سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ترکمانستان کے سفیر اتاد جان نورعلیوچ موولاموف سے ملاقات میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی جناب اسد قیصر سے ترکمانستان کے سفیر اتاد جان نورعلیوچ موولاموف نے منگل کو ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور ترکمانستان کے قریبی روابط کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا اور سپیکر نے تاپی منصوبے کی جلد تکمیل کی ضرورت پر …

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی جناب اسد قیصر سے ترکمانستان کے سفیر اتاد جان نورعلیوچ موولاموف نے منگل کو ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور ترکمانستان کے قریبی روابط کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا اور سپیکر نے تاپی منصوبے کی جلد تکمیل کی ضرورت پر زور دیا۔ سپیکر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی ترقی اور توانائی کے موجودہ بحران کے حل کے لئے ایسے منصوبے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں جس کے لئے علاقے میں امن بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کا پر امن اور دائمی حل علاقے کے روشن مستقبل کی کنجی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام کے باہمی روابط تاریخی ہیں۔ ہم زبان، مذہب، ثقافت اور خون کے رشتوں میں جڑے ہیں۔ ترکمانستان کے سفیر نے کہا کہ ترکمانستان کے وزیر خارجہ عنقریب پاکستان کا دورہ کریں گے، تاپی منصوبہ فقط گیس کی ترسیل ہی تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ٹرین کی پٹڑی، سڑک اور پاور ٹرانسمیشن لائن تعمیر کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ ترکمانستان کے سفیر نے سپیکر کو دونوں ملکوں میں تعاون کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکمانستان اور پاکستان سٹریٹیجک پارٹنر ہیں، ترکمان قوم یہ کبھی فراموش نہیں کر سکتی کہ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 1991ءمیں ترکمانستان کی آزاد ریاست کو تسلیم کر کے کڑے وقت میں ترکمانستان کا ساتھ دیا۔ سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ اس حوالے سے دونوں ملکوں کی پارلیمان کو متحرک کردار ادا کرنا چاہیئے، پاکستان کی قومی اسمبلی میں ترکمانستان کی پارلیمنٹ کے ساتھ دوستی گروپ قائم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے منصوبے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ تاپی منصوبہ وسط ایشیا کو پاکستان کے راستے ایک وسیع منڈی سے منسلک کر سکتا ہے، تاپی کو سی پیک منصوبے سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply