وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا مختلف نجی ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں اظہار خیال

اسلام آباد ۔ یکم مارچ(اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی روسی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے اپنے روسی ہم منصب سر گئی ویکرووچ لاوروف کو ٹیلی فون کیا ہے۔ جمعہ کو مختلف نجی ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان …

اسلام آباد ۔ یکم مارچ(اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی روسی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے اپنے روسی ہم منصب سر گئی ویکرووچ لاوروف کو ٹیلی فون کیا ہے۔ جمعہ کو مختلف نجی ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا جسے کسی شرط کے بغیر رہا کیا گیا ہے، پاکستان نے وہ کیا جو مناسب تھا، ہم نے بھارتی پائلٹ کو باعزت طریقے سے رکھا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت بند کرے، پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے اور کرتا رہے گا، وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کا اعلان بھی امن کے فروغ کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے دنیا میں سراہا بھی جا رہا ہے لیکن دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جو جارحیت اور دھمکی آمیز لہجے میں باتیں کرتا ہے اس کے خلاف بھارت ہی سے آوازیں اٹھ رہی ہیں اور لوگ اس کی منفی سوچ کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کے جارحانہ اقدام اور اس کی منفی سوچ کی وجہ سے بھارت کا سیکولر تشخص برباد ہو گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو پلوامہ حملے سے متعلق تحقیقات کی پیشکش کی لیکن بھارت نے ہمیں اس حوالے سے کچھ دیا ہی نہیں، ابھی پلوامہ حملے پر ایک بھارتی ڈوزیئر ملا ہے جس کا جائزہ لے رہے ہیں، ہم بھارت کے ساتھ تمام مسائل کے پرامن حل کے لیے بات چیت کرنے کو تیار ہیں لیکن بھارت تیار نہیں، اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری پاک بھارت مذاکرات کرائیں ہم تیار ہیں، میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا ہے کہ او آئی سی اجلاس میں شرکت نہیں کروں گا، او آئی سی اجلاس میں بھارت کو دعوت دینے پر سب کو تحفظات ہیں، بھارت کو او آئی سی میں مبصر کا درجہ دینے کی کوشش کی گئی تو مخالفت کریں گے، بھارت کو او آئی سی اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے ہم سے مشاورت نہیں کی گئی۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں بہت سے لوگ ہیں جو امن چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کے اندر سے مودی سرکار کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ہم پرامن لوگ ہیں جو کسی بھی قسم کی دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف ہیں لیکن اگر بھارت نے کوئی جارحیت کی تو ہم اپنے دفاع کا پورا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کا دنیا بھر میں سر فخر سے بلند ہے، ہماری مسلح و بہادر افواج دنیا کی بہترین افواج ہیں جن پر ہمیں فخر ہے، میں اپنی بہادر افواج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پاک فضائیہ کے پائلٹ حسن صدیقی کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بھارت کے جنگی طیاروں کو تباہ کر کے دشمن قوتوں کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ ہم وطن عزیز کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بھارت میں جنگ اور پاکستان میں امن کی بات ہو رہی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان مثبت اور حوصلہ افزا تھا، پاک بھارت تعلقات میں بہتری سے امریکا کو بھی فائدہ ہو گا، چین چاہتا ہے کہ پاک بھارت معاملات امن کی طرف بڑھیں جبکہ روس نے بھی پاک بھارت مذاکرات کروانے کی پیشکش کی۔

Leave a Reply