بھارت نے پاکستان کے خیر سگالی کے اقدامات کا مثبت جواب دینے کے بجائے جنگی جنون کو ہوا دی ہے، صدرآزاد جموں وکشمیر

اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی کے بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت نے پاکستان کے خیر سگالی کے اقدامات کا مثبت جواب دینے کے بجائے جنگی جنون کو ہوا دی ہے اور لائن آف کنٹرول کو آزادکشمیر کے شہریوں کے لئے قتل گاہ بنا دیا ہے، بین …

اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر پابندی کے بھارتی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت نے پاکستان کے خیر سگالی کے اقدامات کا مثبت جواب دینے کے بجائے جنگی جنون کو ہوا دی ہے اور لائن آف کنٹرول کو آزادکشمیر کے شہریوں کے لئے قتل گاہ بنا دیا ہے، بین الاقوامی برادری ہندوستان کی لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جنگی جرائم کا فوری نوٹس لے اور مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی ختم کرنے کے لئے بھارت پر دباﺅ بڑھائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر خالد محمود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ امیر جماعت اسلامی خالد محمودنے صدر آزادکشمیر کو بتایا کہ مقبوضہ کشمیر میں جماعت اسلامی پر امن اور سیاسی ذرائع سے حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کرتی ہے اور کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی تحفظ کا مطالبہ کرتی ہے اس کے باوجود بھارتی افواج نے جماعت اسلامی کے تمام دفاتر بند کئے ہیں ان کے کارکنوں کو گرفتار کیا ہے اور ان کے زیر انتظام چلنے والے سکولوں کو بھی بندکر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی خالد محمود نے صدر آزادکشمیر کو گیارہ مارچ کو کل جماعتی کشمیر کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ صدر آزاد کشمیر نے سرینگر اسلام آباد بہج بہارہ ، کپواڑہ اور ہندواڑہ میں شہادتوں اور فوجی کارروائیوں کی شدیدمذمت کی ۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ صرف فروری کے مہینے میں تیس کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف بھارت نے لائن آف کنٹرول پر بھاری اسلحہ سے فائرنگ اور گولہ باری کے ذریعے سویلین آبادی کو نشانہ بنایا ہے اور پوری لائن آف کنٹرول کو میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے، چن چن کر شہری آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جس میں اب تک کئی شہادتیں ہو چکی ہیں۔ حکومت آزادکشمیر اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے فوری اقدامات کر رہی ہے اور متاثرین کو معاوضے دینے کے لئے بھی متحرک ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھی ہے لیکن ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہوا ہے اور بین الاقوامی برادری کو اس بات کی آگاہی ہوئی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیاءمیں بلکہ پورے خطے میں امن و سلامتی ممکن نہیں ہے۔ انہوںنے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کے حق خودارادیت اور خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لئے اپنی کوششیں تیز تر کریں۔

Leave a Reply