اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے مستقبل میں قابل تجدید توانائی سے متعلق تمام سرمایہ ہائے کاری کو قابل تجدید توانائی پالیسی 2019ءسے ہم آہنگ بنانے کے حوالے سے پاور ڈویژن کی تجاویز کی منظوری دیدی۔ یہ پالیسی ایک ایسے فریم ورک کی حامل ہے جو موجودہ بین الاقوامی مارکیٹ کی اقدار اور صارفین کے وسیع تر فوائد سے متعلق ہے۔ کابینہ کمیٹی …
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 فروری (اے پی پی) کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے مستقبل میں قابل تجدید توانائی سے متعلق تمام سرمایہ ہائے کاری کو قابل تجدید توانائی پالیسی 2019ءسے ہم آہنگ بنانے کے حوالے سے پاور ڈویژن کی تجاویز کی منظوری دیدی۔ یہ پالیسی ایک ایسے فریم ورک کی حامل ہے جو موجودہ بین الاقوامی مارکیٹ کی اقدار اور صارفین کے وسیع تر فوائد سے متعلق ہے۔ کابینہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں پاور ڈویژن کی جانب سے بتایا گیا کہ قابل تجدید توانائی پالیسی 2019ءکے مسودہ پر شراکت داروں سے ان کی آراءلی جا رہی ہیں اور اس عمل کی تکمیل کے بعد اسے جلد کابینہ کمیٹی برائے توانائی میں پیش کر دیا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ تمام ایسے منصوبے جن کے ایل او ایس متبادل توانائی بورڈ کی جانب سے دیئے گئے ہیں انہیں متبادل توانائی پالیسی 2006ءکے مطابق اپنے ضروری اہداف کے حصول کی جانب پیش رفت کی اجازت دیدی جائے گی تاہم جن کیسز میں نیپرا کی جانب سے ٹیرف کے تعین کے بعد ایک سال سے زائد عرصہ گزر گیا ہے، ان کے ٹیرف کا جائزہ نیپرا پالیسی کے مطابق لے گی۔ پاور ڈویژن نے کارکردگی میں بہتری اور چوری پر قابو پانے کے حوالے سے پیش رفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نومبر 2017ءسے جنوری 2018ءتک مجموعی وصولیوں کا حجم 203,953 ملین روپے تھا وہ رواں مالی سال 2018-19ءکے اسی عرصہ میں بڑھ کر 243,642 ملین روپے تک پہنچ گیا ہے جو 39,689 ملین روپے کے مجموعی اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ صارفین سے ریکوری میں بہتری اور خسارے میں کمی کے نتیجہ میں وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ بجلی چوری کے حوالے سے کابینہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 13 اکتوبر 2018ءسے 22 فروری 2019ءتک اس حوالے سے 20 ہزار 712 ایف آئی آرز درج کی جا چکی ہیں جبکہ 1909 گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے وصولیوں اور چوری کی روک تھام کے حوالے سے پاور ڈویژن کی موثر مہم کو سراہا۔ اس موقع پر پٹرولیم ڈویژن نے گیس کے بلوں میں اضافے کے معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سے آگاہ کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس معاملے میں آڈٹ رپورٹ بھی کابینہ کمیٹی برائے توانائی میں پیش کی جائے گی۔








