نیویارک ۔ 24 مئی (اے پی پی) پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے کشمیریوں کے خلاف ظلم و زیادتیوں پر دنیا بھر کی توجہ مبذول کراتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنے ایجنڈے پر طویل عرصہ سے موجود تنازعات کو حل کرے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ”مسلح تنازعات میں شہریوں کے حقوق …
ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں ”مسلح تنازعات میں شہریوں کے حقوق کے تحفظ“کے موضوع پر بحث کے دوران خطاب

مزید خبریں
نیویارک ۔ 24 مئی (اے پی پی) پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے کشمیریوں کے خلاف ظلم و زیادتیوں پر دنیا بھر کی توجہ مبذول کراتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیاکہ وہ اپنے ایجنڈے پر طویل عرصہ سے موجود تنازعات کو حل کرے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں ”مسلح تنازعات میں شہریوں کے حقوق کے تحفظ“کے موضوع پر ایک کھلی بحث کے دوران خطاب کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ بڑے پیمانے پر انسانی زندگیوں کی قیمت پر غیر ملکی جارحیت اور قبضے جیسے واقعات میں سلامتی کونسل کی جانب سے کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا جا رہا۔پاکستانی سفارتکار نے کہاکہ مقبوضہ جموں اور کشمیر میںقابض بھارتی فوج منظم طور پر بین الاقوامی انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی اور انسانی ڈھالوں کے طور پر شہریوں کا استعمال کرتے ہوئے بین القوامی انسانی حقوق اور قوانین کی دھجیاں بکھیر رہی ہے جن کو غیر معمولی طور نظر انداز کیا جا رہا ہے، اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو نہ صرف سیاہ قوانین کے تحت تحفظ دیا جاتا ہے بلکہ انہیں فوجی کمانڈ کی طرف سے اعزازات بھی دیئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1949 کے جینوا کنونشنز اور اضافی پروٹوکولز میں مسلح تنازعات میں قواعد و ضوابط کو واضح طور بیان کیا گیا ہے جو بین الاقوامی انسانی حقوق کی گہری بنیادیں تشکیل دیتے ہیں تاہم ان قوانین یا قواعد کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے اور عورتوں کو ظلم و بربادی برداشت کرنے کے لئے تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کوکہا کہ جب کسی تنازع کا وحشی دھاڑتا ہے قوانین خاموش ہو جاتے ہیں،آج ان تنازعات میں ٹارگٹ حملوں، جنسی تشدد، جبری سازش، تشدد، بے بنیاد قتل اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو جنگ کے اوزار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔اس تناظر میں پاکستانی سفیر نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ظلم و تشدد کے بطور آلہ استعمال اور ماورائے قوانین قتل کے بارے بھارتی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مرتب کردہ حالیہ ثبوتوں پر مبنی خصوصی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم کرنے والوں کی بریت اور شہریوں کو ٹارچر کرنے کے مختلف وحشیانہ طریقہ کار کا ذکر کرتے ہوئے سلامتی کونسل کی توجہ ان کی طرف دلائی۔انھوں نے کہا کہ سیکورٹی کونسل کو ایک بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لئے کام کرنے والے بنیادی ادارے کے طور فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت ابھرتے ہوئے دوسرے طویل عرصے سے حل طلب تنازعات کی جڑوں پر توجہ دیتے ہوئے ان کے جامع حل کی جانب توجہ دینی چاہیے لیکن بدقسمتی سے سیاسی مصلحتوں کے باعث قانونی اور اخلاقی اقدارکی قربانی دے دی جاتی ہے اوراس کے نتیجے میں، انہوں نے کہا کہ شہریوں جن کو مکمل تحفظ دینا چاہیئے وہ حملوںکا بین نشانہ بن جاتے ہیں۔سفیر ملیحہ لودھی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے امن عمل کے لئے، شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دی جانی چاہیئے۔ انھوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے ساتھ امن کی بحالی میں دنیا میں مصروف کار افواج میں پاکستانی فوجی اعلی تربیت یافتہ اور ماہر امن فوجی ہیں شہریوں کی حفاظت کرتے ہیں، انہیں ضروری طبی خدمات فراہم کرتے ہیںاور کمیونٹیز کو بحال کرتے ہیں۔ آخر میں سفیر لودھی نے بین الاقوامی کنونشنز برائے انسانی حقوق پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا کیونکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ جنگ کے عین درمیان میں بھی انسانوں کا وقار مجروع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے مزید بتایا کہ شہریوں کی حفاظت کا مقصد پہلے اس جگہ میں مسلح تنازعے کی روک تھام ہونا چاہیے۔








