ملکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو اس مقام پر لے جایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ بھارت نے بلا جواز جارحیت کا ارتکاب کیا ہے، پاکستان جوابی کارروائی کے لئے وقت اور جگہ کا تعین خود کرے گا۔ قوم کو اعتماد میں لیتے ہوئے حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے 27 فروری 2018ءکو نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کا خصوصی اجلاس طلب کیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ مسلح افواج اور پاکستان کے عوام سمیت قومی قوت کے عناصر ہر قسم کے حالات کے لئے تیار رہیں۔ انہوں نے خطے میں بھارت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسی کو بے نقاب کرنے کے لئے عالمی قیادت سے رابطے کا بھی فیصلہ کیا۔ وزیراعظم نے جان و مال کے کسی نقصان کے بغیر بھارتی کوشش پسپا کرنے کے لئے پاک فضائیہ کی بروقت اور موثر جوابی کارروائی کو سراہا۔وزیر خارجہ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ بی جے پی کی حکومت نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کی خلاف کا اقدام اٹھایا ،یہ اقدام بھارت میں انتخابی ماحول میں اٹھایا گیا ہے ،مودی سرکار سیاست کی ضروریات کے تحت مہم جوئی کا سہارا لے رہی ہے کیونکہ بھارتی عوام نے بی جے پی کی انتخابی تحریک کو مسترد کر دیا ہے جس پر انہوں نے اپنی سیاست چمکانے کے لئے پاکستان کا انتخاب کیا۔ پلوامہ میں حملہ ہوتا ہے لیکن نشانہ بھارت کے مسلمانوں اور مقبوضہ کشمیر معصوم اور نہتے عوام کو بنایا جاتا ہے مسلمانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں، نئی دہلی میں نوجوانوں پر حملے کئے جا رہے ہیں، 26 سالہ نوجوان کا پلوامہ سے کوئی تعلق نہیں اس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس کا قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران نے اپنے حالیہ بیان میں بھارت کوتعاون کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اگر شواہد ہیں تو تعاون کریں گے، اس کے باوجود جارحیت کی گئی اب ہم اپنے دفاع کا حق رکھتے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی شرکت کے حوالے گذشتہ روز او آئی سی کے ہنگامی اجلاس سے متعلق یو اے ای کے وزیر خارجہ سے تفصیلی بات ہوئی، ہم نے پاکستان کا نکتہ نظر پیش کر دیا تھا،جس پر یو اے ای نے مشاورت کیلئے وقت مانگا تھا۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے رابطہ گروپ کا اجلاس یو اے ای میں جاری ہے جس میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ شریک ہیں اور پاکستان کا نقطہ ءنظر پیش کریں گی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کے ولی عہد اور یو اے ای کے ولی عہد سے بات کی اور انہوں نے او آئی سی کے اجلاس پر پاکستان کا نقطہ ء نظر پیش کیا لیکن آج بھارت کی جانب سے او آئی سی کے بانی رکن کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کیا گیا اب صورتحال یکسر تبدیل ہوچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ او آئی سی کی قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا، او آئی سی اس نئی صورتحال کو مدنظر رکھے اور اس معاملے کا ازسر نو جائزہ لے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمان کو ساری صورتحال کے حوالے سے بریف کریں گے، تمام حقائق ان کے سامنے رکھیں گے، انہیں اعتماد میں لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں دنیا کے مختلف وزراءخارجہ سے میں نے رابطے قائم کیے اور انھیں بھارت کے عزائم سے بروقت آگاہ کیا کہ مودی سرکار سیاسی تقاضوں کے تحت کوئی نہ کوئی مہم جوئی کی ضرورت محسوس کر رہی ہے۔کابل، ماسکو، دوحہ سمیت مختلف ممالک کے دوروں کے موقع پر ماسکو میں روسی وزیر خارجہ کو میں نے آگاہ کیا کہ مجھے خدشہ ہے کہ بھارت یہ کر نہ دے، اگر ایسا کیا تو یہ خطہ کی سلامتی کیلئے بڑا خطرہ ہے، میونخ کانفرنس میں بھی ، میں نے فوری طور پر پلوامہ حملہ کی مذمت کی۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سیکرٹری جنرل ، برطانوی، چینی وزیر خارجہ سمیت دیگر وزراءکو بھی صورتحال سے آگاہ کیا،آج میں نے ترکی کو بھی ساری صورتحال سے آگاہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سول و فوجی قیادت بھارتی عزائم کو سمجھتی ہے اور اس کا جواب دینا بھی جانتی ہے،انہوں نے کہا کہ کشیدگی میں اضافہ اور اشتعال پیدا کرنا ہمارا مقصد نہیں تھا اور نہ ہے جبکہ دوسری جانب بھارت ہمیشہ اشتعال انگیزی کی بات کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرحلہ میں صورتحال نازک ہے، ہم ذمہ دار اور پرامن ملک ہیں، پاکستانی وقار اور سرحدوں کی دفاع کی اہمیت سمجھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری فضائیہ کے طیاروں نے بروقت جوابی کارروائی کی اور وہ کسی بھی صورتحال اورچیلنج کا سامنا کرنے کے لئے مکمل چاق و چوبند تھے ، اگر پاکستان کوپتہ نہ ہوتا تو جواب کیسے دیا جاتا اور بھارتی طیارے بھاگتے کیوں۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر یہ علم نہیں تھا کہ جانی نقصان ہوا یا نہیں ، اگرکوئی جانی نقصان ہوتا تو اس کے بعد صورتحال کو کسی اور انداز سے دیکھا جاتا۔کرتار پور راہداری سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کرتارپورراہداری ایک دیرینہ خواہش تھی جسے پاکستان نے پورا کیا، اس میں خیرسگالی کا جذبہ کارفرما تھا، ایک امن کا پیغام تھا جو پاکستان نے دیا، کبھی جارحیت سے گھبرائے نہیں،ہم نے راستے بند کرنے کے لئے نہیں کھولے جبکہ ہندوستان کے ذہن کے راستے ہی بند ہیں ۔ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہا کہ بھارت حملہ کے حوالہ سے پروپیگنڈا کر رہا ہے، یہ ذہن میں رکھیں کہ بھارت میں الیکشن مہم چل رہی ہے اور جب سیاستدان کے سامنے ووٹ آتا ہے تو اس کا دماغ خراب ہو جاتا ہے، بھارت کی جانب سے جیش محمد کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ حملے کے فوراً بعد پتہ نہیں تھا کہ ہلاکتیں ہوئیں ہیں یا نہیں،جیسے ہی روشنی ہوئی تو سچائی سامنے آگئی اس حملے میں کوئی جانی مالی نقصان نہیں ہوا ۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ بھارتی جہازپے لوڈ پھینک کر پاک فضائیہ کی جوابی کارروائی کے ساتھ ہی بھاگ گئے ۔








