گزشتہ ایک سال میں آبی وسائل کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کے لئے جامع حکومتی اقدامات

اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) حکومت نے ایک سال میں آبی وسائل کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کے لئے جامع اقدامات کئے ہیں،مہمند ڈیم ، داسو پن بجلی منصوبے ، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور ملک کے مختلف علاقوں میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لئے عملی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ تربیلا ڈیم چوتھے توسیع منصوبے کے بعد اب تربیلا پانچویں …

اسلام آباد ۔ 20 اگست (اے پی پی) حکومت نے ایک سال میں آبی وسائل کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کے لئے جامع اقدامات کئے ہیں،مہمند ڈیم ، داسو پن بجلی منصوبے ، نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور ملک کے مختلف علاقوں میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لئے عملی پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ تربیلا ڈیم چوتھے توسیع منصوبے کے بعد اب تربیلا پانچویں توسیع منصوبے کو مکمل کیا جائے گا۔پی ایس ڈی پی میں نئے آبی وسائل کی نئی اور جاری اسکیموں کے لئے وافر فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔وزارت آبی وسائل کے ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت نے ملک میں چھوٹے اور بڑے ڈیموں کی تعمیر کے لئے عملی طور پر کام کا آغاز کیا ہے ، مہمند ڈیم منصوبے کو شروع کرنے کا کریڈٹ بھی موجودہ حکومت کو جاتا ہے۔مہمند ڈیم پن بجلی منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے اور منصوبہ 2024 ء تک مکمل ہو جائے گا۔ پی سی ون کے تحت اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 291 ارب روپے ہے اور اس کی تکمیل پر پانچ سال لگیں گے۔ منصوبے کے لیے واپڈا67 فیصد فنڈز فراہم کرے گا جبکہ باقی رقم وفاقی حکومت ادا کرے گی۔ مہمند ڈیم کی تکمیل سے علاقے میں 12 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی کو سیراب کیا جاسکے گا جبکہ اس سے 800 میگاواٹ سستی بجلی پیدا ہوگی۔ اس منصوبے کی تکمیل سے پشاور، چارسدہ اور نوشہرہ میں سیلاب کے خطرے کو بھی کم کرنے میں مدد ملے گی۔ مہمند ڈیم منصوبہ تربیلا اور منگلا کے بعد ملک میں پن بجلی کی پیداوار کا تیسرا بڑا منصوبہ ہے جسے بروقت مکمل کرنے کے لیے حکومت نے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔ اس منصوبے کی تکمیل سے ملک میں توانائی کی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی اور سستی بجلی کا حصول ممکن بنایا جاسکے گا۔وزیر اعظم نے صوبہ سندھ میں دریائے سندھ پر سمندر سے 45کلومیٹر بالائی جانب سندھ بیراج /ویئر تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے۔ سندھ بیراج /ویئر کی تعمیر سے پانی کا ذخیرہ وجود میں آئے گا۔ مذکورہ بیراج /ویئر تعمیر کرنے کی منظوری صوبہ سندھ میں آبی وسائل کے فروغ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے، کیونکہ اس منصوبے کی تعمیر سے کوٹری بیراج کے زیریں علاقوں میں پانی کے مسائل حل کرنے اور کراچی کو پینے کے پانی کی اضافی فراہمی میں مدد ملے گی۔ صوبہ سندھ میں ڈاؤن سٹریم کوٹری پانی سے متعلق دیرینہ مسائل اور کراچی میں پانی کی قلت کے پس منظر میں سندھ بیراج کامجوزہ منصوبہ واپڈا کی جانب سے تشکیل دیا گیا ہے۔سندھ بیراج کا مجوزہ منصوبہ تیزتر تکمیل کی بنیاد پر دسمبر2024ء تک مکمل کیا جائے گا۔ اگلے ماہ واپڈا منصوبہ کی فزیبلیٹی سٹڈی پر کام شروع کردے گا۔ رواں سال دسمبر تک بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی جانب سے فزیبلیٹی سٹڈی کا جائزہ مکمل کیا جائے گا جبکہ دسمبر 2021تک منصوبے کا تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن تیار کر لیا جائے گا۔فزیبلٹی سٹڈی اور تفصیلی انجینئرنگ ڈیزائن مکمل ہونے کے بعد سندھ بیراج پر تعمیراتی کام کا آغاز جنوری 2022ء میں ہوگا جبکہ اس کی تکمیل دسمبر 2024ء تک متوقع ہے۔سندھ بیراج ٹھٹھہ سے 65کلومیٹر جنوب جبکہ کراچی سے 130کلومیٹر مشرق میں تعمیر کیا جائے گا۔موجودہ حکومت کے دور میں ملک میں پہلی مرتبہ پن بجلی کی پیداوار8 ہزار میگاواٹ سے بھی تجاوز کرگئی۔