اسلام آباد ۔ 09 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک کو کرپشن کے ذریعے برباد کرنے والوں کا احتساب جاری رہے گا' ملک کو لوٹنے والے جمہوریت ' جمہوری اداروں اور پارلیمنٹ کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں' جب ان لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے تو ان کو انسانی حقوق یاد آجاتے ہیں' انہوں نے اپنے دور میں …
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے نکتہ اعتراض کا جواب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 09 اگست (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک کو کرپشن کے ذریعے برباد کرنے والوں کا احتساب جاری رہے گا’ ملک کو لوٹنے والے جمہوریت ‘ جمہوری اداروں اور پارلیمنٹ کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں’ جب ان لوگوں کو گرفتار کیا جاتا ہے تو ان کو انسانی حقوق یاد آجاتے ہیں’ انہوں نے اپنے دور میں 2 ہزار سے زائد لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیا’ ماڈل ٹائون میں سیدھی گولیاں چلائیں’ اس وقت بھی انہیں انسانی حقوق کا خیال کرنا چاہیے تھا۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے نکتہ اعتراض کے جواب میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ قائد حزب اختلاف نے درد بھرے لہجے میں بات کی اب اپوزیشن کو ہماری بات سننے کی طاقت پیدا کرنی چاہیے۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جب ان کے لئے منی لانڈرنگ ہو رہی تھی اور 26 ملین کی ٹی ٹیاں لگ رہی تھیں۔ اس وقت یہ کہاں تھے۔ نواز شریف قوم کو یہ نہیں بتا سکے کہ لندن کے چار فلیٹس کہاں سے آئے۔ یہ قوم کو لوٹ کر کھا گئے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے اور باقی لوگوں کے لئے پیمانے مختلف ہوں۔ یہ لوٹ مار کریں اور قوم کو کھا جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جندال ان کے ساتھ کاروباری معاملات طے کرنے آیا تھا۔ مودی ان کے گھر جاتی امراء آیا۔ اس وقت کشمیر ان کو یاد نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری شوگر ملز کے اندر مریم نواز کے لئے جو ٹی ٹیاں لگی ہیں اس کا حساب دیں۔ یہ سیاست’ جمہوریت اور پارلیمنٹ کو اپنے لئے ڈھال بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں 2176 لوگوں کو ماورائے عدالت قتل کیا۔ ماڈل ٹائون میں انہوں نے لوگوں کو سیدھی گولیاں ماریں۔ اس وقت انسانی حقوق انہیں یاد نہیں تھے۔ ایک امیر آدمی کی بیٹی کو کرپشن میں گرفتار کیا گیا تو انہیں انسانی حقوق یاد آگیا۔ یہ چاہتے ہیں غریب کے لئے قانون مختلف اور ان کے لئے مختلف ہو۔ انہوں نے رشوت’ پلاٹوں کی تقسیم’ سرکاری وسائل کے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال سے اپنی سیاست کا آغاز کیا۔ انہوں نے چھانگا مانگا متعارف کرایا۔ بنکوں سے قرضے واپس لے کر واپس نہیں کئے۔ صحافت میں لفافے کا کلچر انہوں نے متعارف کرایا۔ انہوں نے آٹھ ارب روپے جعلی اخباروں میں گزشتہ دس سال میں تقسیم کئے۔ انہوں نے ملک کو لوٹا اس لئے نیب انہیں پکڑ رہا ہے۔ اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کے لئے جمہوری اداروں کو استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی لوٹ مار کا حساب ہوگا اور یہ حساب انہیں دینا ہوگا۔








