اسلام آباد ۔ 9 اگست (اے پی پی) حکومت آزاد جموں و کشمیر کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے 5 اگست2019ء کو دفعہ 370 ختم کرکے کشمیری تشخص کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے، ریاست کی وحدت کو تقسیم کرکے کشمیریوں کی توہین کی گئی ہے۔ بھارت کے …
حکومت آزاد جموں و کشمیر کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 9 اگست (اے پی پی) حکومت آزاد جموں و کشمیر کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے 5 اگست2019ء کو دفعہ 370 ختم کرکے کشمیری تشخص کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے، ریاست کی وحدت کو تقسیم کرکے کشمیریوں کی توہین کی گئی ہے۔ بھارت کے ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو فوجی چھاﺅنی میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس کا رابطہ بیرونی دنیا سے منقطع ہے۔ بھارت ریاستی دہشتگردی کے ذریعے حریت قائدین ، کارکنان حتیٰ کہ سرکاری ملازمین تک کو دہشتگردقرار دیکر شہید اور لاپتہ کررہا ہے۔ بھارتی اقدام کی وجہ سے ریاست میں ایک عظیم انسانی المیہ رونما ہو سکتا ہے۔ کشمیری اپنے حق خودارادیت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ پاکستان شملہ معاہدے سمیت بھارت کے ساتھ تمام دو طرفہ معاہدوں سے دستبرداری کا اعلان کرے۔ اقوام متحدہ اور موثر بین الاقوامی اداروں کو متحرک کرنے کےلئے جارحانہ سفارتی مہم کا اہتمام کرے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام سے یکجہتی کےلئے سیز فائر لائن کی طرف بڑا مارچ کریں گے۔ لندن، برسلز، نیویارک اور واشنگٹن سمیت اہم دارالحکومتوں میں احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا جائے۔ پاکستان کے جو وفود مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کےلئے جائیں ان میں آزاد کشمیر اور حریت قائدین کی نمائندگی ہو نی چاہیے۔ 14 اگست کو پاکستان اور آزادکشمیر میں ہر گھر پر پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ آزادکشمیر کا جھنڈ ا بھی لہرایا جائے۔ کانفرنس ریاست کی بند ر بانٹ کے کسی بھی فارمولے کو مسترد کر تی ہے۔








