اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے تیار کردہ الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز ریگولیشنز کا اجراء کر دیا گیا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے پیر کو یہاں ایک تقریب میں ان ریگولیشنز کا باضابطہ طور پر اجراء کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس اہم پیشرفت پر مبارکباد دی اور …
معیشت میں انقلاب جدت اور ڈیجیٹلائزیشن کے اسی راستے سے آئے گا، وزیر خزانہ اسد عمر

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ یکم اپریل (اے پی پی) سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے تیار کردہ الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز ریگولیشنز کا اجراء کر دیا گیا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے پیر کو یہاں ایک تقریب میں ان ریگولیشنز کا باضابطہ طور پر اجراء کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو اس اہم پیشرفت پر مبارکباد دی اور کہا کہ معیشت میں انقلاب جدت اور ڈیجیٹلائزیشن کے اسی راستے سے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ عموماً لوگ روایتی بینکنگ نیٹ ورک سے باہر رہنے کو اپنے کے لئے فائدہ مند سمجھتے ہیں لیکن الیکٹرانک منی ٹرانسفر جیسی خدمات و سہولیات سے استفادہ کرنے کے لئے لوگ اب ڈیجیٹل نیٹ ورک میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت دیگر مسائل کے علاوہ اشرافیہ کا بھی شکار رہی ہے، ادائیگیوں و وصولیوں کا الیکٹرانک نظام معیشت کی بنیادی تبدیلی کا جزو بن سکتا ہے۔ اس حوالے سے ای منی ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ کا بھی موثر نظام وضع کرنے کی ضرورت ہو گی تاکہ اس کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم ٹیکنالوجی اور اس وابستہ دیگر شعبوں میں دنیا سے پہلے ہی بہت پیچھے ہیں، ہمیں اس سلسلے میں مسلسل آگے بڑھنا ہو گا اور جدت کے لئے اپنے بینکنگ کے نظام کو کھولنا ہو گا۔ قبل ازیں ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے ای منی انسٹی ٹیوشنز ریگولیشنز کی اہمیت اور مقاصد کے بارے میں بتایا اور کہا کہ یہ ریگولیشنز ادائیگیوں اور وصولیوں کے نظام میں جدت اور نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ شراکت داروں سے مشاورت کی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس نئی پیش رفت سے ادائیگیوں کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں آئیں گی۔ اس موقع پر سٹیٹ بینک کے ڈائریکٹر پیمنٹ سسٹم سہیل جبار نے ای ایم آئی ریگولیشنز کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ نان بینکنگ پیمنٹ سروسز کا ایک نظام ہو گا جسے سٹیٹ بینک ریگولیٹ کرے گا، اس میں روایتی بینکوں کے بغیر ادائیگیاں اور وصولیاں کی جا سکیں گی، دیگر کئی ممالک میں ای ایم آئی کے لئے ریگولیٹری فریم ورک اپنائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریگولیشنز ای ایم آئیز کی رجسٹریشن، لائسنس کے اجرائ، درکار سرمایہ اور فنڈز کی ضروریات، صارفین کو پیش کی جانے والی خدمات و سہولیات، ای منی انسٹرومنٹس کی حدود اور اس نظام کے تحت ہونے والی ٹرانزیکشنز کی مانیٹرنگ پر مبنی ہیں۔








