اسلام آباد ۔ 12 مارچ (اے پی پی) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ملک بھر کے کسانوں کو درپیش مسائل کے حل خصوصاََ خیبر پختونخوا کے تمباکو کے کاشتکاروں کی مشکلات کا دیر پا حل تلاش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کی ایک 20رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اسپیکر نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کسانوں اور زرعی شعبے کو درپیش مسائل کو حل کرنے پر خصوصی توجہ …
قومی اسمبلی کسانوں اور زرعی شعبے کو درپیش مسائل کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ،سپیکر قومی اسمبلی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 12 مارچ (اے پی پی) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ملک بھر کے کسانوں کو درپیش مسائل کے حل خصوصاََ خیبر پختونخوا کے تمباکو کے کاشتکاروں کی مشکلات کا دیر پا حل تلاش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کی ایک 20رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اسپیکر نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کسانوں اور زرعی شعبے کو درپیش مسائل کو حل کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوراک کا تحفظ اور اقتصادی ترقی کے لحاظ سے پاکستان کا مستقبل جدید، دیرپا اور سائنسی زراعت پر منحصر ہے جن کے ذریعے ہم اپنی زرعی پیداوار میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کر سکتے ہیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے مذکورہ کمیٹی 6مارچ 2019ءکو قومی اسمبلی کی کاروائی طریق کارکے قواعدو ضوابط2007 کے قاعدہ(244(B کے تحت پیش کی جانے والی تحریک کے تناظر میں تشکیل دی ہے جو ایوان میں متفقہ طور پر منظور کی گئی ۔کمیٹی ملک میں زرعی اجناس خصوصاََ تمباکو سے متعلق معاملات کا جائزہ لے گی۔ کمیٹی اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے گی۔ اسپیکر کمیٹی میں حسب ضرورت ردوبدل کرنے کے مجاز ہونگے۔ کمیٹی ملک بھر کی نمائندہ کسان تنظیموںکو شنوائی کا موقع فراہم کرے گی اور چاورں صوبوں کے محکمہ ہائے زراعت کے درمیان پل کاکردار ادا کرے گی۔ علاوہ ازیں وفاقی سطح پر یہ وفاقی وزارت تحفظ خوراک سے بھی اشتراک کرے گی۔ اسپیکر نے کہا کہ زرعی پیداوار سے متعلق خصوصی کمیٹی کی تشکیل قومی اسمبلی کا فرسودہ زرعی نظام کو جدید سائنسی زراعت میں تبدیل کرنے، زرعی برآمدات میں اضافے اور مقامی کسانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے عزم کا اظہار ہے۔ اسپیکر نے کہا کہ پاکستان تمباکو کی پیداوار میں دنیا کا دسواں بڑا ملک ہے اور قومی خزانے میں اس کابڑا حصہ ہے۔ انہوں نے تمباکو کاشت کرنے والے کاشتکاروں اور تمباکو کی صنعت کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مقامی کاشتکاروں کے مفادات کو تحفظ دینے کی ضرورت پر زور دیا جو وفاقی حکومت کو ایک سو ارب سے زیادہ ریونیوفراہم کرتے ہیں۔ اسپیکر نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ خصوصی کمیٹی میں موجود اراکین اپنے تجربے کی روشنی میں ملک میں زرعی پیداوار کو فروغ دینے اور کسانوں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اسٹریٹجک روڈ میپ وضع کریں گے۔ کمیٹی میں اسپیکر قومی اسمبلی کے علاوہ اراکین قومی اسمبلی سید فخرامام، ریاض فتیانہ، انجینئر عثمان خان ترکئی، شیر اکبر خان، عمران خٹک، محمد ثنا اللہ خان مستی خیل، ملک محمد احسان اللہ ٹوانہ، محمد فاروق اعظم ملک، فیص اللہ، مجاہد علی، فضل محمد خان، میر خان محمد جمالی، شندانا گلزار خان، خالد حسین مگسی، راﺅمحمد اجمل خان، ساجد مہدی، سید نوید قمر، نواب محمد یوسف تالپور اور سید جاوید شاہ جیلانی شامل ہیں۔








