وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شریں مزاری کا جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے سیشن سے خطاب

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شریں مزاری نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور در انداری کا نوٹس لے، بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی …

اسلام آباد ۔ 26 فروری (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شریں مزاری نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے کشمیر میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی اور در انداری کا نوٹس لے، بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی نہ صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔ منگل کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے چالیسویں سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزی اور بھارتی جارحیت اور اشتعال انگیری کی سخت مذمت کرتا ہے جو کہ ماضی کی طرح بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قراردادوں اور قوانین کی ایک اور خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق بھارتی جارحیت کا جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کا واقعہ بین الاقوامی برادری کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کہ وہ بین الاقوامی قراردوں اور اقوام متحدہ کی قراردوں کے مطابق تسلیم شدہ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم اور بھارتی جارحیت پر خاموش کیوں ہے، بھارت اقوام ِ متحد ہ اور سلامتی کونسل کی قرداردوں کے برعکس مقبوضہ کمشیر میں غیر قانونی طور پر قابض ہے۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر شریں مزاری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری مسلح تنارع کو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور بین الاقوامی قراردادوں کی روشنی میں دیکھا جانا چاہئے اور اس کو حل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردوں کے برعکس مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کی راہ میں خود ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے، مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد معصوم کشمےریوں نے بھارتی ظلم و ستم اور قبضے کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ وفاقی وزیرنے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کشمیر کی جاری رپورٹ کی سفارشات پر فوری عملدرآمد کروانے کیلئے اپنے مینڈیٹ کو پورا کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ بھارت کو پاپند کرے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم بند کرے اور کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت کا حق دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کمشنر بیچلٹ کی جانب سے اقوام متحدہ کمیشن فار ہیومن رائٹس کی کشمیریوں پر جاری رپورٹ اور سفارشات پر عمل درآمد کی مطالبہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن قائم کرنے کی تجویز کا خیر مقدم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے بھی اس مطالبے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آزاد کشمیر میں بھی کمیشن کا خیر مقدم کرے گا لیکن بھارت کو بھی مقبوضہ کشمیر میں ایسے ہی کمیشن کو رسائی کی اجازت دینی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پہلے ہی سے او آئی سی کی انسانی حقوق کا کمیشن دورہ کر چکا ہے جبکہ بھارت کی جانب سے اس کمیشن کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی کی اجازت نہیں رہی جو کہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے ایک بانی رکن کی حیثیت سے پاکستان نے ایک فعال کردار ادا کیا ہے اور مستقبل میں بھی ایسا ہی کردار جاری رکھے گا۔ ہم اپنے ملک اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کیلئے پر عزم ہیں۔ موجودہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں انسانی حقوق کے تحفظ کو ترجیح دیتی ہے اور انسانی حقوق کا تحفظ موجودہ حکومت کے ایجنڈ ے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور علاقائی خطرات کو نہ صرف شکست دی بلکہ یہاں پر ایک مستحکم پارلیمانی جمہوریت، آزاد عدلیہ، متحرک سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا موجود ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے موجودہ حکومت انسانی حقوق کے تحفظ بالخصوص خواتین کی فلاح و بہبود سمیت، بچوں اقلیتوں اور معذورں کے حقوق کے تحفظ کیلئے نہ صرف پہلے سے موجود قوانین پر عملدرآمد ےقےنی بنا رہی ہے بلکہ قوانین کی آگاہی سمیت نئی قانون سازی پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ شریں مزاری نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی کا حق حاصل ہے اور حکومت اقلیتوں کے حقو ق کے تحفظ اور انکی حفاظت کے لیے پر عز م ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کے برعکس پاکستان میں اقلیتوں کو انکے اپنے قوانین فراہم کئے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے یورپ میں مسلمانوں کو درپیش اور انکے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یورپ میں رہنے والے مسلمانوں بالخصوص پاکستانی تارکین وطن کو مذہبی رسومات ادا کرنے میں رکاوٹیں درپیش ہیں اور بین الاقوامی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔

Leave a Reply