چاند سکڑ رہا ہے،اپنی پیدائش سے لے کر اب تک 50 میٹر تک سکڑ چکا،ناسا

واشنگٹن۔ 14 مئی (اے پی پی) سائنسدانوں کے مطابق چاند سکڑ رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی سطح پر جھریاں پڑ رہی ہیں،چاند اپنی پیدائش سے لے کر اب تک 50 میٹر تک سکڑ گیا ہے۔اس بات کا انکشاف سائنسی جریدے نیچر جیو سائنس کی اشاعت میں امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنسدانوں نے لونر ریکونائیسنس آربیٹر سے حاصل کردہ تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔انھوں …

واشنگٹن۔ 14 مئی (اے پی پی) سائنسدانوں کے مطابق چاند سکڑ رہا ہے جس کی وجہ سے اس کی سطح پر جھریاں پڑ رہی ہیں،چاند اپنی پیدائش سے لے کر اب تک 50 میٹر تک سکڑ گیا ہے۔اس بات کا انکشاف سائنسی جریدے نیچر جیو سائنس کی اشاعت میں امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنسدانوں نے لونر ریکونائیسنس آربیٹر سے حاصل کردہ تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ چاند کی سطح کی 12 ہزار سے زیادہ تصاویر کے مطالعے اورجائزہ لینے کے بعد اخذ ہوا ہے کہ چاند کی قطب شمالی کے قریب کی سطح(لونر بیسن مئر فریگورس) پر مسلسل دراڑیں پڑنے کا عمل جاری ہے۔چاند پر چونکہ زمین کی طرح کی ارضیاتی پرتیں (ٹیکٹانکس پلیٹس) نہیں پائی جاتی اس لئے وہاں ٹیکٹونک سرگرمیاں اس کی سطح کی اندرونی گرمائش (جو 4.5 ارب سال پہلے اس کے پیدائش کے وقت سے چلی آ رہی ہے)میں کمی سے مرتب ہوتی ہیں جس سے سطح پر جھریاں نما کریکس پڑتے ہیں بالکل ایسے جیسے رسدار انگور سوکھ کر کشمش میں تبدیل ہوجاتا ہے۔چاند کی اندرونی سطح سکڑنے (تھرسٹ فالٹس) سے اوپری سطح پر کریک نما جھریاں بنتی جا رہی ہیں اور نیچے ایک سطح دوسری پر چڑھ جاتی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق گزشتہ کئی سو کروڑوں برسوں میں چاند150فیٹ (50 میٹرز)تک سکڑ چکا ہے۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں اپالو مشن نے پہلی بار چاند پر زلزلہ پیمائی کی جس سے پتہ چلا کہ زلزلوںکا زور اندرونی سطحوں پر زیادہ اور باہر کم ہے۔

Leave a Reply