اسلام آباد ۔ یکم مارچ(اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم امہ کے اس اہم فورم پر اب نچلی سطح کے حکام پاکستان کی نمائندگی کریں گے تاکہ اگر اجلاس کے دوران بھارت کو مبصر کا درجہ دینے کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو اس کی بھرپور مخالفت کی جائے، …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم مارچ(اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے او آئی سی وزرائے خارجہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم امہ کے اس اہم فورم پر اب نچلی سطح کے حکام پاکستان کی نمائندگی کریں گے تاکہ اگر اجلاس کے دوران بھارت کو مبصر کا درجہ دینے کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو اس کی بھرپور مخالفت کی جائے، جنوبی ایشیاءمیں قیام امن کے لئے میں صدر ٹرمپ کے اس جذبے کی قدر کرتے ہیں، امن اور خطے کے لئے جو بھی بات کرے گا وہ قابل ستائش ہے، بھارت کی حکمران جماعت ہر صورت الیکشن جیتنا چاہتی ہے، بھارت کی 23 اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ بیان آیا ہے کہ مودی اپنی سیاست کے لئے ہندوستان کی فوج اور فوجی ہلاکتوں کو استعمال میں لانا چاہتا ہے۔ جمعہ کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کل قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور خواجہ آصف نے بھی او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھارت کو مدعو کرنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ پاکستان کو اپنی پوزیشن لینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب مشترکہ قرارداد پر ہم مشاورت کر رہے تھے تو اس دوران ہم نے ایاز صادق، رضا ربانی اور خورشید شاہ سمیت دیگر سیاسی رہنماﺅں سے مشاورت کی، سب کا نکتہ نظر واضح ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کا وزراتی اجلاس ابوظہبی میں ہو رہا ہے، بھارت او آئی سی کا ممبر اور نہ ہی مبصر، بھارت کو ہماری مشاورت کے بغیر مدعو کیا گیا ہے، او آئی سی کے سیکرٹری جنرل، ترکی کے وزیر خارجہ اور ایران بھی بھارت کو کانفرنس میں مدعو کرنے سے لاعلم تھے، بھارت کو مدعو کرنے کے حوالے سے جو مشاورت ہونا چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات پاکستان کا دوست اور برادر ملک ہے، لاکھوں پاکستانی متحدہ عرب امارات میں کام کر رہے ہیں، مشکل وقتوں میں یو اے ای نے پاکستان کی مدد کی ہے جس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں، یو اے ای نے بطور میزبان بھارت کو دعوت دی، میری اس معاملے پر عزت مآب شیخ عبداللہ سے بات ہوئی ہے، میں نے تاریخی حوالوں سے پاکستان کا نکتہ نظر پیش کیا اور میں نے درخواست کی کہ بھارت کو مدعو کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے، شیخ عبداللہ کا موقف تھا کہ جب ہم بھارت کو دعوت دے رہے تھے تو اس وقت پلوامہ کا واقعہ نہیں ہوا تھا، اگر یہ واقعہ ہوا ہوتا تو ہمارا موقف اور ہوتا، چونکہ ہم دعوت دے چکے ہیں تو ہمارے لئے دقت ہوگی کہ اس کو واپس لیا جائے لیکن ہم اس پر مشاورت کریں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ 26 فروری کو جب پاکستان پر جارحیت ہوئی تو میری ان سے دوبارہ بات چیت ہوئی، میری گزارش تھی کہ پاکستان کے عوام یو اے ای اور ان کے والد محترم کے ساتھ محبت رکھتے ہیں، محبت کے ان جذبات اور تعلق کا تقاضا ہے کہ اس اجلاس کو معطل کیا جائے، اس بارے میں جو ان کا موقف تھا وہ انہوں نے پیش کیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ 26 تاریخ کو انہوں نے پہلا خط پیش کیا۔ انہوں نے خط کے بعض مندرجات بھی ایوان میں پڑھ کر سنائے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت کو دعوت واپس لی جائے بصورت دیگر پاکستان کے پاس شرکت نہ کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوگا، 27 تاریخ کو ہم نے ایک اور مکتوب لکھا ہے، کل رات مزید سوچ و بچار اور مشاورت کے بعد ایک اور مکتوب لکھا جو ان کو بھیج دیا گیا ہے، اس مکتوب میں مشترکہ قرارداد کے نکات بھی شامل کئے ہیں اور یو اے ای سے درخواست کی گئی ہے کہ دعوت واپس لی جائے ورنہ او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستان شرکت نہیں کرسکے گا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ حالات کے تناظر میں انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کونسل آف فارن منسٹر کے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے تاہم اس اجلاس میں نچلی سطح کے اہلکار پاکستان کی نمائندگی کریں گے کیونکہ کشمیر پر ہماری 19 قراردادیں ہیں، ان قراردادوں میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی اور ان پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کا تذکرہ ہے، پاکستان کی نمائندگی ضروری ہے تاکہ اگر اجلاس کے دوران بھارت کو مبصر کا درجہ دینے کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو اس کی بھرپور مخالفت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کے وزیر خارجہ کے ساتھ ان کی بات چیت ہوئی ہے، ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ناقابل قبول اقدام ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ سفارتکاری کے محاذ پر اس ایوان کو ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کرنا چاہ رہے ہیں، امریکی وزیر خارجہ سے میں رابطے میں تھا، میں نے پاکستان اور خطے کے تناظر میں پاکستان کا موقف پیش کیا ہے جس کو امریکی وزیر خارجہ نے سمجھا ہے اور اسے اہمیت دی ہے، کل صدر ٹرمپ نے ایک بیان دیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ برصغیر کا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو اور یہاں حالات بگڑیں، صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سفارتکاری کے لئے اپنے حکام سے رابطوں کے لئے کہا ہے، میں صدر ٹرمپ کے اس جذبے کی قدر کرتا ہوں اور ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، امن اور خطے کے لئے جو بھی بات کرے گا وہ قابل ستائش ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دورہ روس کے دوران ان کی روسی وزیر خارجہ سرگئی لارووف سے جب ملاقات ہوئی تھی تو میں نے انہیں خطے کی صورتحال سے آگاہ کیا تھا اور انہیں آگاہ کیا تھا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ بھارت مایوسی کے عالم میں بعض اقدامات کر سکتا ہے، بھارت کی حکمران جماعت ہر صورت الیکشن جیتنا چاہتی ہے، آج بھارت کی 23 اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ بیان آیا ہے کہ مودی اپنی سیاست کے لئے ہندوستان کی فوج اور فوجی ہلاکتوں کو استعمال میں لانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے رہنما ششی تھرور کا ویڈیو کلپ موجود ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ آج بھارت میں بی جے پی ان تصورات کے خلاف کام کر رہی ہے جو بھارت کے بانیان کے تھے، بھارت کے اندر بھی مودی سرکار کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بات ہوئی تو وہ بھی دونوں اطراف کی آمادگی کی صورت میں کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں، ان کو پاکستان آنے اور کردار ادا کرنے کی دعوت دیتا ہوں، روس نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کرانے کی پیشکش کی ہے، پاکستان اس کے لئے تیار ہے، وہ بھارت کو آمادہ کر لیں جو ان کا پرانا دوست ہے، بھارت کے گرفتار پائلٹ کو آج دوپہر واہگہ سرحد کے ذریعے ہرا کر دیا جائے گا۔








