ویٹرنزآف پاکستان کے اجلاس میں سابق عسکری ماہرین کا اظہار خیال

اسلام آباد ۔ 10 اگست (اے پی پی)سابق فوجیوں کی تنظیم ویٹرنزآف پاکستان (سابقہ پیسا) نے بھارت کی جانب سے ریاست جموں و کشمیرکے مقبوضہ حصے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت کا غیر قانونی عمل قرار دیا ہے، جموں کشمیرکو سپیشل سٹیٹس اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے دیا تھا اور بھارت یکطرفہ طور پر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا کیونکہ اس …

اسلام آباد ۔ 10 اگست (اے پی پی)سابق فوجیوں کی تنظیم ویٹرنزآف پاکستان (سابقہ پیسا) نے بھارت کی جانب سے ریاست جموں و کشمیرکے مقبوضہ حصے کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت کا غیر قانونی عمل قرار دیا ہے، جموں کشمیرکو سپیشل سٹیٹس اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے دیا تھا اور بھارت یکطرفہ طور پر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا کیونکہ اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ویٹرنز آف پاکستان کے ایک ہنگامی اجلاس کے دوران سابق عسکری ماہرین نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کرائے اور دیگر متعلقہ فورمز پر بھی بھرپور آواز بلند کرے۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل370 کا حوالہ دینا بھی غلط ہے کیونکہ جموں کشمیر متنازعہ علاقہ ہے جس پربھارتی آئین لاگو نہیں ہوتا اور اگر ہم کشمیر کے تناظر میں بھارتی آئین کا حوالہ دیں گے تو یہ جموں کشمیر پر بھارت کے قبضے کو جائز ماننے کے مترادف ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی جانب سے ریاست کو متنازعہ قرار دیے جانے کے بعد آزاد کشمیر میں انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں چوہدری غلام عباس پہلے صدر اور سردار ابراہیم پہلے وزیر اعظم منتخب ہوئے، بھارت کی جانب سے تنازعہ کی نوعیت تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف وزری ہے ۔انھوں نے اپیل کی کہ حکومت بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کا حوالہ دیے بغیر اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی توجہ بھارتی جارحیت کی طرف مبذول کرائے۔