وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کا فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں تقریب سے خطاب

فےصل آباد 27 ستمبر ( اے پی پی ) : ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے حکومت وسیع پیمانے پر شجرکاری کے علاوہ پلاسٹک بیگ کے استعمال کو بھی بتدریج ختم کر رہی ہے تاہم صنعتکاروں کو اس کے متبادل کیلئے نئی جدید اور ماحول دوست ٹیکنالوجی متعارف کرانا ہو گی۔ یہ بات موسمیاتی تبدیلی کی وزیر مملکت زرتاج گل نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک تقریب …

فےصل آباد 27 ستمبر ( اے پی پی ) : ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے حکومت وسیع پیمانے پر شجرکاری کے علاوہ پلاسٹک بیگ کے استعمال کو بھی بتدریج ختم کر رہی ہے تاہم صنعتکاروں کو اس کے متبادل کیلئے نئی جدید اور ماحول دوست ٹیکنالوجی متعارف کرانا ہو گی۔ یہ بات موسمیاتی تبدیلی کی وزیر مملکت زرتاج گل نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی بہت وسیع اور عالمی مضمون ہے تاہم اس کی اہمیت کے پیش نظر 18ویں ترمیم کے تحت ماحولیات کا شعبہ صوبوں کو ملنے کے باوجود صوبے اس حوالے سے وفاق کو جوابدہ ہیں۔ عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی درجہ حرارت کو بڑھانے میں پاکستان کا کوئی حصہ نہیں ۔ اس کے باوجود بڑے ترقی یافتہ اور بعض سپر پاورز کی وجہ سے پھیلنے والی آلودگی کی سزا ترقی پذیر ملکوں کو بھگتنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈینجر زون کے حوالے سے پاکستان ساتویں نمبر پر ہے۔ یہاں زلزلوں اور سیلاب کے علاوہ کراچی میں گرمی سے اموات باعث تشویش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے مگر درجہ حرارت میں اضافہ سے کپاس سمیت دیگر اجناس کی پیداوار میں کمی آرہی ہے۔ محترمہ زرتاج گل نے کہا کہ پاکستان میں ستر فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں۔ ماحولیات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ یہ نیا مضمون ہے میری وزارت نے اب حقیقی معنوں میں کام کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ پچھلے ستر سالوں میں ماحولیات کے حوالے سے کوئی سروے ہی نہیں ہوا۔