اسلام آباد ۔ یکم مارچ(اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا دورہ پاکستان (آج) ہفتہ کو متوقع ہے ان کا یہ دورہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال میں ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ مختلف نجی چینلز سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ابوظہبی میں منعقدہ او آئی سی سربراہ …
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا دورہ پاکستان کل متوقع ہے، عادل الجبیر کا یہ دورہ پاکستان اور بھارت کی کشیدہ صورتحال میں ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم مارچ(اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا دورہ پاکستان (آج) ہفتہ کو متوقع ہے ان کا یہ دورہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال میں ثالثی کی کوششوں کا حصہ ہے۔ مختلف نجی چینلز سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ابوظہبی میں منعقدہ او آئی سی سربراہ اجلاس سے واپسی پر ہفتہ کو سعودی وزیر خارجہ بھارت جائیں گے اور بعد ازاں پاکستان کا دورہ کریں گے۔ سعودی وزیر خارجہ کا یہ دورہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خواہش پر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے بھی دونوں ممالک کی قیادت سے ملاقات کرنے کیلئے اپنا خصوصی ایلچی پاکستان اور بھارت بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ روس نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے اور انہوں نے اپنے روسی ہم منصب کو ٹیلیفون کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن کے دوران روس کی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے اور دنیا پہلے سے کشیدہ صورتحال میں کمی کیلئے پاکستان کی کوششوں سے واقف ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گرفتار بھارتی پائلٹ کو کسی غیر ملکی ضمانت پر رہا نہیں کیا گیا بلکہ یہ اقدام وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر جذبہ امن و خیر سگالی کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گویٹرز کو بھی پاکستان اور خطے کے دورے کی دعوت دی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے وضاحت کی کہ بھارتی وزیر خارجہ کو او آئی سی کی طرف سے دعوت نہیں دی گئی بلکہ میزبان ملک نے بلایا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ حالیہ پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ کو دعوت دینے سے قبل پاکستان سے مشاورت کی جانی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بیک ڈور کے ذریعے او آئی سی میں مداخلت چاہتا تھا اور پاکستان نے اس اقدام پر مزاحمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ترکی اور ایران کے وزراءخارجہ نے او آئی سی کے سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کی جس کا اثر پڑے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک مرکزی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور صورتحال بد سے بدتر ہو گئی ہے۔ محبوبہ مفتی اور فاروق عبداللہ نے بھی اب بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جبر اور استبداد کے خلاف بولنا شروع کر دیا ہے۔ کشمیری عوام کے ساتھ سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیریوں نے اپنی جدوجہد کے ذریعے اس مسئلے کو اجاگر کیا ہے اور اس تحریک کو دہشت گردی سے منسوب کرنے کے بھارتی عزائم کو ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 35 اے میں ترمیم کی سازش سے ثابت ہو گیا ہے کہ وہ اپنی ناکامی کو جغرافیائی تبدیلی کے ذریعے چھپانا چاہتا ہے۔ وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو بھی سراہا اور کہا کہ امریکی انتظامیہ افغانستان سے اپنی افواج کے آسانی سے انخلاءکیلئے خطے میں امن کی خواہاں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا دورہ پاکستان اپریل میں متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد یوم پاکستان کی پریڈ میں 23 مارچ کو شرکت کیلئے بطور مہمان اعزاز پاکستان آ رہے ہیں جن کے دورے کا شیڈول طے ہو چکا ہے۔ افغان امن کوششوں کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مثبت خبریں آ رہی ہیں اور توقع ہے کہ خطے میں امن واپس آئے گا۔








