پرائم منسٹر نیشنل ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام ایک بریک تھرو ثابت ہو گا

اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) موجودہ حکومت نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ایک سال کے دوران زرعی شعبہ کی ترقی اور بہتری کیلئے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں، بنیادی سطح پر زرعی شعبہ میں بہتری لانے، کاشتکاروں کی فلاح و بہبود، غربت کے خاتمہ کیلئے شہریوں کو زراعت سے فوائد حاصل کرنے کیلئے مختلف مراعات دی گئیں، فی ایکڑ پیداوار اور لائیو سٹاک کے شعبہ کی …

اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) موجودہ حکومت نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ایک سال کے دوران زرعی شعبہ کی ترقی اور بہتری کیلئے انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں، بنیادی سطح پر زرعی شعبہ میں بہتری لانے، کاشتکاروں کی فلاح و بہبود، غربت کے خاتمہ کیلئے شہریوں کو زراعت سے فوائد حاصل کرنے کیلئے مختلف مراعات دی گئیں، فی ایکڑ پیداوار اور لائیو سٹاک کے شعبہ کی ترقی سمیت زراعت کے 13 منصوبوں کیلئے 309 ارب روپے کے پرائم منسٹر نیشنل ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام شروع کیا گیا، تصدیق شدہ معیاری بیج کی فراہمی کیلئے سیڈ کونسل کو فعال کرنا، زرعی مداخل، کھاد، بیج، کیڑے مار ادویات اور پانی کی فراہمی کیلئے مؤثر حکمت عملی اپنائی گئی، تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے صوبائی سطح پر تمام زرعی محکموں کے ساتھ روابط کو بڑھانے کی حکمت عملی کو بڑھایا گیا، غربت میں کمی لانے اور غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی کے حوالہ سے شہریوں کو دیسی مرغیاں پالنے کیلئے پروگرام شروع کیا گیا، ایگرو فوڈ اور ایگرو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پروگرام کا باقاعدہ آغاز اور فوڈ سیکیورٹی اینڈ نیوٹریشن انفارمیشن لیب کا افتتاح کیا گیا۔ وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کے ذرائع نے بتایا کہ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد زرعی شعبہ ترقی اور بہتری کیلئے مؤثر اور منظم اقدامات اٹھائے گئے۔ وزیراعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی زراعت کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اس شعبہ کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر اقتدار سنبھالتے ہی اس شعبہ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہوئے مؤثر حکمت عملی اپنائی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے سال کے دوران ہی زرعی شعبہ کی ترقی اور بہتری کیلئے حکومت نے 309 ارب روپے کا پرائم منسٹر نیشنل ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام شروع کیا گیا جس کے تحت بڑی فصلوں گندم، چاول، گنے اور خوردنی بیجوں کی پیداوار میں اضافہ کیلئے 44.8 ارب روپے دیئے جائیں گے جس میں صوبوں کا شیئر 8.8 ارب روپے ہو گا، ان چار بڑی فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے بالترتیب 19.3، 14.4، 3.9 اور 4.2 ارب روپے وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔ زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر 220 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے جس میں صوبوں کا حصہ 71.4 ارب ہو گا۔ پانی کے ذخائر میں اضافہ کیلئے اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر پر مؤثر حکمت عملی کے تحت کام کیا جائے گا۔ مچھلیوں کی پیداوار میں اضافہ اور اسے جدید فارمنگ کے طریقوں کو اختیار کرنے کیلئے 13.9 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے جس میں صوبوں کا شیئر 3.7 ارب روپے ہو گا۔ مختلف قسم کی مچھلیوں کی پیداوار میں اضافہ اور جدید فارمنگ کے قیام کیلئے تین پراجیکٹ شروع کئے گئے۔ لائیو سٹاک کے شعبہ میں اضافہ اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کی ترقی کیلئے 6.38 ارب روپے وفاقی سطح پر جبکہ 1.7 ارب روپے صوبائی سطح پر خرچ کئے جائیں گے۔