اسلام آباد ۔ 14 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فوادحسین نے عدالتی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک عام آدمی کویہ احساس نہیں ہو گا کہ اس ملک میں امیر آدمی اور عام آدمی کے لےے ایک ہی قانون ہے اس وقت تک پاکستان آگے نہیں جا سکتا، حکومت ،عدلیہ اور وکلا ءمل کر عدالتی اصلاحات کر سکتے ہیں ،عدالتی …
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فوادحسین کا ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسلام آباد سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 14 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فوادحسین نے عدالتی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک عام آدمی کویہ احساس نہیں ہو گا کہ اس ملک میں امیر آدمی اور عام آدمی کے لےے ایک ہی قانون ہے اس وقت تک پاکستان آگے نہیں جا سکتا، حکومت ،عدلیہ اور وکلا ءمل کر عدالتی اصلاحات کر سکتے ہیں ،عدالتی اصلاحات سے قومی معیشت میں بھی بہتری آئے گی ، ہائی کورٹ کے ججز کی تعیناتی کا طریقہ واضح ہونا چاہیے ،سپر یم کورٹ میں اسلام آباد ضلعی عدالتوں کے ججز روٹیشن بارے فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے گا ،سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماوں کے خلاف ہمارے دور اقتدار میں ایک مقدمہ بھی درج نہیں کیا گیا، ہر ضلع میں ہتک عزت کے مقدمات کی سماعت کے لئے دو ججز مقرر کرنے کے لئے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کوخط لکھیں گے ۔وہ جمعرات کوڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اسلام آباد میں خطاب کر رہے تھے ۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ دہشتگری کے خلاف جنگ میں ملک بھر کے وکلاء نے بھی خون کا نذرانہ پیش کیا ہے،آج جس ہال میں ہم بیٹھے ہیں یہ 2014ءمیں شہید ہونے والے وکلاءکے نام سے منسوب ہے ، پاکستان کے ہر طبقے نے دہشت گردی کے خلاف اپنا خون دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن میں پانچ ہزاراور ہائی کورٹ بار میںپونے چار ہزار وکلاءاپنی پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے حالات بہت بہتر ہو رہے ہیں،ملک میں کھیلوں کے میدان آباد ہو رہے ہیںاس بہتر ہوتی صورتحال میں وکلاءکا کی قربانیاں بھی شامل ہیں۔ وفاقی وزیر چوہدر فواد حسین نے کہا کہ میں بطور وکیل ڈسٹرکٹ بار اسلام آباد میں پریکٹس کرتا رہا ہوںمجھے خوشی ہے کہ آج بھی میں اپنی وکلاءبرادری کے ساتھ منسلک ہوں ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد بار کے ممبران بھی بڑے بڑے عہدوں پر رہیں ہیں مگر بد قسمتی سے انہوں نے اپنے اپنے گھر تو بہت بڑے کر لئے لیکن لیکن بار کی حالت پر توجہ نہیں دی ۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہاں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نئی عمارت میں منتقل ہو جائے تو پھر ضلعی عدالتوں کو وہاں منتقل ہونا چاہیے ۔کہا کہ جب وزیراعظم یہ بات کرتے ہیں کہ انتا بڑا وزیر اعظم ہاوس 11سو کنال پر بنا دیا ہے تو قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹنے والے یہ کہتے ہیں کہ اس کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف کمشنر اسلام آباد اور چیئرمیں سی ڈی اے سے بات کی جائے گی کہ وہ ضلعی عدالتوں کا دورہ کرکے وکلاءکے مسائل سنیں اور انکا فوری حل یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں ہم نے عام آدمی کو فائدہ دینا ہے تو عدالتی نظام میں اصلاح کی ضرورت ہے ،حکومت ،عدلیہ اور وکلا ءمل کر عدالتی اصلاحات کر سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا نیا ماسٹر پلان بن رہا ہے جس میں وزیر اعظم عمران خان نے بلند و بالا عمارتیں بنانے کی اجازت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم کوششیں کریں گے کہ تمام بار ایسوسی ایشنز کو ساتھ لیکر چلیں ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ججز روٹیشن کا مسلہ چل رہا ہے اور وہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے سپریم کورٹ کے فیصلے میں من و عن عمل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ۔انہوں نے کہا کہ سچی بات تو یہ ہے کہ کوئی برابری نہیں ہے امیر آدمی کے لئے جیل فائیوسٹار ہوٹل بنا ہوا ہے اور غریب آدمی کے لئے گھر جیل بنی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججز کو خط لکھ رہا ہوں کہ ہر ضلع میں ہتک عزت کے مقدمات کی سماعت کے لئے دو ججز مقرر کیئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے بار ایسوسی ایشن کے ساتھ قریبی روابط ضروری ہیں۔چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کا دل عام آدمی کے لیے دھڑکتا ہے وہ پاکستان کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں ان کی نیت اور کوشش پر شک نہیں کیا جا سکتا۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں بڑے بحران سے نکلے ہیں،اب ہم نے معاشی بحران سے نکلنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا سپورٹر مڈل کلاس کا آدمی ہے ہم کرپشن روکنے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔چوہدری فواد حسین نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی جو صورتحال ہے ہیمں عمران خان سے بہتر آدمی کوئی مل نہیں سکتا ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے نظام کی تبدیلی کے لئے ہمیں ووٹ دیا ہے ، حکومت کوئی بھی سمجھوتہ نہیں کریگی ۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے جیل بھرو تحریک کی بات کی ہے لگتا ہے سندھ میں ضرورت نہیں ہے وہاں کی جیلیں خود ہی بھر جائیں گی اور دیگر صوبوں کی پیپلز پارٹی ایک بیرک میں بند ہو جائے گی۔چوہدری فواد حسین نے کہا کہ انتقامی سیاست کی بات کرنے والے محض الزام تراشیاں کر رہے ہیں ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ایک دوسرے پر مقدمات بنائے نہ ہم نے کوئی جج بھرتی کیا ہے اور نہ کوئی مقدمہ بنایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سات ماہ میں حکومت کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا خزانہ بھی حیران ہو گا کہ سات ماہ میں اسے کسی نے لوٹا نہیں ہے۔








