وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر پُرامن بقائے باہمی، عالمی استحکام وسلامتی، ترقی و خوشحالی کےمساوی مواقعوں کی فراہمی اور عدل و انصاف جیسی تعمیری روایات سے اپنی وابستگی کا تجدید عزم کرتا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق عالمی یومِ امن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ علاقائی اور …
پاکستان نے پُرخلوص انداز میں تنازعات کے خاتمے، کشیدگی میں کمی اور عالمی امن کے فروغ کے لئے کاوشیں کی ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی یومِ امن پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔21ستمبر (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر پُرامن بقائے باہمی، عالمی استحکام وسلامتی، ترقی و خوشحالی کےمساوی مواقعوں کی فراہمی اور عدل و انصاف جیسی تعمیری روایات سے اپنی وابستگی کا تجدید عزم کرتا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق عالمی یومِ امن کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی امن کے فروغ میں پاکستان کا حالیہ تعمیری کردار قوم کیلئے باعث اعزاز ہے۔
پاکستان نے پُرخلوص انداز میں تنازعات کے خاتمے، کشیدگی میں کمی اور عالمی امن کے فروغ کے لئے کاوشیں کی ہیں۔ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی امن مشنز میں پاکستان نے ہمیشہ ہراول دستہ کے طور پر خدمات سر انجام دیں ہیں جو ہمارا قومی فخر ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال یہ عالمی دن ’’امن میں سرمایہ کاری ،سب کے لیے، ہر جگہ، ہر روز‘‘ کی زیر عنوان منایا جا رہا ہے ۔ یہ موضوع اجاگر کرتا ہے کہ امن محض جنگی تنازعات کی عدم موجودگی کا نام نہیں بلکہ اس کے حقیقی ثمرات کا اظہار عالمی اور قومی سطح پر انسانوں کی معاشی و معاشرتی آسودگی، بنیادی حقوق کے تحفظ، عزت واحترام، یکساں مواقعوں اور شمولیت سے ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلا امتیاز اور بلا تفریق رنگ و نسل مساویانہ معاشرتی رویہ ہی پائیدار امن کا ضامن ہے۔ یہ رویہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر نفرت، تشدد، تعصب جیسے منفی جذبات کے سد باب سے ہی قائم کیا جا سکتا ہے۔
اسلامی تعلیمات اور آئین پاکستان انسانی وقار اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت کے ساتھ معاشرتی امن کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔حکومت کی پالیسیز اس امر کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں کہ تمام شہریوں، بالخصوص خواتین، بچوں، اقلیتوں، خصوصی افراد اور دیگر کمزور و محروم طبقات کے مساوی حقوق و فرائض کو مؤثر تحفظ فراہم کیا جائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے قومی ایکشن پلان برائے انسانی حقوق 2026 کے ذریعے انسانی حقوق کے تحفظ اور معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیٔے ایک جامع لائحہ عمل اپنایا ہے۔اس پروگرام کا مقصد میں ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کے فروغ، نفرت انگیز تقاریر اور امتیازی سلوک کی روک تھام، اقلیتوں اور کمزور طبقات کے تحفظ کو مضبوط بنانے، انصاف تک رسائی بہتر کرنے اور ادارہ جاتی احتساب کو مؤثر بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات شامل ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ امن کی دائمی مضبوطی کا انحصار سماج کے اجتماعی شعور اور انفرادی فہم پر ہوتا ہے اسی تناظر میں تعلیمی نظام میں اس عنصر کی تربیت نا گزیر ہے۔ جامعات میں شہری ذمہ داری، رواداری اور تنوع کے احترام کو تقویت دینا سماجی امن کا ضامن ہے۔قومی ایکشن پلان کے تحت انسانی حقوق اور امن کی تعلیم کو شامل کرنا ہماری اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ آنے والی نسلوں میں احترام، احساسِ ہمدردی اور پُرامن بقائے باہمی کی ثقافت کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متاثرین کا تحفظ اور اداروں کی جانب سے بروقت اور مؤثر ردِعمل شہریوں کا ریاست پر اعتماد کا مظہر ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی یومِ امن پر میں تمام شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ نفرت، عدم برداشت اور امتیازی سلوک جیسی منفی اقدار کے سد باب میں اپنا کردار ادا کریں اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی، مکالمے اور احترام کو فروغ دیں۔ امن کی ثقافت کو مضبوط بنانا حکومتی اداروں، سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں، اساتذہ، ذرائع ابلاغ، معاشرے اور خاندان سمیت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان اور پوری دنیا کو پائیدار امن اور خوشحالی عطا فرمائے۔








