اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ وزارت مواصلات رواں ہفتہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی ( این ایچ اے ) بزنس پلان جاری کرے گی، شاہرات پر تشہیرات اور دوسری کاروباری سرگرمیوں کیلئے کھلے عام نیلامی کے ذریعے مواقع فراہم کئے جائیں گے، احسن اقبال اپنی کرپشن چھپانے کیلئے بڑھکیں مارنے کی بجائے مجھے سپریم کورٹ میں …
وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید کی بیٹ رپورٹرز سے ملاقات کے موقع پر گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ وزارت مواصلات رواں ہفتہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی ( این ایچ اے ) بزنس پلان جاری کرے گی، شاہرات پر تشہیرات اور دوسری کاروباری سرگرمیوں کیلئے کھلے عام نیلامی کے ذریعے مواقع فراہم کئے جائیں گے، احسن اقبال اپنی کرپشن چھپانے کیلئے بڑھکیں مارنے کی بجائے مجھے سپریم کورٹ میں لے جانے کا شوق بھی پورا کر لے، سات ماہ میں، میں نے 10 ارب 79 کروڑ 30 لاکھ روپے ریونیو میں اضافہ کیا، 4 ارب 30 کروڑ روپے کی برآمدگی کی،امیر مقام کو شاہراہ کی تعمیر کا 227 ملین کا ٹھیکہ غیر قانونی طور پر دیا گیا تھا، امیر مقام کو شاہراہ کی تعمیر کا 227 ملین کا ٹھیکہ غیر قانونی طور پر دیا گیا، سندھ کے دو طاقتور ٹھیکیداروں کو 170 ارب کے منصوبے فزیبلٹی کے بغیر دیئے گئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو بیٹ رپورٹرز سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور۔عبدالحکیم موٹروے کے افتتاح کی تاریخ میری مرضی سے طے ہوئی، افتتاح میں شریک نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی اختلافات ہیں، تختی لگانا اور فیتہ کاٹنا اہمیت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی وزارت میں ہم نے احتساب کا عمل شروع کیا، 5 خصوصی منصوبوں کا سپیشل آڈٹ کرایا، ایک منصوبہ میں 800 ملین کی ریکوری کی، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر عملدرآمد یقینی بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ این ایچ اے کی ہاﺅسنگ سکیم میں چھوٹے ملازمین سمیت ورکروں کی رقم اور اراضی کو خوردبرد کیا گیا اور 800 ملین کی ادائیگی بھی ٹھیکیدار کو کر دی گئی، یہ منصوبہ 2003ءمیں شروع کیا گیا اور 2009ءمیں بولی دہندہ کو ادائیگیاں کی گئیں، ایف آئی اے کو ہاﺅسنگ سوسائٹی کی کرپشن کے بارے میں تحقیقات کیلئے کہا جو تقریباً مکمل ہو چکی ہیں، ہمیں افسوس ہے کہ سوسائٹی میں جمع پونجی لگانے والے بعض چھوٹے ملازمین اب اس دنیا میں نہیں رہے، ان کا پیسہ کھانے نہیں دیں گے، ان کے لواحقین کو حق دلایا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملتان تا سکھر موٹروے منصوبہ 245 بلین سے بڑھا کر 292 بلین میں دیا گیا جس کیلئے احسن اقبال اور نواز شریف نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا جبکہ اس منصوبہ کی بولی 2015ءمیں ہونی تھی، اس منصوبہ میں این ایچ اے کے حکام کو آن بورڈ نہیں لیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ احسن اقبال کی طرف سے بھجوائے گئے نوٹس پر میں خیرمقدم کرتا ہوں، وہ شاید بھول گئے تھے کہ میں نے انہیں یاد کرایا کہ آپ نے کبھی اسمبلی میں اس پر بات کرنے کا کہا اور پھر مجھے سپریم کورٹ بلانے کا دعویٰ کیا، آپ سپریم کورٹ جانے کا شوق پورا کریں، میں حاضر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں 120 ٹھیکے دیئے گئے جن میں سے نیب سکھر نے لاڑکانہ اور ملتان دو منصوبوں کے حوالہ سے این ایچ اے حکام کو طلب کیا جس پر پتہ چلا کہ اشرف ڈی بلوچ اور نیاز محمد خان کو 17 ٹھیکے غیر قانونی طور پر دیئے گئے ہیں جن کی مالیت 124 بلین بنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف دور میں 17 لاکھ سالانہ پر ریسٹ ایریا ٹھیکہ پر دیا گیا جس کیلئے ہم نے سرعام نیلامی کی تو اس کا ٹھیکہ 45 لاکھ روپے ماہانہ پر حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وزارت مواصلات رواں ہفتہ یا آئندہ ہفتہ این ایچ اے بزنس پلان متعارف کرائے گی جس میں تشہیری اور دوسری کاروباری سرگرمیوں کیلئے مواقع فراہم کئے جائیں گے، اس کام کو صاف و شفاف رکھنے کیلئے ہم اخبار میں اشتہار دیں گے، ابتدائی طور پر کسی ایک مصروف سڑک کو رول ماڈل کے طور پر منتخب کیا جائے گا اور 6 ماہ کے اندر اندر تمام شاہرات کو جے ایس پر لے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موٹروے پر ریسٹ ایریاز اور موٹلز پر اشیاءمہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں جس کا ہم نے نوٹس لیا اور مقامی انتظامیہ کو تین بار ان قیمتوں کو اعتدال رکھنے کیلئے خطوط ارسال کئے جس کے نتائج مثبت نہیں ملے، اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ خود جا کر قیمتوں کی نگرانی کریں گے اور وہیں مقامی انتظامیہ کو بلا کر کارروائی کی جائے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے جب سے وزارت کا قلمدان سنبھالا، سات ماہ میں 10 ارب 79 کروڑ 30 لاکھ روپے کا اضافہ ریونیو میں کیا اور 4 ارب 30 کروڑ روپے کی ریکوری کی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی اے ڈی اے کی مد میں لاکھوں روپے وصول کرنے والے 53 افسران سے بھی ریکوری کی گئی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ وزارت کے 650 گھروں پر سندھ میں بااثر لوگوں نے قبضہ کر لیا ہے جسے واگزار کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ہم نے تمام معلومات جمع کر لی ہیں جلد آپریشن کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چکدرہ سے چترال کے درمیان سیاحت کے فروغ کیلئے کورین حکومت کے تعاون آئندہ 6 ماہ تک منصوبہ پر کام شروع کر دیا جائے گا۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ سے پشاور موڑ تک میٹرو بس منصوبہ سی ڈی اے کی ذمہ داری ہے، ہم نے اپنے حصے کا کام کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان تا سکھر موٹروے منصوبہ وقت سے پہلے مکمل کریں گے، اس کی مقررہ مدت ستمبر 2019ءہے جسے اگست میں مکمل کر لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سکھر۔حیدرآباد موٹروے منصوبہ جس کی لاگت 170 ارب ہے بغیر فزیبلٹی کے دیا گیا تھا، ہم نے اس منصوبہ کو ترک نہیں کیا جس کیلئے فزیبلٹی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔








