بجلی کی تقسیم کے نظام میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے،وفاقی وزیر بجلی عمر ایوب خان

اسلام آباد ۔ 15 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی عمر ایوب خان نے کہاہے کہ حکومت عوام کو سستی توانائی کی فراہمی کے لئے اقدامات کر رہی ہے ،وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں توانائی کی مارکیٹ ہول سیل مارکیٹ بن جائے گی، ترکمانستان سے بجلی کی درآمد کے لئے ورکنگ گروپ قائم کر دیا ہے، ایران سے بھی گوادر اور ساحلی علاقوں کے لئے بجلی کی …

اسلام آباد ۔ 15 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر بجلی عمر ایوب خان نے کہاہے کہ حکومت عوام کو سستی توانائی کی فراہمی کے لئے اقدامات کر رہی ہے ،وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں توانائی کی مارکیٹ ہول سیل مارکیٹ بن جائے گی، ترکمانستان سے بجلی کی درآمد کے لئے ورکنگ گروپ قائم کر دیا ہے، ایران سے بھی گوادر اور ساحلی علاقوں کے لئے بجلی کی درآمد کے لئے مذاکرات ہو رہے ہیں، بجلی کی تقسیم کے نظام میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے ،نیٹ میٹرنگ سے متعلق کانفرنس جلد ہوگی، ویلنگ اور نیٹ میٹرنگ پر عمل درآمد یقینی بنائے جائیں گے، قومی بجلی پالیسی اور قابل تجدیدتوانائی پالیسی کا اعلان جلد کردیا جائے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی لمیٹڈ کی ڈیٹا ایکسچینج پورٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ عمر ایوب خان نے کہا کہ توانائی مارکیٹ کو ہول سیل مارکیٹ بنانے کے لئے رولز میں ترمیم کرنے کے ساتھ ساتھ رکاوٹیں دور کریں گے، اس سے صارفین کو فائدہ ہوگا بجلی کی پیداوار تقسیم اور ترسیل میں بھی بہتری آئے گی، توانائی کی قیمت میں بھی کمی ہوگی اور صارفین کی آمدنی میں سستی بجلی ملنے سے بچت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ نجی سیکورٹی کے لئے بھی یہ بہت عام ہے سستی بجلی سے صنعتوں کا پہیہ چلے گا، برآمدات میں اضافہ ہو گا ،کرنٹ اکاونٹ اور مالیاتی خسارہ جو ہمارے لئے ایک مسئلہ رہے ہیں ان میں بھی کمی لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی درآمد پر بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے اس وقت اس وقت ہم 60 فیصد بجلی تیل ، کوئلے اور گیس پیدا کر رہے ہیں، 30% بجلی ہائیڈل، 6 فیصد نیوکلیئر اور 4 فیصد قابل تجدید توانائی سے حاصل کر رہے ہیں۔انھوں نے کہاکہ 2030 تک بجلی کی پیداوارکو ہم 30فیصد تک قابل تجدید توانائی پر لے جائیں گے اور اس طرح 55 ہزار میگاواٹ کل بجلی کی پیداوار میں سے 18 ہزار میگا واٹ قابل تجدید توانائی سے حاصل ہوگی اس کے علاوہ 30 سے 40 فیصد بجلی ہائیڈل10 فیصد نیوکلیئر اور باقی تیل اور کوئلے سے حاصل ہوگی۔عمر ایوب خان نے کہا کہ اگلے کچھ دنوں میں نیٹ مانیٹرنگ سے متعلقہ کانفرنس ہو رہی ہے اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں نیٹ مانیٹرنگ پر عملدرآمد کرائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موسم سرما میں ہماری 8000 ہائیڈل بجلی 500 میں کورٹ پر آجاتی ہے ہماری جی ڈی پی کا وزن 300 ارب ڈالر ہے لیکن اگر غیر رسمی معیشت کو بھی شامل کریں تو یہ 600 ارب ڈالر تک پہنچ جاتی ہے۔ معاشی اور صنعتی ترقی سے بجلی کی طلب بڑھنے کی طرف بھی توجہ دینی ہے، ایران گوادر اور ساحلی علاقوں کو بجلی فراہم کرنا چاہتا ہے اس پر بات چیت ہو رہی ہے، ترکمانستان،افغانستان کے راستے پاکستان کو بجلی برآمد کرنا چاہتا ہے،اس کے لئے دو ہزار میگاواٹ کی ٹرانسمیشن لائن کے لیے ورکنگ گروپ قائم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویلنگ اور نیٹ میٹرنگ پر عملدرآمد کرائیں گے، بجلی کی پیداوار کے لحاظ سے 2030 تک ہماری مارکیٹ 40 ارب ڈالر تک پہنچائے گی۔انھوں نے کہا کہ لاہور مٹیاری ٹرانسمیشن لائن کا سنگ بنیاد اگلے چند ہفتوں میں رکھ دیا جائے گا جبکہ ٹرانسمیشن لائنز کے نظام میں بھی بہتری لا رہے ہیں،ہم نے ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنیںبھی بچھانی ہےں، یہ10 سے 15 ارب ڈالر کی مارکیٹ ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمارا ڈسٹربیوشن سسٹم پرانا ہے پھر بھی آئیسکو میپکو گیپکو اور لیسکو بہتر انداز میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ہدایت دے رکھی ہیں کہ بجلی چوری اور کنڈا کلچر کا خاتمہ کیا جائے اس سلسلے میں ہمارے اقدامات سے پچھلے تین چار ماہ میں ریونیو میں 40 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، پچھلے حکومت نے قابل تجدید توانائی پالیسی کا راستہ روک دیا تھا اب 44 کمپنیاں اس شعبے میں آرہی ہیں جو دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی اور 600 سے700میگا واٹ تک بجلی سسٹم میں آجائے گی ۔قابل تجدید پالیسی کا بھی ہم جلد اعلان کریں گے جبکہ قومی بجلی پالیسی اگلے تین ماہ میں آ جائے گی ۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سابق حکومت نے الیکشن کی وجہ سے بجلی کا ٹائر بھی روکے رکھا اور سابق حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے صرف آخری ایک سال میں 450 ارب روپے کا گردشی قرضے بڑھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہم نے بجلی چوری کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے ہیں، 18000 ایف آئی آر درج کرائی جاچکی ہیں،3 ہزار بجلی چوروں کو گرفتار کیا گیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ بجلی چوروں کو اتنی قیمت ادا کرناپڑے کہ وہ آئندہ بجلی چوری کا سوچیں بھی نہیں ۔عمر ایوب خان نے مزید کہا کہ ایک سال میں سابق حکومت نے زیادہ نقصانات والے فیڈرز میں بھی بجلی کی فراہمی جاری رکھی تاکہ الیکشن میں ووٹ لیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ستمبر میں اقتدار میں آنے کے بعد جنوری میں نیا ٹیرف دیا جبکہ 300 یونٹ تک ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے کوئی اضافہ نہیں کیا اور صرف ایک روپیہ 27 پیسے بجلی کی قیمت بڑھائی جس سے ان صارفین کو اثر پڑا جو بجلی کی قیمت زیادہ ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سرکل میں ایس ایز کھلی کچہری لگا رہے ہیں تاکہ صارفین کی شکایات دور کی جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی پاکستانی قوم ایک باہمت ،دلیر اور نڈر قومی اور پاکستانیوں نے ہر شعبے میں اپنی کامیابیوں کا لوہا منوایا ہے۔انہوں نے کہا کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور پشاور میں ہم نے کنڈا کلچر کا خاتمہ کیا ہے بجلی چوری کے خلاف اقدامات کی وجہ سے سسٹم میں 3 ہزار میگاواٹ بجلی شامل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بجلی کی طلب اور رسد بہتر بنانے کے ساتھ موسم گرما میں بجلی کی ترسیل میں بہتری کے لئے کوشش کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم جذبہ ایمانی سے سرشار ہیں اور ہر شعبے میں پاکستان کی کہ افرادی قوت نے کامیابی حاصل کی ہے۔انہوں نے سی پی پی اے ڈیٹا ایکسچینج پورٹل کے اجراءکو توانائی کے شعبے میں انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ اس سے پاکستان کے انرجی مارکیٹ میں ایک انقلابی تبدیلی آئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں وقت کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے اور اس شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم توانائی کے شعبہ میں دنیا میں مسابقت کا بھر پور ساتھ دے سکے اور دنیا کے ساتھ مل کر چل سکیں بعد ازاں وفاقی وزیر بجلی نے تربیت مکمل کرنے والے 25 نوجوان انجینئرز میں تعریفی سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے۔

Leave a Reply