اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نوجوانوں بالخصوص طالب علموں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی عملی زندگی میں معاشرے کی ترقی کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں، نوجوانوں کو علم و تحقیق پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو درپش چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار رکھنا ہو گا، …
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا نمل کے 14 ویں کا نووکیشن سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نوجوانوں بالخصوص طالب علموں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی عملی زندگی میں معاشرے کی ترقی کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں، نوجوانوں کو علم و تحقیق پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو درپش چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار رکھنا ہو گا، ٹیکنالوجی کے حوالے سے بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اس ضمن میں پاکستانی نوجوانوں کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ان خیالات کا ا ظہار انہوں نے جمعرات کو نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوائجز (نمل)کے 14 ویں کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے مختلف شعبوں میں ڈگریاں حاصل کرنے والے طالب علموں، ان کے اساتذہ اور والدین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان طالب علموں کی کامیابی محنت کے ساتھ ساتھ ان کے اساتذہ اور والدین کی کوششوں کا نتیجہ ہے، اساتذہ اور والدین نے تعلیم پر توجہ دیتے ہوئے ان طلباءکی کردار سازی میں بھی بھرپور حصہ ڈالا ہے اور انہیں معاشرتی اقدار سکھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے ہر وقت سیدھا راستہ دکھانے کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا ہے اور اللہ ہماری رگ رگ سے واقف ہے۔ انہوں نے کہاکہ معاشرے کے اندر سچ اور جھوٹ کا مقابلہ جاری رہتا ہے ۔ کامیابیوں اور خوشیوں کا تعلق مال و دولت سے نہیں بلکہ حقیقی خوشی کا تعلق ہمدردی، تقویٰ اور یقین سے ہے۔ اسلامی تعلیمات میں بھی ہمیں نیکی، اچھائی، ہمدردی اور تقویٰ کا درس دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی کامیابی کے لئے محنت کرنی چاہیے لیکن اس موقع پر اپنے ارد گرد موجود لوگوں و رشتہ داروں کا بھی خیال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نمل یونیورسٹی سٹریٹ چلڈرن کے لئے جو کام کررہی ہے وہ قابل تعریف ہے لیکن نادار طبقوں کے لئے ہمیں مل جل کر کام کرنا چاہیے۔ محنت سے چند سال میں یہ طلباءاعلیٰ مقام پر پہنچ جائیں گے لیکن انہیں اپنے دل میں نادار طبقوں کااحساس بھی ضرور رکھنا چاہیے کیونکہ زندہ قومیں غریب لوگوں اور نادار طبقوں کا پورااحساس اور درد رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب ہونے والے طالب علموں کو پانی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا کیونکہ جتنا بڑا عہدہ ہوتا ہے اتنی ہی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز بھی ذمہ داریوں کے بارے میں سوال کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ دنیا میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے، ہر طرف ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے۔ نئے دور میں مقابلہ سخت ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں روز بروز جدت آ رہی ہے، ہمارے نوجوانوں کو عصر حاضر کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے آپ کو مقابلے کے تیار کرنا ہو گا کیونکہ علم ہی قوم کی ترقی کا شارٹ کٹ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی قوم عظیم ہے، اس قوم کے دل میں انسانیت کا جذبہ اور درد موجود ہے۔ جب پاکستان میں زلزلہ آیا تو پاکستانی قوم ریاست کی جانب دیکھنے کی بجائے خود مدد کرنے کے لئے آگے آئی۔ صدر نے کہا کہ ہم نے 35 لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی میزبانی کی، آج بھی پاکستان میں 20 سے 25 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں۔ پوری قوم اور کسی سیاستدان نے افغان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی کی مخالفت نہیں کی بلکہ انسانی جذبے کے تحت ہر ممکن تعاون فراہم کیا لیکن اس کے برعکس بعض مغربی ممالک نے چند ہزار پناہ گزینوں کو بھی اپنے ملکوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مذہب انسانی ہمدردی کی تعلیم دیتا ہے اور یہ ہمارے معاشرے میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر معاشرے میں دوسرے لوگوں کو ساتھ لے کر نہ چلا جائے تو ذہنی دباﺅ اور فرسٹریشن پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نمل یونیورسٹی لینگوئج کے شعبہ میں نمایاں خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں موبائل ایپ کے ذریعے الفاظ کو دوسری زبانوں میں ڈھالا جا سکے گا، اس سے کمیونیکیشن میں اضافہ ہو گا تاہم ہمیں ایک دوسرے سے رابطے اور بات چیت کے دوران الفاظ کے چناﺅ میں احتیاط کرنا ہو گی۔ ممالک اور معاشرے میں تنازعات پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن ہمیں سخت اور تکلیف دہ الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کامیابی سے انتہا پسندی پر قابو پایا ہے۔ کئی سال پہلے کراچی شہر بد امنی کاشکار تھا لیکن اب وہاں امن و امان قائم ہو چکا ہے۔ انتہا پسندی بھارت اور بعض مغربی ممالک میں پھیل رہی ہے ۔ اسلامو فوبیا کا شور مچا ہے۔ صدر نے پاک بھارت حالیہ کشیدہ صورتحال کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے جب پاکستان میں جارحیت کی تو ہم نے صبر و تحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے امن پسندی کا ثبوت دیا۔ بھارتی طیارے پاکستانی حدود میں داخل ہوئے تو ہم نے ان کا منہ توڑ جواب دیا تاہم جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی پائلٹ کو رہا کر دیا جو اس امرکا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان ایک امن پسند اور ذمہ دار ملک ہے۔ صدر نے کہاکہ پاکستانی قیادت، فوج اور عوام کا یکساں موقف ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں جنگ نہیں لیکن ہماری اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ صدر مملکت نے مختلف شعبوں میں کامیاب ہونے والے طالب علموں میں ڈگریاں اور میڈلز تقسیم کئے۔ نمل یونیورسٹی کے ریکٹر میجر جنرل (ر) ضیاءالدین نجم نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے یونیورسٹی کی سالانہ کارکردگی، مستقبل کی منصوبہ بندی اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ چند سالوں میں نمل یونیورسٹی کی فیکلٹی میں شامل پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد 300 سے بڑھ جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ سی پیک کے تناظر میں گوادر اور ارومچی میں یونیورسٹی کے کیمپس قائم کئے گئے ہیں۔








