اسلام آباد ۔ 4 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ شفافیت اور گڈ گورننس یقینی بنانے کے لئے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کا معاملہ سپریم کورٹ کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، حکومت اپنے ہر فیصلے میں قانون، عوامی مفاد اور شفافیت کو مدنظر رکھے گی، نان ٹیکس ریونیو میں 800 ارب روپے کا …
مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا وفاقی وزراءحماد اظہر، خسرو بختیار، عمر ایوب، مشیر تجارت عبدالرزاق داﺅد اور معاون خصوصی ندیم بابر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 4 ستمبر (اے پی پی) وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ شفافیت اور گڈ گورننس یقینی بنانے کے لئے گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس (جی آئی ڈی سی) کا معاملہ سپریم کورٹ کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، حکومت اپنے ہر فیصلے میں قانون، عوامی مفاد اور شفافیت کو مدنظر رکھے گی، نان ٹیکس ریونیو میں 800 ارب روپے کا اضافہ متوقع ہے، حکومتی اقدامات سے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو پہنچایا گیا ہے، برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کی بدولت پہلی مرتبہ تجارتی خسارہ میں کمی ہوئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر، وزیر منصوبہ بندی و ترقی خسرو بختیار، وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داﺅد، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، سیکرٹری خزانہ نوید کامران بلوچ، چیئرمین ایف بی آر سیّد شبر زیدی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالنے کے بعد ابتر معیشت ورثے میں ملی تاہم وزیراعظم کی معاشی ٹیم اقتصادی صورتحال کی بہتری کے لئے کوشاں ہے، درآمدات اور کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں کمی کی گئی، برآمدات میں اضافے کے لئے موثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال برآمدات میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ عسکری اخراجات منجمد کئے گئے، قبائلی اضلاع کی ترقی کے لئے 150 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ بجٹ میں کمزور طبقات کے لئے خصوصی مراعات دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال درآمدات ساڑھے پانچ ارب ڈالر تھیں اور رواں سال ساڑھے چار ارب ڈالر رہیں، ٹیکس وصولیاں اہداف کے مقابلے میں 90 فیصد کی سطح پر پہنچ چکی ہیں جبکہ ٹیکس دہندگان کی تعداد میں 27 فیصد اضافے کے ساتھ یہ تعداد 25 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔








