اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کیا ہے اور اس حوالے سے تمام شراکت داروں بشمول اپوزیشن جماعتوں، ملٹری اور انٹیلی جنس اداروں کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ جمعرات کو یہاں سفارتکاروں کے ایک وفد کو کالعدم تنظیموں کے خلاف کئے جانے والے حکومتی …
وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی کی سفارتکاروں کے ایک وفد کو کالعدم تنظیموں کے خلاف حکومتی اقدامات پر بریفنگ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاﺅن شروع کیا ہے اور اس حوالے سے تمام شراکت داروں بشمول اپوزیشن جماعتوں، ملٹری اور انٹیلی جنس اداروں کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ جمعرات کو یہاں سفارتکاروں کے ایک وفد کو کالعدم تنظیموں کے خلاف کئے جانے والے حکومتی اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن اور مذہبی جماعتوں سمیت تمام شراکت داروں کو کالعدم تنظیموں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کے حوالے سے اعتماد میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی ہمارا اپنا فیصلہ ہے جو نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیا گیا ہے اور تمام سیاسی قوتوں نے نیشنل ایکشن پلان پر 2014ءمیں دستخط کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا پیغام بہت واضح اور کلیئر ہے کہ کسی کو بھی ریاست کی رٹ کو چیلنج نہیں کرنے دیا جائے گا، ہم اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ وزیر مملکت نے نان سٹیٹ ایکٹرز کے خلاف حکومت کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کارروائی سے سب سے بہت واضح پیغام دیا گیا ہے کہ کسی کو بھی حکومتی کارروائیوں یا شرائط میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کا ایف اے ٹی ایف سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ اقدامات مستقبل کی نسلوں کی فلاح و بہبود کے لئے کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام فیصلے اتفاق رائے سے کئے جاتے ہیں اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں آن بورڈ ہیں۔ وزیر مملکت شہریار خان آفریدی نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف یا کسی اور ادارے کے دباﺅ میں کوئی کارروائی نہیں کر رہا بلکہ یہ ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کالعدم تنظیموں کے خلاف جامع سطح پر کارروائی کے حوالے سے وزراءاور سیکرٹریز کی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی ہیں تاکہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کو زیادہ سے زیادہ موثر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کئے جانے والے اقدامات مثالی ہیں اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ آج کے گلوبل ویلج میں کوئی بھی ملک انفرادی طور پر زندہ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک شخص کا انفرادی کام پورے ملک، عوام یا کسی مخصوص مذہب کے ساتھ نہیں جوڑا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دنیا کو محفوظ بنانے کے لئے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی ہے لیکن دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ 1960ءکی دہائی میں تیزی سے ترقی کرنے والا ملک معاشی ترقی میں پیچھا چلا گیا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں قانون اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کا عمل جاری ہے اور حتیٰ کہ وزیراعظم عمران خان نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ بھی قانون کے سامنے جوابدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام ادارے اور پورا پاکستان ایک پیج پر ہے اور سب مل کر ایک ٹیم کے طور پر فیصلے کر رہے ہیں اور کوئی بھی پاکستان کو اپنی شرائط پر ڈکٹیٹ نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وفاق المدارس، وفاق، اتحاد، تنظیم اور اسلامی نظریاتی کونسل سمیت تمام مذہبی فرقوں کے علماءسے ملاقات کی ہے اور ان سب نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی جانب سے کئے گئے تمام فیصلوں کی ہر سطح پر بھرپور حمایت کریں گے۔ وزیر مملکت نے سفارتکار برادری پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے حقیقی اور مثبت تشخص کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انسانی سمگلنگ، منی لانڈرنگ اور منشیات کے خلاف جامع کارروائیاں کر رہے ہیں، اس مقصد کے لئے ہم اپنی سرحدوں پر باڑ نصب کر رہے ہیں اور تمام داخلی و خارجی پوائنٹس کو مانیٹر کرنے کے ساتھ ساتھ پیشہ ورانہ طور پر سرحدوں کی پٹرولنگ بھی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بینکنگ چینلز کی مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ حوالہ اور ہنڈی کے خلاف بھی اقدامات کر رہے ہیں اور ملک کے تمام ایئرپورٹس پر رقوم کی ناجائز منتقلی کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں اس حوالے سے کسٹمز، ایف آئی اے، اینٹی نارکوٹکس فورس اور ایئرپورٹ سیکورٹی فورس رقوم کی غیر قانونی ترسیل اور منشیات کی سمگلنگ کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کر رہے ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت تمام مذہبی اقلیتوں سمیت ملک بھر کے عوام کے مساوی حقوق کی فراہمی کو بھی یقینی بنا رہے ہیں اور ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغواءوغیرہ کے خلاف کئے گئے اقدامات اس کی مثال ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جو کوئی بھی اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث پایا گیا اس کو مثال بنا دیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے نئی ویزہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سرمایہ کاری اور سیاحت سمیت کاروبار کے لئے کھول دیا گیا ہے کیونکہ پاکستان میں سیاحوں کے لئے دنیا کے مقابلے میں کہیں زیادہ پرکشش ترین سیاحتی مقامات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پوری دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہماری مسلح افواج اور عوام نے دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر قربانیاں دے کر آپ پاکستان کو دنیا کے پر امن ترین ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت 50 ممالک کے عوام کو پاکستان آمد پر ویزہ کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ 175 ممالک کے شہری آن لائن ویزہ کی سہولت حاصل کر سکتے ہیں۔ مزید برآں 68 تا 98 ملکوں کے لوگوں کے لئے کاروباری ویزے بھی دستیاب ہیں، جہاں تک این او سیز کا تعلق ہے تو وہ بھی فراہم کئے جا رہے ہیں اور آئندہ دو ہفتوں کے دوران ویزہ پالیسی کے حوالے سے تمام تر اقدامات کو حتمی شکل دیدی جائے گی۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ مالی مسائل کے باوجود پاکستان نے ویزہ کی فیسوں میں بھی کمی کی ہے اور پاکستانی بڑی باہمت قوم ہے جو ہر طرح کے مسائل کا بہادری سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے خصوصی اقدامات کر رہی ہے اور اب دنیا بھر کے ممالک علاقائی سلامتی، امن اور ترقی کے حوالے سے پاکستان کے مثبت کردار کے معترف ہیں۔ افغان امن عمل کے حوالہ سے پاکستان کی معاونت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان فاصلوں کو کم کرنے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔








