راولپنڈی۔ 4 ستمبر (اے پی پی) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کشمیر پر کوئی سودے بازی ہوئی نہ ہونے دیں گے، کشمیر ہماری شہ رگ ہے، کشمیر کیلئے آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری حد تک جائیں گے، ہمارے پاس بھرپور صلاحیت موجود ہے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل یا بعد کی پالیسی نہیں تاہم اگر بھارت پہلے استعمال کرتا ہے تو …
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
راولپنڈی۔ 4 ستمبر (اے پی پی) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کشمیر پر کوئی سودے بازی ہوئی نہ ہونے دیں گے، کشمیر ہماری شہ رگ ہے، کشمیر کیلئے آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری حد تک جائیں گے، ہمارے پاس بھرپور صلاحیت موجود ہے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل یا بعد کی پالیسی نہیں تاہم اگر بھارت پہلے استعمال کرتا ہے تو یاد رکھے کہ پہلے کے بعد دوسرا بھی آتا ہے،کسی بھی ملک کی افواج اس کی خودمختاری اور سلامتی کی محافظ ہوتی ہیں، اگر قومی طاقت کے دوسرے عناصر مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کو روکنے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوتے تو جنگ لڑنا ایک آپشن بن جاتا ہے اور پھر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا، جنگیںہتھیاروں یا معیشت سے نہیں بلکہ عزت ،غیرت، حب الوطنی ، جذبے اور عوام کے اعتماد کے ساتھ لڑی جاتی ہیں،بھارت کو 27فروری یاد رہنا چاہیے ،پاک فو ج کے حسن اور نعمان جیسے بہادر جوان تیار بیٹھے ہیں ،اسامہ بن لادن کو ٹریس کرنے کی پہلی کال پاکستان نے ٹریس کی اور انٹیلی جنس شیئرنگ میں امریکہ کو بتائی تھی۔ وہ بدھ کو آئی ایس پی آر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم جس خطے میں رہتے ہیں ہمیں وہاں کے حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے، عالمی طاقتوں کے مفادات اس خطے سے وابستہ ہیں اور پاکستان کو نظرانداز کر کے عالمی طاقتوں کے مفادات پورے نہیں ہو سکتے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے لیکن بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں تیز کر دی ہیں۔ کشمیریوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور بھارت کے اپوزیشن رہنما کو مقبوضہ کشمیر بھی جانے سے روک دیا گیا، بھارت چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی ڈیموگرافی ایسی بدلی جائے کہ مسلمانوں کا وہاں رہنا مشکل ہو جائے۔انہوں نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ایک نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے،ہمارے مشرق میں ایک بڑی آبادی والا ملک بھارت ہے، بھارت میں ہٹلر کے پیروکار مودی کی حکومت ہے جہاں مسلم اور سکھوں سمیت تمام اقلیتیں انتہاپسندی کی سوچ کی شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنی پہلی تقریر میں بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی لیکن پاکستان کی مذاکرات کی مخلصانہ پیشکش کے جواب میں بھارت نے جہاز بھیجے، بھارت کے بھیجے گئے جہاز کا کیا حال ہوا وہ سب آپ کے سامنے ہے،بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی ہو سکتی ہے لیکن بھارت کو 27 فروری کی حرکت یاد رکھنی چاہیے، بھارت نے کوئی حرکت دہرائی تو اسکوارڈن لیڈر حسن اور نعمان موجود ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دو نیوکلیئر طاقتوں کے درمیان جنگ کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن مقبوضہ کشمیر میں جو بھارت نے کیا ہے وہ ایک نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے، جنگیں صرف ہتھیاروں اور معیشت سے نہیں لڑی جاتیں۔








