صدرآزاد کشمیر سردار مسعود خان کا بین الاقوامی کانگریس”کشمیر کی اسلامی تاریخ، ثقافت اور ورثہ“ کے افتتاحی سیشن سے خطاب

اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ او آئی سی سمیت تمام عالمی برادری کشمیری عوام کو بھارتی تسلط سے نجات دلانے کے لئے کردار ادا کرے، اسلامو فوبیا غلط تاثر پر مبنی ہے، اسلام امن کا مذہب ہے اور پوری انسانیت کی سلامتی کی ضمانت دیتا ہے، کشمیر میں تاریخی اسلامی ورثہ کے تحفظ و …

اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ او آئی سی سمیت تمام عالمی برادری کشمیری عوام کو بھارتی تسلط سے نجات دلانے کے لئے کردار ادا کرے، اسلامو فوبیا غلط تاثر پر مبنی ہے، اسلام امن کا مذہب ہے اور پوری انسانیت کی سلامتی کی ضمانت دیتا ہے، کشمیر میں تاریخی اسلامی ورثہ کے تحفظ و بحالی کی ضرورت ہے۔ وہ جمعرات کو دو روزہ ”کشمیر کی اسلامی تاریخ، ثقافت اور ورثہ بین الاقوامی کانگریس“ کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وفاقی وزیر برائے تعلیم، قومی تاریخ و ادبی ورثہ شفقت محمود، ڈائریکٹر جنرل او آئی سی ریسرچ سنٹر فار اسلامک ہسٹری، آرٹ اینڈ کلچر پروفیسر حلیت ایرن اور سیکرٹری قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن انجینئر عامر حسن نے بھی خطاب کیا۔ صدر آزاد جموں و کشمیر نے کانگریس کے انعقاد کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے اس کے شرکاءکا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اس سے کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرنے اور یہاں کی اسلامی تاریخ و ورثہ کو روشناس کرانے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں اسلام فوبیا غلط تاثر پر مبنی ہے، اسلام امن کا مذہب ہے اور پوری انسانیت کی سلامتی کی ضمانت دیتا ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے سیاحتی اور تاریخی ورثہ کے حامل مقامات کو اجاگر کیا اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تاریخی اسلامی مقامات کے تحفظ و بحالی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر پاکستان کا پر امن ترین علاقہ ہے لیکن بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ کشمیر کے عوام سخت مصیبت میں ہیں، وہاں کے بچے اور عورتیں بے یارو مددگار ہیں اور حالیہ عرصہ میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے مظالم بڑھ گئے ہیں، ہم بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں اور او آئی سی سمیت تمام عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشمیری عوام کو بھارتی تسلط سے نجات دلانے کے لئے کردار ادا کریں اور ان کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا پر امن حل تلاش کیا جائے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ 1947ءمیں جموں و کشمیر کی گلیوں میں پاکستان کی آزادی منائی گئی اور آج بھی وہاں پاکستان زندہ باد کا نعرہ سب سے بلند نعرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر اور پاکستان یکجان ہیں۔ اس موقع پر وفاقی وزیر شفقت محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں اسلام فوبیا کی حالیہ لہر کے پس منظر میں اس کانگریس کا انعقاد بہت اہم ہے، مسلمانوں کو دنیا میں نفرت کی بنیاد پر مارا گیا اور یہ نفرت دیگر شعبوں میں بھی ظاہر ہو رہی ہے، مختلف حالات و واقعات میں اسلامی تاریخ کے قیمتی نوادرات کی منتقلی کے ساتھ ساتھ تاریخی ورثہ کے حامل مقامات کو نقصان بھی پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اسلامی ثقافتی ورثہ کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، اس سلسلے میں پاکستان میں تاریخی مقامات کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے تحفظ اور فروغ کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کانگریس کشمیر اور پاکستان کے تاریخی تعلقات کے حوالے سے بھی اہمیت کی حامل ہے جو مشترکہ تاریخ اور ورثہ کے حامل ہیں، کانگریس کے انعقاد سے اس مشترکہ تاریخ و ورثہ کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔ قبل ازیں ڈائریکٹر جنرل او آئی سی ریسرچ سنٹر فار اسلامک ہسٹری، آرٹ اینڈ کلچر پروفیسر حالید ایرن نے اپنے خطاب میں اس اہم کانگریس کے انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ جنگ زدہ علاقوں میں ثقافتی و تاریخی ورثہ کو نقصان پہنچتا ہے، جس کی حفاظت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانگریس کے انعقاد سے کشمیر کے اسلامی، تاریخی ورثہ کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی اور اس کی سفارشات تاریخی، اسلامی ورثہ کے تحفظ اور اس کے بارے میں لوگوں کے علم میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی۔ قبل ازیں سیکرٹری قومی تاریخ و ادبی ورثہ انجینئر عامر حسن نے کانگریس کے شرکاءکا خیر مقدم کرتے ہوئے کانگریس کے اغراض و مقاصد کے بارے میں آگاہ کیا۔ کانگریس کا بنیادی مقصد کشمیر کی اسلامی تاریخ اور ثقافتی ورثہ سے آگاہی اور دانشوروں سے استفادہ اور خطے کے اسلامی ورثہ کو عالمی و عوامی سطحوں پر اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانگریس کی تجاویز کی روشنی میں کشمیر کی تاریخ و ثقافتی ورثہ کے حوالے سے پالیسی بنانے میں مدد ملے گی۔

Leave a Reply