نیویارک ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عالمی سیاست اور سفارت کی توجہ معاشی ترقی کی طرف منتقل ہوچکی ہے۔ خطے میں معاشی خوشحالی کے مواقع ہماری دہلیز پردستک دے رہے ہیں جنہیں اپنی معیشت کو پروان چڑھانے اور ان کے بھرپور ثمرات آئندہ نسلوں کے لئے ہمیں موثر انداز میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔تجارت کو جدید شکل میں …
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ای سی اوکی وزارتی کونسل کے غیررسمی اجلاس سے خطاب

مزید خبریں
نیویارک ۔ 27 ستمبر (اے پی پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عالمی سیاست اور سفارت کی توجہ معاشی ترقی کی طرف منتقل ہوچکی ہے۔ خطے میں معاشی خوشحالی کے مواقع ہماری دہلیز پردستک دے رہے ہیں جنہیں اپنی معیشت کو پروان چڑھانے اور ان کے بھرپور ثمرات آئندہ نسلوں کے لئے ہمیں موثر انداز میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔تجارت کو جدید شکل میں استوار کرنے کے لئے ’ای سی او‘ تجارتی معاہدہ (ایکوٹا) تنظیم کا ایک بڑا اقدام ہے۔یہ باتیں انہوں نے جمعہ کو اقوام متحدہ سکریٹریٹ نیویارک میں جنرل اسمبلی کے چوہترویں اجلاس کے موقع پر معاشی تعاون تنظیم (ای سی او)کی وزارتی کونسل کے غیررسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔انہوں نے کہا کہ اس حقیقت سے انکارممکن نہیں کہ عالمی سیاست اور سفارت کی توجہ معاشی ترقی کی طرف منتقل ہوچکی ہے۔ ہمارے خطے میں معاشی خوشحالی کے مواقع ہماری دہلیز پردستک دے رہے ہیں جنہیں اپنی معیشت پروان چڑھانے اور ان کے بھرپور ثمرات آنے والی نسلوں کے معاشی مستقل کو روشن بنانے کے لئے ہمیں موثر انداز میں بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔اسلام آباد میں منعقدہ تیرھویں ’ای سی او‘ اجلاس میں منظور کردہ ”ای سی او وژن 2025 “ اہم اور کلیدی دستاویز ہے۔تجارت کو جدید شکل میں استوار کرنے کے لئے ’ای سی او‘ تجارتی معاہدہ (ایکوٹا) تنظیم کا ایک بڑا اقدام ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں یورپی یونین اور آسیان جیسے دیگر علاقائی گروپوں کی کامیابیوں سے سیکھنا ہوگا اور معاشی طورپر زیادہ قابل عمل اور ای سی او مارکیٹ کویکجا بنانے کے پہلوو¿ں پر بطور خاص توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ فریم ورک ایگریمنٹ (ٹی ٹی ایف اے) میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ اس کے ذریعے خطے میں بلارکاوٹ اشیاءکی نقل وحرکت اور خدمات کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔








