وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو

اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان امن عمل کا واحد راستہ باہمی مزاکرات ہی ہیں اور بات چیت ہی کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے، پاکستان افغانستان میں امن کے لیے ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں باقی فیصلہ تو افغانیوں نے …

اسلام آباد ۔ 4 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان امن عمل کا واحد راستہ باہمی مزاکرات ہی ہیں اور بات چیت ہی کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے، پاکستان افغانستان میں امن کے لیے ایک سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ ہم افغانستان میں امن کے خواہاں ہیں باقی فیصلہ تو افغانیوں نے خود ہی کرنا ہے کیونکہ یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کرنے کا ہم سوچ بھی نہیں سکتے بلکہ ہم تو ان کے دوست ہیں، ان کے خیر خواہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ افغانستان کے امن و استحکام کے لیے معاملہ بات چیت کے ذریعے افہام و تفہیم سے حل ہو تاکہ خطہ بھی آگے بڑھے، افغانیوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہرگز ہمارا مطمئہ نظر نہیں ہے، ہم تو بس ان کی خیر خواہی اور بہتری چاہتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جمہوری ادوار میں احتجاج بھی ہوتے ہیں اور دھرنے بھی ہوتے ہیں، اس لیے حکومت کو کسی کے احتجاج یا دھرنے سے کوئی اعتراض نہیں، قانون کو ہاتھ میں لیے بغیر، عوام کی املاک کو نقصان پہنچائے بغیر، لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنائے بغیر پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے جس سے کسی کو نہیں روکا جا سکتا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لات سے حکومت گرانے کی بلاول کی خواہش ضرور ہو سکتی ہے لیکن لاتوں سے نہ تو حکومتیں آتی ہیں اور نہ ہی جاتی ہیں، حکومتیں آنے کا بھی ایک آئینی اور جمہوری طریقہ ہے اور حکومتوں کو رخصت کرنے کا بھی ایک آئینی طریقہ موجود ہے لیکن اگر اس کے علاوہ کوئی کوشش کرتا ہے تو وہ جمہوری سوچ اور جذبے کی نفی ہوتی ہے جس سے عدم استحکام پیدا ہوتا ہے اور غیر جمہوری قوتوں کو جمہوری حکومت کو ڈی ریل کرنے کا موقع ملتا ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سخت الفاظ کے استعمال یہ واضح کر رہے ہیں کہ وہ کسی دباﺅ میں ایسا کرنے پر مجبور ہیں اور ہم ان کی مجبوریوں کو بھی سمجھتے ہیں لیکن دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اراکین کے حوالے سے آئینی طریقہ کار کو فالو کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Leave a Reply