اسلام آباد ۔2 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی روسی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر ممالک کشیدگی ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان کا کردار دنیا تسلیم کر رہی ہے، غلطی سے سرحد پار کر جانے والے شاکراللہ کی حفاظت پولیس، جیل حکام اور …
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا مختلف نجی ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں اظہار خیال

مزید خبریں
اسلام آباد ۔2 مارچ (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی روسی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر ممالک کشیدگی ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف افواج پاکستان کا کردار دنیا تسلیم کر رہی ہے، غلطی سے سرحد پار کر جانے والے شاکراللہ کی حفاظت پولیس، جیل حکام اور بھارت کی ذمہ داری تھی جو انہوں نے پوری نہیں کی، ہم امن کو ترجیح دیتے ہیں۔ مختلف نجی ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا جسے کسی شرط کے بغیر رہا کیا گیا ہے، پاکستان نے وہ کیا جو مناسب تھا، ہم نے بھارتی پائلٹ کو باعزت طریقے سے رکھا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت بند کرے، پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے اور کرتا رہے گا، پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ کی رہائی بھی امن کے فروغ کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے دنیا میں سراہا جا رہا ہے لیکن دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جو جارحیت کی بات کرتا ہے اس کے خلاف بھارت ہی سے آوازیں اٹھ رہی ہیں اور لوگ اس کی منفی سوچ کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کے جارحانہ اقدام اور اس کی منفی سوچ کی وجہ سے بھارت کا سیکولر تشخص برباد ہو گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو پلوامہ حملے سے متعلق تحقیقات کی پیشکش کی لیکن بھارت نے ہمیں اس حوالے سے کچھ دیا ہی نہیں، ابھی پلوامہ حملے پر ایک بھارتی ڈوزیئر ملا ہے جس کا جائزہ لے رہے ہیں، ہم بھارت کے ساتھ تمام مسائل کے پرامن حل کے لیے بات چیت کرنے کو تیار ہیں لیکن بھارت تیار نہیں، اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری پاک بھارت مذاکرات کا اہتمام کرائیں ہم تیار ہیں، میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے او آئی سی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا، او آئی سی اجلاس میں بھارت کو دعوت دینے پر سب کو تحفظات ہیں، بھارت کو او آئی سی میں مبصر کا درجہ دینے کی کوشش کی گئی تو مخالفت کریں گے، بھارت کو او آئی سی اجلاس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے ہم سے مشاورت نہیں کی گئی۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں بھی بہت سے لوگ امن چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کے اندر سے مودی سرکار کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ہم پرامن لوگ ہیں جو کسی بھی قسم کی دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف ہیں لیکن اگر بھارت نے کوئی جارحیت کی تو ہم اپنے دفاع کا پورا حق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کا دنیا بھر میں سر فخر سے بلند ہے، ہماری مسلح و بہادر افواج دنیا کی بہترین افواج ہیں جن پر ہمیں فخر ہے، میں اپنی بہادر افواج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پاک فضائیہ کے پائلٹ حسن صدیقی کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بھارت کے جنگی طیاروں کو تباہ کر کے دشمن قوتوں کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ ہم وطن عزیز کے دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہیں، بھارتی حملے کے جواب میں پاک فضائیہ نے اپنی صلاحیت کا واضح پیغام دیا اور دو بھارتی طیارے گرا کر اپنی دھاک بٹھا دی۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بھارت میں جنگ اور پاکستان میں امن کی بات ہو رہی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان مثبت اور حوصلہ افزا تھا، پاک بھارت تعلقات میں بہتری سے امریکا کو بھی فائدہ ہو گا، چین چاہتا ہے کہ پاک بھارت معاملات امن کی طرف بڑھیں جبکہ روس نے بھی پاک بھارت مذاکرات کروانے کی پیشکش کی۔








