وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا ”پاکستان سمٹ” کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب

اسلام آباد ۔ 19 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ملکی تعمیر و ترقی، پائیدار امن اور انتہاء پسندی کے خاتمہ کیلئے نوجوانوں اور پسماندہ طبقہ کو قومی دھارے میں آگے لانا ہو گا اور انہیں کارآمد شہری بناناہو گا، پاکستان میں مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں اور ان سب کے حقوق کا تحفظ ریاست کی …

اسلام آباد ۔ 19 اپریل (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ملکی تعمیر و ترقی، پائیدار امن اور انتہاء پسندی کے خاتمہ کیلئے نوجوانوں اور پسماندہ طبقہ کو قومی دھارے میں آگے لانا ہو گا اور انہیں کارآمد شہری بناناہو گا، پاکستان میں مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں اور ان سب کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، تعلیم اور آگاہی کے ذریعے ثقافتی یکجہتی کو فروغ دیا جا سکتاہے، انسانی وسائل کی ترقی کیلئے نوجوانوں پر سرمایہ کاری بہت ضروری ہے، موجودہ حکومت تمام شہریوں کو بلاامتیاز حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہے اور اس ضمن میں اقدامات اٹھار رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں ”پاکستان سمٹ” کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک، سینیٹر انوارلحق کاکٹر، عندلیب عباسی، مشرف زیدی اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے سکالرز اور دیگر لوگ موجود تھے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ موجودہ دور میں پوری دنیا میں سیاست اور جنگ کے طریقے تبدیل ہو چکے، نائن الیون کے بعد دنیا میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئیں جبکہ ٹرمپ کی موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے دنیا کے امن کو خطرات لاحق ہیں، ہمیں محتاط ہو کر آگے بڑھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قوانین تو موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے، عورتوں، بچوں اور پسماندہ طبقہ کے ساتھ ناروا سلوک اور حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور بالخصوص جرائم کی روک تھام کیلئے بحیثیت مجموعی ہمیں معاشر ے کی سوچ تبدیل کرنا ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتہاء پسندی کے خاتمہ کیلئے نوجوانوں اور مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے پسماندہ طبقہ کو تنہا کرنے کی بجائے انہیں قومی دھارے میں آگے لانا ہو گا، اگر نوجوانوں کو کنارے لگایا گیا تو وہ انتہاء پسندی کی طرف جائیں گے اور اس سے امن کو خطرات لاحق ہو ں گے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ پاکستان میں کثیر ثقافت کے لوگ آباد ہیں ، کثیر ثقافت کے مسائل پوری دنیا میں ہوتے ہیں، ہمیں کثیر الاثقافت پر مبنی جمہوری اصولوں کو جاری رکھنا ہو گا اور یہ ریاست کا کام ہے کہ وہ ان مسائل کو حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں اور وہ اپنے حقوق و شناخت سے محروم ہیں جبکہ بھارت میں ہندو انتہاء پسند سوچ غالب ہے اور وہاں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق چائلڈ لیبر سروے کرا رہی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ڈیٹا بیس بھی تیار کر رہی ہے۔

مزید خبریں

Leave a Reply