وفاقی وزیر اطلاعات و نشریا ت چوہدری فواد حسین کی ریڈیو ایس بی ایس پنجابی( آسٹریلیا) سے گفتگو

اسلام آباد ۔ یکم مارچ(اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریا ت چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت تنازعہ میں سب سے زیادہ نقصان پنجابیوں اور کشمیریوں کا ہوتا ہے،ہم تین جنگیں پہلے بھی لڑ چکے ہیں،جنگ کسی کی سگی نہیں ،"جت بھلیکھاہاربھلیکھا" ،جنگ میں کسی کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے،بیٹھ کر بات کرنا ہی تنازعات کو حل کرنے کا طریقہ ہے مگر نریندر مودی …

اسلام آباد ۔ یکم مارچ(اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریا ت چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت تنازعہ میں سب سے زیادہ نقصان پنجابیوں اور کشمیریوں کا ہوتا ہے،ہم تین جنگیں پہلے بھی لڑ چکے ہیں،جنگ کسی کی سگی نہیں ،”جت بھلیکھاہاربھلیکھا” ،جنگ میں کسی کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہے،بیٹھ کر بات کرنا ہی تنازعات کو حل کرنے کا طریقہ ہے مگر نریندر مودی کو صرف اپنی سیاست اور انتخابات کی پروا ہے،اس وقت بین الاقوامی دباﺅ پاکستان پر نہیں بلکہ بھارت پر ہے،دنیا بھارت کو کشیدگی ختم کرنے کا کہہ رہی ہے،سکیورٹی اور لوگوں کی حفاظت کے پیش نظر سمجھوتہ ایکسپریس بند کی گئی ہے ،جلد دوبارہ چلائی جائے گی ۔وہ جمعہ کو ریڈیو ایس بی ایس پنجابی( آسٹریلیا) سے گفتگو کر رہے تھے ۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ہم نے کہا ہے کہ دہشت گردی پر بھی بات کریں گے ،ہمارے ملک میں جنگ کا کوئی ماحول نہیں ،ہماری توجہ ملکی معیشت کی مضبوطی ،سرمایہ کاری کے فروغ اور غربت کے خاتمے پر مرکوز ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا پر پاکستان مخالف مہم چل رہی ہے جبکہ ہمارا میڈیا امن کا پیغام دے رہا ہے۔وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں،دہشت گردی کے خلاف جنگ کو موثر انداز سے لڑنے کے لئے علاقائی تعاون ضروری ہے ،تنازعات کا نقصان ہوتا ہے کیونکہ تنازعے انتہا پسندی میں اضافہ کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانا ہوگی ۔وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ بھارتی میڈیا پر جنون طاری ہے ،(ہیش ٹیگ)saynotowar # پاکستان سے شروع ہوا اور پوری دنیا میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے ۔بھارتی ٹی وی چینلز بند کرنے کے سوال پر وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے کہا کہ بھارتی چینلز کو پاکستان میں لینڈنگ رائٹس حاصل نہیں ہیں اس لئے بند کیے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم دونوںممالک کے مابین صحافیوں کے وفود کے تبادلے کے خواہاں تھے اور ویزہ پالیسی میں آسانیاں پیدا کرنا چاہ رہے تھے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان بھارت کے مابین تعلقات بہتر ہونے چاہیں ،اب اکیلے ملک نہیں خطے ترقی کرتے ہیں ۔

Leave a Reply