اسلام آباد ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں 5 اگست سے جاری کرفیو نے علاقہ میں معمولات زندگی کو مفلوج بنا رکھا ہے، 54 دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں خوراک اور ادویات میسر ہیں اور نہ ہی بچوں کو سکول جانے کی اجازت ہے، مقبوضہ وادی میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی نے لاکھوں بچوں سے ان …
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں 5 اگست سے جاری کرفیو نے علاقہ میں معمولات زندگی کو مفلوج بنا رکھا ہے، 54 دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں خوراک اور ادویات میسر ہیں اور نہ ہی بچوں کو سکول جانے کی اجازت ہے، مقبوضہ وادی میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی نے لاکھوں بچوں سے ان کے والدین چھین لئے ہیں، وہ دن دور نہیں جب کشمیر میں ظلم کی سیاہ رات کا خاتمہ ہو گا اور کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو منائے جانے والے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پیغام میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے 5 اگست کے غیر قانونی و غیر آئینی اقدام کے بعد بھارتی افواج نے مقبوضہ وادی میں ظلم و بربریت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ کشمیری قیادت سمیت ہزاروں افراد کو غیر قانونی طور پر پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بچے کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو بند کرانے کےلئے عالمی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں، کشمیری بچے آج دنیا سے یہ سوال پوچھے رہے ہیں کہ انہیں جینے کا حق کب ملے گا، یہ آگ اور خون کا کھیل کب بند ہو گا، کشمیر کی آزادی کے دنیا کے وعدے کب پورے ہوں گے، ان کے بچھڑے ہوئے والدین کب واپس آئیں گے، انہیں سکول جانے اور گھر سے باہر نکلنے کی اجازت کب ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کشمیری بچوں کو خوراک، ادویات اور علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کےلئے اقدامات کرے، کشمیری بچوں کو سکول جانے کے مواقع فراہم کرنے کےلئے عالمی برادری کو خصوصی توجہ دینے کی ضروت ہے۔








