حکومت متحرک سفارت کاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پراجاگر کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی،وفاقی وزیرعلی امین خان گنڈاپور

اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ حکومت متحرک سفارت کاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پراجاگر کرنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔انہوں نے یہ بات جموں و کشمیر کونسل فار ہیومین رائٹس کے صدر ڈاکٹر نذیر گیلانی اور پنجاب اسمبلی کے رکن واثق قیوم عباسی سے ملاقات کے دوران گفتگو …

اسلام آباد ۔ 2 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے کہا ہے کہ حکومت متحرک سفارت کاری کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پراجاگر کرنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔انہوں نے یہ بات جموں و کشمیر کونسل فار ہیومین رائٹس کے صدر ڈاکٹر نذیر گیلانی اور پنجاب اسمبلی کے رکن واثق قیوم عباسی سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ بھارت تمام تر بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید ترین پامالی کر رہا ہے، حکومت مقبوضہ کشمیر میںانسانی حقوق کی پامالی سے متعلق بھارت کا بدنما چہرہ پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی اور اس ضمن میں حکومت کو پچھلے چھ ماہ میں بڑی اہم کامیابیاں ملی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کی رپورٹ، برطانوی پارلیمنٹ اور یورپی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر کانفرنس اور گفتگو اس ضمن میں اہم پیش رفت ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بین الاقوامی سطح پر اپنی لابنگ کو مضبوط کر رہی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی شدید ترین پامالی سے متعلق عالمی رائے عامہ کی حساسیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اس کے علاوہ حکومت مسئلہ کشمیر کے حل کے متعلق قراردادوں کی حمایت کرنے والے ممالک سے بھی رابطے مضبوط کر رہی ہے۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ پچھلی حکومتوں میں حکمرانوں نے اپنے من پسند افراد کو نوازنے کے لئے نااہل افراد کو پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کا چئیرمین بنایا، موجودہ حکومت نے فخرامام جیسے تجربہ کار اور کشمیر ایشو پرعبور رکھنے والے شخص کو کشمیر کمیٹی کا چئیرمین لگا کر اس امر کا واضح ثبوت دیا ہے کہ حکومت مسئلہ کشمیر کے حل میں سنجیدگی رکھتی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ بھارت کی جنگی جنونیت اور ہٹ دھرم رویہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی،عالمی سطح پر پاکستان کے بہتر ہوتے تشخص اور مودی سرکار کی آئندہ انتخابات میں متوقع شکست سے خائف ہو کر پاکستان کے خلاف انتہائی قدم اٹھایا تا کہ ان تمام ایشوز سے عالمی توجہ ہٹائی جا سکے اور بھارت میں بی جے پی کا ووٹ بنک بڑھایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موثر اور منہ توڑ جواب کے باعث بھارت کے تمام عزائم خاک میں مل چکے ہیں اور پاکستان کو اخلاقی،سیاسی اور فوجی اعتبار سے برتری حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے قیدی پائلٹ کو رہا کر کے پاکستان نے ایک بار پھر اعلی ظرفی اور امن کا پیغام دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج اور پاکستان کے عوام بھارت کی ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیارہیںاور سفارتی،سیاسی اور عسکری محاذ پر بھارتی جارحیت کو منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر نذیر گیلانی نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے حکومت کی متحرک سفارت کاری کی تعریف کی اور کہا کہ جس انداز سے پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا مقابلہ کیا ہے وہ قابل تعریف ہے اور عمران خان ایک حقیقی عالمی مدبر کے طور پر نظر آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اُنکاادارہ اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اور کشمیری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بڑے موثر انداز سے بے نقاب کر رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیرسے متعلق اگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے اس مسئلے کے حل کے امکانات میں خاطرخواہ اضافہ ہو ا ہے ۔

Leave a Reply