اسلام آباد ۔ 20 اپریل (اے پی پی)وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زر تاج گل نے کہا ہے کہ قدرتی آفات سے بچاﺅ اور نقصانات میں کمی کیلئے مربوط اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے ، ارکان پارلیمنٹ عوام کے منتخب نمائندے ہونے کی حیثیت سے اس حوالے سے قانون سازی اور پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،حکومت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا …
وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زر تاج گل کا تقریب سے خطاب
اسلام آباد ۔ 20 اپریل (اے پی پی)وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زر تاج گل نے کہا ہے کہ قدرتی آفات سے بچاﺅ اور نقصانات میں کمی کیلئے مربوط اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے ، ارکان پارلیمنٹ عوام کے منتخب نمائندے ہونے کی حیثیت سے اس حوالے سے قانون سازی اور پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،حکومت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگا رہی ہے،صوبائی حکومت کے تعاون سے متاثرین کی مدد کیلئے تمام ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے)کے یو این ایف پی اے کے تعاون سے پارلیمانی نمائندوں کو آفات سے نمٹنے اور آفات کے خطرات کو کم کرنے کے حوالے سے اقدامات میں شامل کرنے کے لیے پارلیمانی کاکس کی تشکیل کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس پارٹنر شپ کا قیام وزارت موسمیاتی تبدیلی کے تعاون سے ہوا جس کی سربراہی زرتاج گل کر رہی ہیں، اس عمل کے لیے قومی اور صوبائی سطح کے 30 سے زائد پارلیمانی نمائندوں کومنتخب کیا گیا ہے جو ابتدائی طور پر دیگر اہم موضوعات کے ساتھ ساتھ آفات کے خطرات کو کم کرنے ، آفات سے نمٹنے کے نظام ، موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کے تدارک اور امدادی سرگرمیوں میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے حوالے سے بین الا قوامی سطح کے فریم ورکس اور اقدامات کی طرف توجہ دلانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ابتدائی دور میں اس پارٹنر شپ کے تحت”سب کو ساتھ لیکر چلیں”کے حکومتی ایجنڈے کے لیے بین الاقوامی فریم ورکس کے مطابق پالیسی سازی کے لیے اجلاس اور مذاکرات کیے جائیں گے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ2010ءکے مطابق ہر قسم کی آفات سے نمٹنے کی تیاری کے لیے این ڈی ایم اے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس سلسلے میں اداروں کو مضبوط اور آفات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رکھنے کے لیے اقدامات کر رہاہے، خصوصاً بچوں اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی این ڈی ایم اے کی ترجیحات میں شامل ہے۔ چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات نے تقریب کے آغاز میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی نمائندے اپنے اختیار ات کو استعمال کرتے ہوئے عوام مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے قانون سازی اور منصوبہ بندی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور ان پر عمل درآمد میں بھی مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام نمائندے خصوصاً اپنے اپنے حلقوں میں آفات سے نمٹنے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کرتے ہوئے بھی پاکستان کو آفات سے محفوظ بنا کر پائیدار ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔تقریب سے خطاب کر تے ہوئے وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہا کہ قدرتی آفات سے بچاﺅ سے متعلق پارلیمانی کاکس کا قیام اہم پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2012-13ءمیں جنوبی پنجاب میں سپر فلڈ آیا جبکہ اس وقت بھی ملک کے مختلف صوبوں میں سیلاب کا خطرہ درپیش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران متاثرین سکولوں ، کالجوں اور شیلٹرز میں پناہ لیتے ہیں، ان تک امدادی سامان کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کو اپنے اپنے پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی مفاد میں ہمارا ساتھ دینا ہوگا کیونکہ قانون سازی میں ان کا اہم کردار ہے اور وہ قدرتی آفات سے متاثر ہ اور پسے ہوئے طبقات کیلئے قانون سازی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زر تاج گل نے کہا کہ قدرتی آفات سے متعلق پارلیمانی کاکس 30 اراکین پر مشتمل ہوگی جس میں قوم اسمبلی ، سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کی نمائندگی ہوگی اور یہ عوامی نمائندے قدرتی آفات سے بچاﺅ سے متعلق قانون سازی میں اہم کردار ادا کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسانوں کو مون سون کی بارشوں سے متعلق آگاہی فراہم نہیں کی گئی ، قدرتی آفات کے بعد کے مسائل پر تبادلہ خیال سے نقصانات کو کم سے کم کرنے میں مدد ملے گی اس تناظر میں پالیسی سازی کی ضرورت ہے ۔ ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت زراعت پر مبنی معیشت ہے جو کے سیلاب سے متاثر ہوتی ہے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں موجود حکومت نے زرعی شعبے کی ترقی کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں ۔ وفاقی کابینہ میں تبدیلی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ اور عوام وزیر اعظم عمران خان کی قیادت وژن اور بہادری پر یقین رکھتے ہیں ، کابینہ کی اراکین کی تبدیلی وزیر اعظم کا اختیار ہے اور وہ جب مناسب سمجھیں گے تو وہ کابینہ کو تبدیل کرسکتے ہیں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور انکی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل عمر محمود حیات نے میڈیا کے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ قدرتی آفات کا شکار ممالک میں شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے متعلق پارلیمانی کاکس بنانے کا مقصد ایسا فورم تشکیل دینا ہے جو کہ قدرتی آفات کی صورت میں متاثرہ اور پسے ہوئے طبقات کے مسائل کے حل کیلئے لائحہ عمل تشکیل دے ۔ انہوں نے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ عوام کے منتخب نمائندے ہوتے ہیں اور وہ عوام کے مسائل زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں جبکہ قانون سازی میں بھی ان کا اہم کردار ہے ۔اس فورم سے وہ قدرتی آفات سے بچاﺅ سے متعلق قانون سازی میں وہ اہم کردار ادا کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات سے بچاﺅ سے متعلق قاٰنون سازی کا مقصد اقدامات کا تسلسل یقینی بنانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کی مدد سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔









